ترکی کے عزائم موصل کی جنگ کو پیچیدہ کر دیں گے؟

عراقی رہنما

،تصویر کا ذریعہInpho

،تصویر کا کیپشنفریقین نے موصل کی جنگ کے مستقبل اور اس کے عراق پر پڑنے والے اثرو رسوخ اور شمالی عراق کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں
    • مصنف, جوناتھن مارکس
    • عہدہ, سفارتی امور نامہ نگار

عراقی افواج کی جانب سے موصل کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے آزاد کروانے کے لیے کارروائی جاری ہے، تاہم شیعہ اکثریتی عراقی حکومت اور ترکی نے اس حوالے سے نئی فالٹ لائنز کو کھولنے کی دھمکی دی ہے جس سے یہ آپریشن مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

فریقین نے موصل کی جنگ کے مستقبل اور عراق پر اس کے اثرات اور شمالی عراق کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

موصل آپریشن کے آغاز ہی سے ترکی نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں خواہش ظاہر کرنا شروع کر دی ہے۔

عراقی حکومت نے ترکی کی ان کوششوں کی مخالفت کی ہے جبکہ امریکہ بھی سفارتکاری کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے تحفظات موصل آپریشن کو متاثر نہ کریں۔

امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعراقی حکومت نے ترکی کی ان کوششوں کی مخالفت کی ہے جب کہ امریکہ بھی ڈپلومیسی کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے تحفظات موصل آپریشن کو متاثر نہ کریں

امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے عراق کے حالیہ دورے کے دوران اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ 'عراقی خود مختاری کا پورا پورا احترام کیا جائے گا۔' یہ پیغام واضح طور پر ترکوں کو دیا گیا تھا۔

ترکی کی عراق میں دلچسپی بہت پیچیدہ ہے۔ یہ دلچسپی اسٹریٹجک خدشات، اندرونی سیاست، اور عثمانی دور کی پرانی یادوں کا ایک مرکب ہے۔

عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے عروج نے اسے اور کمزور کر دیا ہے اور اس نے شامی حکومت کی عملداری کو بھی محدود کر دیا ہے۔

عراق میں نسلی، مذہبی اور فرقہ ورانہ گروہوں کا ایک ملغوبہ اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کی تلاش میں ہے اور ان گروہوں میں کرد سب سے نمایاں ہیں۔

لیکن یہ صرف اندرونی شامی اور عراقی دھڑوں ہی نہیں جو اس کے کھلاڑی ہیں۔

عراق میں طاقتور علاقائی ممالک جیسے کہ ایران اور ترکی بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کا شوق رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر ترکی نے اپنی افواج کو شمالی شام میں متحرک کر دیا ہے۔

عراق میں جاری لڑائی جب ترکی کی سرحد کے قریب پہنچے گی تو انقرہ حکومت اس ملک میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے بے چین بھی ہو گی۔

ترک صدر رجب طیب اردوگان

،تصویر کا ذریعہEmpics

،تصویر کا کیپشنانقرہ کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی جو دہائیوں سے ترکی کے اندر شورش کرتی آئی ہے وہ شمالی عراق میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت نہ دے پائے

انقرہ کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی جو دہائیوں سے ترکی کے اندر شورش کرتی آئی ہے وہ شمالی عراق میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت نہ دے پائے۔

ترکی کی حکومت عراق میں ایرانی اثرو رسوخ کو بھی محدود کرنا چاہتی ہے جب کہ تہران کے عراق کی شیعہ اکثریتی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

ترکی شمالی عراق میں خود کو سنی عربوں اور ترکمان اقلیت کے لیے ایک محافظ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موصل مہم میں شعیہ ملیشیا کو شامل کرنے کا مخالف ہے۔

لیکن یہاں تاریخ کا ایک اچھا معاہدہ بھی ہے جس کی واضح جھلک ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان کی بڑھتی ہوئی بیان بازی میں بھی دکھائی دیتی ہے۔

رجب طیب اردوگان نے برسا میں 22 اکتوبر کو پہلی جنگ عظیم کے فوری بعد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہم نے رضا کا رانہ طور پر اپنے ملک کی سرحدوں کو تسلیم نہیں کیا۔'

ان کا کہنا تھا 'جدید ترکی کی سب سے بڑی غلطی اپنے ثقافتی رابطوں کی کمزوری تھی۔'

ترک صدر کا کہنا تھا کہا کہ 'لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ترکی کا عراق، شام اور بوسنیا میں کیا کردار ہے لیکن یہ جغرافیائی علاقے ہماری روح کا حصہ ہیں۔'

عراق مظاہرے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعراق کے وزیر اعظم حیدر العبدی نے گذشتہ ہفتے ملک میں ترکی کی مکمنہ محاذ آرائی میں ملوث ہونے کے حوالے سے اسے متبنہ کیا تھا

ترکی کا میڈیا ملک کے پھیلتے ہوئے افق کی خوب تشہیر کر ہا ہے۔

ترک افواج اب موصل آپریشن میں حصہ نہیں لے رہی ہیں۔

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبدی نے گذشتہ ہفتے ملک میں ترکی کی مکمنہ محاذ آرائی میں ملوث ہونے کے حوالے سے اسے متبنہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا 'ہم ترکی کے لیے تیار ہیں، یہ صرف دھمکی یا وارننگ نہیں ہے، یہ عراق کے وقار کا سوال بھی ہے۔'

تاہم ترکی کا موصل کے شمال مشرقی علاقے بشقیہ میں ایک فوجی اڈا موجود ہے جو بغداد کے لیے مسلسل مشکل کا باعث ہے۔

ترکی نے شام کی طرح عراق میں بھی مقامی ملیشیا فورس کو ٹریننگ دی ہے جو تین ہزار عربوں، ترکمان اور کردوں پر مشتمل ہے تاہم اس فورس کا موصل آپریشن میں کردار واضح نہیں ہے۔

لیکن انقرہ اور بغداد کے درمیان کشدیگی ختم نہیں ہو رہی ہے۔

مثال کے طور پر ترکی نے پیر کو کہا کہ اس نے موصل کے علاقے بشقیہ میں قائم اپنے فوجی اڈے کو دولت اسلامیہ کے خلاف پیشمرگہ جنگجؤوں کی مدد کرنے کے لیے وہاں ٹینک اور آرٹلری فائر پہنچا دے ہیں جبکہ عراقی حکومت نے فوری طوری پر اس کی تردید کی۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع صرف موصل کی جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد کے حالات پر بھی اس کے اثرات ہوں گے۔

دولت اسلامیہ کے خطے سے بے دخل ہونے کے بعد خطے کو کون کنٹرول کرے گا؟

کیا عراق کی انتہائی فرقہ وارانہ حکومت حقیقت میں سب کے مفادات کے لیے کام کرے گی؟

کیا ترکی کردوں کے ایک کے لیے تیار ہے؟

ترکی ایک کرد دھڑے کو ختم کرنے کے لیے دوسرے کی حمایت میں کس حد تک جائے گا؟

اور سب سے بڑا جواب طلو سوال یہ ہے کہ آیا صدر اردوگان خلافت عثمانیہ کی باتیں محض بیان بازی تک محدود رکھیں گے یا پھر وہ واقعی عراق کے معاملے میں کوئی ایسا ہی فعال ادا کریں گے جو انھوں نے شام کے معاملے میں کیا تھا؟