انڈیا، پاکستان کے فنکاروں کے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے قائم کرنے پر انڈیا میں لوگ کیوں خفا ہیں؟

راحت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, کاشان اکمل
    • عہدہ, صحافی

پاکستان اور انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہ صرف عام لوگ اپنے گھروں تک محدود ہوگئے ہیں بلکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والی اس صورتحال کے بعد فلمی ستارے، گلوکار اور شوبز کی دیگر معروف شخصیات بھی سماجی فاصلہ رکھنے پر مجبور ہیں۔

ایسے میں لائیو ویڈیو چیٹ نے سرحدوں کا فاصلہ مٹا سا دیا ہے اور سوشل میڈیا صارفین دونوں ملکوں کے فنکاروں کی آپس کی بات چیت دیکھ اور سن پا رہے ہیں۔ آئے روز پاکستان اور انڈیا کے فنکار عام شہریوں کی طرح باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کر کے اپنے ان مداحوں کا دل بہلاتے ہیں جو خود اپنے اپنے گھروں کی قیدِ تنہائی میں بوریت کا شکار ہیں۔

لیکن انڈیا میں فلمی صنعت کی ایک تنظیم اس بات سے خوش نہیں ہے کہ انڈیا میں شوبز کی شخصیات پاکستانیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور انھوں نے اس کے خلاف انڈین فنکاروں کو متنبہ بھی کیا ہے۔

انڈیا میں فلم انڈسٹری کی صنعت سے وابستہ افراد کی نمائندہ تنظیم 'فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینی ایمپلائز' کی جانب سے ملک کے تمام موسیقاروں، گلوکاروں، فنکاروں اور تکنیکی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ایک 'تنبیہ' جاری کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

FWICE

،تصویر کا ذریعہFWICE

اس میں کہا گیا کہ 'تنظیم کی پاکستان میں شوبز سے وابستہ افراد کے ساتھ کسی بھی طور کام نہ کرنے کی ہدایات کا علم ہونے کے باوجود کچھ اراکین پاکستان کے گلوکاروں اور فنکاروں کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔'

تنظیم کے جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں پاکستان کے گلوکار راحت فتح علی خان کے ساتھ انڈیا کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے افراد کے ساتھ مل کر آن لائن کنسرٹ کرنے کا علم ہوا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مستقبل میں اس کام کو بڑھانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے، جو کہ تنظیم کی ہدایات کے خلاف ہیں۔

انڈیا کے میڈیا کے مطابق تنظیم کی جانب سے یہ تنبیہ انڈین فیشن ڈیزائنر وجے اروڑہ اور انڈیا کی صوفی گلوکارہ ہرش دیپ کور کے پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کے مشترکہ آن لائن کنسرٹ کے بعد سامنے آئی ہے۔

تاہم اس تنبیہ کے اثرات ان سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں جو پاکستان اور انڈیا کی عوام کو سماجی رابطوں کے ذریعے وبا کے ماحول میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری ہیں۔

تنظیم کے ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جب پوری دنیا کورونا وائرس کے خلاف لڑ رہی ہے، دوسری طرف پاکستان کی جانب سے سرحدوں پر انڈیا کے فوجیوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔'

ریکھا بھردواج

،تصویر کا ذریعہInstagram/foundationsufi

#LetsTalk کیا ہے

پاکستان میں سماجی اور انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سلمان صوفی فاؤنڈیشن کی جانب سے گذشتہ دنوں #LetsTalk سے ایک سلسلہ شروع کیا گیا جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں تک محدود افراد اور خاندانوں کو ممکنہ ذہنی مسائل کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے آن لائن براہ راست گفتگو کے سیشنز ترتیب دیئے گئے تھے۔

تنظیم کے بانی سلمان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن کی جانب سے شروع کیا جانے والا آن لائن پروگرام مشکل میں گھرے افراد کا ایک دوسرے سے رابطہ ہے۔

جہاں عام عوام بااثر اور اہم شخصیات کو درپیش ذہنی مسائل اور دیگر مشکلات کے بارے میں جانتے ہیں اور انہیں ان مسائل کا مقابلہ کرنے اور ان کا حل نکالنے کے لیے بھی ہمت ملتی ہے۔

ان آن لائن سیشنز میں پاکستان اور انڈیا دونوں جانب سے وہ نمایاں شخصیات شریک ہوتی ہیں۔

انڈیا کے معروف فلمساز مہیش بھٹ نے فاؤنڈیشن کی جانب سے پہلے آن لائن سیشن میں مہمان کے طور پر اپنی بیٹی شاھین بھٹ جوکہ ذہنی مسائل سے متعلق ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں، کے ساتھ شرکت کی۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 1
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام, 1

جبکہ انڈین گلوکارہ ریکھا بھردواج اور ان کے شوہر فلمساز وشال بھر دواج بھی شریک ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ (اپریل) کی گیارہ تاریخ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ مئی کی دو تاریخ تک جاری رہے گا۔

فنکار کہاں کہاں پرفارم کر رہے ہیں؟

دونوں ممالک کے فنکار ذاتی حیثیت میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ قائم کر کے سرحد کے دونوں جانب اپنے چاہنے والوں کے لیے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں انڈین گلوکارہ ریکھا بھردواج اور ان کے شوہر وشال بھردواج پاکستانی گلوکار علی سیٹھی کے ساتھ بھی سوشل میڈیا پر کیے جانے والے ایک لائیو سیشن میں شرکت کرچکے ہیں جس میں کلاسیقی موسیقی کی معروف گلوکارہ فریدہ خانم بھی خصوصی طور پر شریک ہوئیں تھیں۔

اس کے علاوہ انڈیا کے نوجوان گلوکار انکور تیواری نے بھی گذشتہ دنوں پاکستان میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سالک آرٹس کے ساتھ ملکر آن لائن پر فارم کیا ہے۔

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں, 2
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام, 2

سوشل میڈیا پر ردعمل

فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینی ایمپلائز کے گذشتہ روز جاری ہونے والے سرکلر کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب پاکستان اور انڈیا کے فنکاروں کو عوام سوشل میڈیا پر ایک ساتھ نہیں دیکھ سکیں گے۔

بالی وڈ فلم انڈسٹری پر گہری نظر رکھنے والے کرن آدرش نے ٹوئٹر پر تنظیم کا جاری کردہ اعلامیہ شیئر کیا۔ ان ہی کی طرح انڈیا سے تعلق رکھنے والے متعدد سوشل میڈیا صارفین نے تنظیم کی تنبیہ شیئر کی ہے تاہم اس پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سوشل میڈیا پر فعال صارف مہوش اعجاز نے اپنی ایک ٹویٹ میں انڈین تنظیم کا لیٹر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'دنیا وبا کے سے نمٹنے میں مصروف عمل ہے، لیکن یہ بھی کچھ لوگوں کے تعصب کو کم نہیں کر سکا ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے عمار رشید نے اپنی ٹویٹ میں انڈین سینما کی تنظیم کے اعلامیے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا انتہائی قومیت پرستی کا شکار ہوچکا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

اب کیا ہوگا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلمان صوفی فاؤنڈیشن کے سربراہ سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ 'انڈیا کی فلمی صنعت سے وابستہ افراد کی تنظیم کا جاری کردہ نئے ہدایت نامے یا تنبیہ کی وجہ انڈیا کا سیاسی ماحول ہے اور یہ تنظیمیں حکومتوں کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسیوں میں ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'کورونا کی وبا کے جنوبی ایشا میں پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے خطے کے ممالک کی تنظیم سارک کا اجلاس بلایا گیا تھا جس میں پاکستان نے بھی شرکت کی تھی، جبکہ اس اجلاس کے بلائے جانے تجویز اور میزبانی خود انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کر چکے ہیں، لہٰذا اب اس طرح کے وارننگ لیٹرز کے ذریعے دونوں ممالک کے اس وبا سے متاثرہ عوام کی معاونت کے لیے شروع کی جانے والی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا مناسب اقدام نہیں۔'

انھوں نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کے وضع کردہ شیڈول میں سماجی حقوق خصوصاً ذہنی مسائل سے متعلق آگاہی پر کام کرنے والے انڈیا کے متعدد فنکار شامل ہیں اور اب تک کسی نے بھی پروگرام میں شرکت سے انکار نہیں کیا ہے۔

سلمان صوفی نے بتایا کہ 'انڈیا کے فنکاروں نے فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینی ایمپلائز کے جاری کردہ اعلامیے کو اہمیت نہ دے کر انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر شروع کیا جانا والا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔'