14 ہزار پاؤنڈ مالیت کا مگرمچھ کی کھال سے بنا بیگ آسٹریلیا میں ضبط

آسٹریلیا

،تصویر کا ذریعہAUSTRALIAN GOVERNMENT

آسٹریلیا میں ایک خاتون کو مگرمچھ کی کھال سے بنا ہینڈ بیگ برآمد کرنا اس وقت مہنگا پڑا جب اجازت نامہ نہ ہونے کی وجہ سے اسے حکام نے ضبط کر لیا اور اب اسے تلف کر دیا جائے گا۔

اس بیگ کی کل مالیت 26 ہزار آسٹریلوی ڈالر یعنی 14 ہزار پاؤنڈ بتائی جاتی ہے اور اسے فرانس کے سینٹ لارینٹ نامی سٹور سے منگوایا گیا تھا جس کے بعد آسٹریلوی بارڈر فورس نے پرتھ میں اسے ضبط کر لیا۔

مگرمچھ کی کھال سے بنی مصنوعات آسٹریلیا میں درآمد کرنے کی اجازت ضرور ہے لیکن خریداروں کو اس کے لیے ایک 70 آسٹریلوی ڈالر کا اجازت نامہ لینا بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا کی وزیرِ ماحولیات نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک 'مہنگی یاد دہانی' ہے کہ پہلے اجازت نامہ اور دیگر ضروری کاغذی کارروائی کرنا کتنا اہم ہے۔

خاتون کی جانب سے 26 ہزار 313 آسٹریلوی ڈالر مالیت کے بیگ کی قیمت ادا کی جا چکی ہے اور محکمہ زراعت، پانی اور ماحولیات نے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آسٹریلیا میں جنگلی حیات کی تجارت سے متعلق جرائم کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال قید اور دو لاکھ 22 ہزار آسٹریلوی ڈالر جرمانہ ہے۔

مگرمچھ کی کھال سے بنی اشیا کو آسٹریلیا میں لانے کی اجازت ضرور ہے لیکن ان کی بین الاقوامی تجارت برائے معدومیت کا شکار انواع کنونشن (سی آئی ٹی ای ایس) کے تحت سخت نگرانی ہوتی ہے۔

ملک کی وزیرِ ماحولیات سوزن لے کا کہنا ہے کہ 'ہم سب کو اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ ہم آن لائن کیا خرید رہے ہیں کیونکہ جانوروں سے بنائی گئی اشیا کی تجارت روکنا معدومیت کا شکار جنگلی جانوروں کی انواع کے لیے انتہائی اہم ہے۔'

انھوں نے کہا کہ حکومت 'آسٹریلیا میں آنے اور یہاں سے بار جانے والی تمام اشیا کی نگرانی کرتی ہے تاکہ جنگلی حیات کی غیرقانونی تجارت کو روکا جا سکے۔'