استنبول نائٹ کلب حملہ: مسلح شخص کی تلاش میں گرفتاریاں

،تصویر کا ذریعہEPA
ترکی میں پولیس نے استنبول کے نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے شخص کی تلاش کے عمل میں تیزی لاتے ہوئے چھاپے مار کر 12 افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ترکی کے نائب وزیر اعظم نعمان کرتلمش کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے پاس انگلیوں کے نشان اور حملہ آور کا خاکہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص کی ’جلد شناخت کر لی جائے گی‘۔
نائٹ کلب پر حملے کرنے والا مسلح شخص فائرنگ سے پھیلنے والی افراتفری کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
ترک ذرائع ابلاغ کی بعض اطلاعات کے مطابق حکام مطلوب شخص کی شناخت کے بارے میں جانتے ہیں لیکن اسے عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا گیا۔
ترک پولیس کی جانب سے مشتبہ شخص کی مبینہ نئی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔
ترک ذرائع ابلاغ نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کا تعلق ازبکستان یا کرغزستان سے ہوسکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس نے نومبر میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ ترکی کا سفر کیا تھا اور گرفتار کیے جانے والوں میں اس کا خاندان بھی شامل ہے۔
خیال رہے کہ سالِ نو کے موقع پر نائٹ کلب پر ہونے والے حملے میں غیر ملکیوں سمیت 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کا دعوی کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دولتِ اسلامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ اُن کے ’ایک سپاہی‘ نے کیا۔
ترکی کے رینا نائٹ کلب میں سالِ نو کے موقعے پر کم از کم 600 افراد موجود تھے کہ اچانک ایک مسلح شخص نے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی۔

،تصویر کا ذریعہAP
دوسری جانب نائٹ کلب پر ہونے والے حملے کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ ترکی کے میڈیا کے مطابق مسلح حملہ آور نے 180 گولیاں چلائیں۔
ترکی میں حکام کو شبہ تھا کہ اس حملے میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ملوث ہے۔
ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے حملے کے بعد کہا کہ یہ گروہ ملک میں 'افراتفری پھیلانا' چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'وہ ہمارے شہریوں کو نشانہ بنا کر ہمارے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔'
دوسری جانب رینا نائٹ کلب حملے میں ہلاک ہونے والے کچھ افراد کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔








