ملائیشیا کا مالی سکینڈل جو ایشیا سے ہالی وڈ تک پھیلا ہوا تھا

Jho Low, Najib Razak and Rosmah Mansor
،تصویر کا کیپشنیہ دنیا کا سب سے بڑا مالیتی سکینڈل تھا
    • مصنف, ہیتھر چین، کیون پونیا اور مایوری مے لِن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

اربوں ڈالر کے ایک سکینڈل کی وجہ سے ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب عبدالرزاق کو چند روز قبل 12 سال قید کی سزا ہوئی ہے۔

ان کے خلاف جاری کرپشن کے کئی مقدمات میں سے پہلے ہی مقدمے میں انہیں سات کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سنہ 2009 میں جب وہ ملک کے وزیر اعظم تھے ون ایم ڈی بی کے نام سے قائم ہونے والے سرکاری فنڈ میں خرد برد سے متعلق ہے۔

یہ دنیا کے بڑے بڑے مالیاتی سکینڈلوں میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ملائیشیا کے عوام کی مدد کی غرض سے قائم کیے گئے سرکاری فنڈ سے اربوں ڈالر کم ہو کر عالمی مالی نظام میں کہیں غائب ہو گئے۔

ملائیشیا اور امریکہ کے سرکاری وکلا کے مطابق یہ پیسہ جو چند با اختیار افراد کی جیبوں میں چلا گیا تھا وہ انتہائی پرتعیش جائیدادیں، ذاتی جہاز، وین گف اور مونے کے فن پارے خریدنے اور ہالی وڈ کی فلموں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا گیا۔

ون ایم ڈی بی کا سکینڈل جو چھ ملکوں پر پھیلا ہوا ہے اس کی تحقیقات میں مالی منتقلیوں کے ایک طویل جال کو سوئس بینکوں سے ٹیکس فری آئلینڈ اور جنوب مشرقی ایشیا تک کھنگالا گیا۔

اس سکینڈل کے کردار اور ون ایم ڈی بی کے سکینڈل کے گرد گھومتی کہانی کسی مقبول ٹی سیریز کی کہانی لگتی ہے جس میں صحافی اس رقم کا پیچھا کرتے ہوئے عالمی اشرافیہ کی ان شخصیات تک پہنچ جاتے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر اس سے فائدہ حاصل کیے ہوتے ہیں۔

line

نجیب الرزاق

Najib Razak

اس کہانی کا مرکزی کردار ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم ہیں جن پر ہاتھ ڈالنے کے بارے میں ایک وقت میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے اپنے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے سنہ 2009 میں ایک جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے ایک فنڈ قائم کیا جو نو سال بعد ان کے اور ان کے سیاسی خاندان کے زوال کا باعث بنا۔

نجیب عبدالرزاق کی شخصیت کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کے لیے ان کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔

ملائیشیا کے دوسرے وزیر اعظم عبدالرزاق کے سب سے بڑے بیٹے اور ملک کے تیسرے وزیر اعظم کے بھتیجے ہونے کے ناطے وہ ملک کی سیاسی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔

جب وہ سنہ 2009 میں ملائیشیا کی سیاست پر نصف صدی تک حاوی رہنے والی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر اقتدار میں آئے تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ ان کے مقدر میں لکھا ہوا تھا۔

براک اوباما اور نجیب الرزاق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے سابق صدر براک اوباما اور نجیب الرزاق کبھی ساتھ گولف کھیلتے تھے

برطانیہ کے شیدائی ہونے کے ناطے نجیب عبدالرزاق نے برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے میلورن کالج سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے صنعتی معیشت کی ڈگری لی۔

اپنے پس منظر اور متعدل اسلام کی اہمیت کے بارے میں اپنے خیالات کی وجہ سے وہ اپنے مغربی ہم عصر رہنماؤں ڈیویڈ کیمرون اور براک اوباما کے قدرتی طور پر دوست ہو گئے ۔

اس ہفتے ون ایم ڈی بی کے کئی مقدمات میں سے پہلے مقدمے میں نجیب عبدالرزاق کو اختیارات کے غلط استعمال میں 12 سال اور دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے چھ دیگر الزامات میں دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔

David Cameron welcomes Najib Razak to 10 Downing street

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈیویڈ کیمروں اور نجیب لرزاق جو دونوں اب وزیر اعظم نہیں رہے

یہ سزائیں جو ایک ساتھ چلیں گی اور ان کی اپیل کا فیصلہ ہونے کے بعد شروع ہوں گی۔

کولالمپور کی ایک عدالت کے جج محمد نزلان محمد غزالی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تمام شواہد دیکھنے کے بعد ان کے خیال میں استغاثہ نے اپنا مقدمہ کسی شک و شبہہ کے بغیر کامیابی سے ثابت کر دیا ہے۔

نجیب عبدالرزاق نے فیصلے کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہویے کہا وہ یقینی طور پر اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یقینی طور پر یہاں دنیا ختم نہیں ہو جاتی اپیل کرنے کا راستہ ابھی باقی ہے اور ہمیں امید ہے ہم اس میں سرخرو ہوں گے۔‘

line

روسما منصور

Rosmah Mansor
،تصویر کا کیپشنروسما منصور کے قیمتی ہینڈ بیگ اور زیوارت پر لوگوں کی نظریں لگی رہتی تھی

نجیب عبدالرزاق کی اہلیہ کی خریداری کرنے کی عادت کا موازنہ فلپائن کی ایملڈا مارکوس اور فرانس کے میغی انتونت سے کیا جاتا تھا۔

اپنے شوہر کے اقتدار سے الگ ہو جانے کے بعد سے 67 سالہ روسما منصور پر منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں لیکن وہ ان سے انکار کرتی ہیں۔

روسما منصور کی شاہ خرچیاں ملائیشیا میں مذاق بنی ہوئی تھیں جہاں ان پر عوام کی معاشی مشکلات سے بالکل نابلد ہونے پر شدید تنقید کی جاتی تھی۔

سنہ 2018 میں پولیس نے چند ایسی جائیدادوں پر چھاپے مارے تھے جن کا تعلق روسما منصور یا ان کے شوہر سے بتایا جاتا تھا۔ ان چھاپوں کے بعد سوشل میڈیا پر ان گھروں سے خواتین کے مہنگے ترین ہیڈ بیگوں سے بھری سپر مارکیٹ کی ٹرالیوں، سینکڑوں کی تعداد میں گھڑیوں اور 12000 کے قریب زیورات جن کی مالیت 27 کروڑ ڈالر سے زیادہ بنتی تھی کی تصاویر گردش کرنے لگی تھیں۔

ان تصاویر سے ملائیشیا کے لوگوں کے شکوک و شبہات کو تقویت ملی تھی کہ ان کا حکمران خاندان شاہانہ زندگی گزار رہا تھا۔

روسما منصور کی شخصیت اور ہرمس برکن کے بیگوں کے اپنے شوق کی وجہ سے جب کبھی بھی وہ عدالت میں پیش ہونے آئیں تو ان کی ہر ہر چیز ہر نظر رکھی گئی۔

انہوں نے کسی سے بدتمیزی نہیں کی لیکن ان کا رویہ دوستانہ اور پرجوش بھی نہیں تھا۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ملائیشیا میں نامہ نگار روزانہ لطیف نے کہا ان کا رویہ انتہائی شاہانہ تھا۔ جب کبھی بھی انہیں پیشی کے لیے بلایا جاتا تو ان کے لباس اور ان کے ہینڈ بیگس میں زبردست دلچسپی لی جاتی۔

حال ہی میں روسما منصور اور نجیب عبدالرزاق کو پولیس کی طرف سے یہ اجازت دی گئی کہ وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہینڈ بیگوں، گھڑیوں، عینکوں اور دیگر سامان کو دیکھ سکیں جو نومبر 2018 میں سرکاری تحویل میں لیا گیا تھا۔

یہ تمام سامان حکومت نے اس لیے ضبط کر لیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر یہ اس غیر قانونی پیسے سے خریدا گیا تھا جو ون ایم ڈی بی فنڈ سے خرد برد کیا گیا تھا۔

ملائیشیا کی ہائی کورٹ نے انہیں یہ سامان دیکھنے کی اجازت ان کے وکلا کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کے بعد دی تھی۔

ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ان اشیا کو اصلی بکسوں اور پیکنگ سے نکال دیا گیا ہے تاکہ ان کی شناخت میں ابہام پیدا ہو اور اس سے ان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی پیدا ہے۔

line

جوہ لو

Jho Low
،تصویر کا کیپشنجوہ لو دنیا کے کئی ملکوں میں مطلوب ہے

ایک چینی نژاد ملائیشیائی سرمایہ کار لو تیک جوہ کے بارے میں جن کا تعلق پینگ کے مصروف جزیرے سے ہے اور جو جوہ لو کے نام سے مشہور ہے، ملائیشیا کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اِس سارے سکینڈل کے پیچھے اس کا دماغ ہے۔

وہ اس فنڈ کے کرتا دھرتا افراد میں شامل نہیں تھے لیکن مبینہ طور پر ان کا اس سارے معاملے میں بہت اہم کردار رہا۔

صحافی بریڈلی ہوپ اور ٹام راہٹ اپنی کتاب ’بلین ڈالر وہیل‘ میں جوہ لو کی مالی سرگرمیوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اپنے کاروباری اور شاطرانہ ذہن کی وجہ سے انہوں نے بہت پیسہ کمایا۔

ٹام ہوپ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوہ لو اس سارے معاملے میں ایک دلچسپ اور پراسرار کردار ہیں۔

امریکی سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ جوہ لو نے اپنے سیاسی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے ون ایم ڈی بی فنڈ سے ٹھیکے حاصل کیے جن کے لیے انہوں نے کروڑوں ڈالر رشوت بھی ادا کی۔

ان کے مطابق اربوں ڈالر امریکی بینکنگ نظام کے ذریعے ادھر سے ادھر کے گئے اور یہ اربوں ڈالر دنیا کی مہنگی ترین جائیدادیں اور نایاب فن پارے خریدنے اور بالی وڈ کی فلموں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے استعمال کیے گئے.

Jho Low's infamous mega-yacht is seen docked at Port Klangs Boustead Cruise Terminal in Selangor, Malaysia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجوہ لو کی مہنگی ترین یاٹ

یہ وہ کاروباری شخصیت تھی جو عیش اور عشرت اور کاروبار کو ساتھ ساتھ چلاتے تھے۔ بااثر افراد سے دوستیاں، عرب شہزادوں اور مشہور شخصیات کے ساتھ عیاشیوں کی بدولت وہ کم مدت میں بہت سا پیسہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

سنہ 2012 میں ان کی امریکہ میں منائی گئی سالگرہ کے کیک میں سے برٹنی سپیئر نکلیں۔

اپنی کتاب میں ان صحافیوں کا یہ کہنا تھا کہ ان کے اندازے کے مطابق جوہ لو کو ایک وقت میں دنیا کے تمام لوگوں سے زیادہ سرمائے تک رسائی حاصل تھی۔

لیکن نجیب عبدالرزاق کی حکومت کا ختم ہونا جوہ لو کے لیے ایک بری خبر ثابت ہوا۔

ان کے خلاف جرائم کے الزامات لگے اور اب وہ کئی ملکوں میں مطلوب ہے۔

وہ کہاں ہیں اس کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں لیکن وہ اپنی ویب سائٹ کے ذریعے اپنے بے گناہ ہونے کا دعوی کرتے رہتے ہیں۔

ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہیں ملائیشیا میں انصاف نہیں مل سکتا۔

ہوپ کے مطابق جوہ لو دوسروں کے پیسوں سے ایک سلطنت کھڑی کر رہے تھے لیکن آخر میں ان کا پورا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

line

ٹموتھی لیزنر

Tim Leissner
،تصویر کا کیپشنجرمنی سے تعلق رکھنے بینکر نے اعتراف جرم کر لیا تھا

جرمنی میں بینکنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والا یہ شخص ایک دور میں دنیا کے سب سے طاقت ور مالیاتی ادارے گولڈ مین سیکس کی نمائندگی کرتا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب یہ بینک ایشیا میں اپنا کاروبار وسیع کر رہا تھا۔

سنہ 2008 میں آنے والی عالمی مالی بحران کے بعد ٹموتھی لیزنر کی جنوبی مشرق ایشیا اور خاص طور پر ملائیشیا میں سودے بازی سے وہ بینک کے کھاتوں میں بہت بڑی مقدار میں رقوم جمع کروانے میں کامیاب ہو گئے اور اس خطے میں ادارے کے چیئرمین کے عہدے تک پہنچ گئے۔

لیکن سب سے بڑا سودا جب ہوا جب وہ جوہ لو سے ملے جو کہ ون ایم ڈی بی فنڈ کے مبینہ طور پر کرتا دھرتا تھے۔

کثیرالملکی بینک اور اس کی فنانشل کمپنی گولڈ مین سیکس قبل ازیں جوہ لو کو اپنے کھاتے دار بنانے سے انکار کر چکے تھے کیونکہ بینک کے کمپلائنس آفیشل (نگہبانی حکام) نے پیسے کے ذرائع پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بینک نے سنہ 2012 اور سنہ 2013 میں ون ایم ڈی بی فنڈ کے لیے چھ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے بانڈ فروخت کرنے پر فیس کی مدد میں ساٹھ کروڑ ڈالر وصول کیے۔

لیزنر نے امریکہ میں اپنے اوپر منی لانڈرنگ کی سازش کرنے، بیرونی ملکوں کے حکام کو رشوت دینے کر انسداد بدعنوانی کے قوانین کی خلاف وزریاں کرنے کے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔ ملائیشیا کی حکومت نے بھی لیزنر، جوہ لو کے علاوہ گولڈ مین سیکس کے سابق اور موجودہ سترہ اہلکاروں کے خلاف الزامات عائد کیے تھے۔

بینک کے خلاف بھی الزامات عائد کیے گئے۔

جولائی سنہ 2020 میں گولڈ مین سیکس نے ملائیشیا حکومت کے ساتھ تصفیہ کیا اور اس کے لے تین ارب نوے کروڑ ڈالر کی خطیر رقم ملائیشیا کی حکومت کو ادا کی۔ ملائیشیا کی حکومت سے تصفیہ ان الزامات سے متعلق تھا کہ بینک نے سرمایہ داروں کو گمراہ کر کے ملک کے ون ایم ڈی بی ترقیاتی فنڈ کے لیے پیسہ اکھٹا کرنے میں مدد دی۔

دی سٹار

پیسہ بولتا ہے لیکن مشہور شخصیات کی آواز زیادہ وزن رکھتی ہے۔

ون ایم ڈی بی کے سکینڈل میں صرف بااثر سیاست دان اور سرمایہ دار ہی ملوث نہیں تھے۔ مفرور کاروباری جوہ لو اکثر ہالی وڈ کے روشن ترین ستاروں کے ساتھ پارٹیاں کرتے تھے۔ اسی لیے ان پر کسی قسم کی بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کیا گیا لیکن ان کے جوہ لو سے سماجی رابطوں کا ذرائع ابلاغ میں تذکرہ ہوتا رہا ہے۔

لیونارڈو ڈی کیپریو کی فلم

آسکر انعام یافتہ اداکار نے سنہ 2013 میں ہالی وڈ کی فلم 'دی ولف آف وال سٹریٹ' میں کام کیا جس میں رومسا منصور کے سگے اور نجیب عبدالرزاق کے سوتیلے بیٹے رضا نے پیسہ لگایا اور اس کو پروڈیوس بھی کیا۔

مارٹن سکورس کی فلم جس کا مرکزی خیال لالچ اور بدعنوانی تھا اس میں بہترین اداکاری پر ڈیکیپریو کو گولڈن گلوب کا ایوارڈ ملا اور انہیں ایوارڈ حاصل کرتے وقت اپنی تقریر میں جوہ لو اور رضا عزیز کا شکریہ بھی ادا کیا۔

امریکی سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ ون ایم ڈی بی فنڈ سے خرد برد کیا گیا پیسہ فلم میں لگایا گیا اور فلم بنانے والی کمپنی ریڈ گرینائن نے چھ کروڑ ڈالر ایک مقدمے میں امریکی حکومت کو ادا کیے۔

اس کمپنی نے کسی قسم کی بدعنوانی کرنے کے الزام کی تردید کی۔ لیکن رضا عزیز جولائی سنہ 2019 میں گرفتار ہوئے اور ان پر منی لانڈرنگ کے پانچ الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ون ایم ڈی بی فنڈ سے ڈھائی کروڑ ڈالر خرد برد کیے۔ انہوں نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔

دریں اثنا ڈی کیپریو نے امریکی حکام سے تعاون کرنے کا عہد کیا ہے اور مبینہ طور پر جوہ لو سے تحفے میں ملی مشہور زمانہ پینٹر پکاسو کی ایک پینٹنگ حکام کے حوالے کر دی ہے۔

موسیقار دوست کسیم ڈین اور الیکا کیز

ریکارڈ بنانے والے اور ان کی سپر سٹار بیوی جوہ لو کے انتہائی قریبی لوگوں میں شامل تھے اور ان کی پارٹیوں کی تصویر میں اکثر نظر آتے تھے۔ ڈین نے جوہ لو کی 31ویں سالگرہ میں اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس پارٹی میں ان کے سالگرہ کے کیک میں برٹی سپیر میں چھپا دیا۔ اس موسقیار نے جوہ لو کو نایاب فن پاروں کی دنیا سے روشناس کروایا اور جوہ لو نے ون ایم بی ڈی فنڈ کے پیسوں سے مونٹ اور وان گوہ کی پینٹنگز خریدیں۔

line

Miranda Kerr, Paris Hilton and Leonardo DiCaprio
،تصویر کا کیپشندنیا کے مشہور فلمی ستارے اور شو بز کے لوگوں سے جوہ لو کی دوستی تھی
Presentational white space
Actor Leonardo DiCaprio with Jho Low (right) of the movie attend the photocall before the 'The Wolf of Wall Street' World movie Premiere at Cinema Gaumont Opera on December 9, 2013 in Paris, France.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلیونارڈو کیپریو نے جوہ لو کی ایک فلم میں مرکزی کردار ادا کیا

موسیقار دوست کسیم ڈین اور الیکا کیز

Swizz Beatz, Alicia Keys and Jho Low

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجوہ لو کی سنہ 2014 میں لی گئی ایک تصویر جس میں الیکا کیز اور سوز بیٹز کے ساتھ نظر آ رہے ہیں

پیرس ہلٹن کے ساتھ پارٹیاں

قریبی حلقہ میں شامل ایک اور شخصیت جو ہوٹل کی وارث تھیں جوہ لو کو سنہ 2009 میں ملیں۔ وہ اکثر پاپارازی فوٹو گرافروں اور خود لی گئی تصویریوں میں لاس ویگاس کی جوئے کی میزوں سے کینیڈا کے علاقے وسٹلر کی ڈھلوان پر سکی کرتے اور فرانس کے شہر سینٹ ٹروپیز میں موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نظر آنے لگے۔

مرینڈا کر اور ایلوا شاو کے ساتھ رومانس

آسٹریلیا کی سپر ماڈل اور تائیوان کی گلوکارہ اور اداکارہ کے درمیان کیا قدر مشترک ہے۔ دونوں خواتین کا ایک وقت میں جوہ لو سے تعلق رہا ہے۔

کئی پرتعیش اور عیش و نشاط کی ملاقاتوں کے بعد جن میں یورپ کا دس دن کا سیلنگ ٹرپ بھی شامل تھا جوہ لو نے مرینڈا کر پر جو دنیا کی مہنگی ترین سپر ماڈل ہیں انتہائی قیمتی تحفے نچھاور کر دیے جن میں گیارہ قیراط ہیرے کا ہار اور بالیوں کے علاوہ ایک کروڑ ڈالر کا پیانو بھی شامل تھا۔

بلین ڈالر وہیل کتاب کے مطابق جوہ لو نے تائیوان کی گلوکارہ ایلوا شاو کے ساتھ دبئی میں ایک ملاقات پر دس لاکھ ڈالر خرچ کر دیِئے جہاں ایک نجی ساحل پر کھانا کھایا۔s.

line

اخبار نویس

Journalists Bradley Hope, Clare Rewcastle-Brown and Tom Wright

ون ایم ڈی بی فنڈ کی داستان کبھی منظر عام پر نہ آتی اگر صحافی محنت نہ کرتے جو سال ہا سال اس کہانی کے پیچھے لگے رہے اور ایک کے بعد ایک دھماکہ خیز خبر دیتے رہے جس کی وجہ سے اس فنڈ کے بارے میں تحقیقات شروع کی گئیں۔

ایک دہائی قبل ملائیشیائی نژاد برطانوی صحافی نے ملائیشیا کی سیاسی اشرافیہ کے بارے میں لندن میں اپنے گھر بچوں کو سلانے کے بعد باورچی خانے کے کاونٹر پر بیٹھ کر تحقیقات شروع کیں۔

ابتدا میں انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر پوری توجہ ملائیشیا کی ریاست میں مشکوک سودوں پر مرکوز کیے رکھی۔ انہیں یہ اشارہ ملا کہ نجیب کے سوتیلے بیٹے نے 'دی ولف آف وال سٹریٹ' میں پیسے لگائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ وقت تھا جب انہوں نے مزید تحقیقات شروع کئیں کیونکہ قدرتی طور پر وہ اتنی بڑی خبر کو چھوڑ نہیں سکتیں تھیں۔

جب انہوں نے 'منی ٹریل' یا سرمائے کے ذرائع کو ڈھونڈنا شروع کیا تواس خبر کے تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئیں اور ملائیشیا کے لوگوں میں اس بارے میں زبردست دلچسپی پیدا ہو گئی کیونکہ مقامی ذرائع ابلاغ کے لیے تو یہ خبر کرنا یا تو ممکن نہیں تھا یا وہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔

سنہ 2015 کے اوائل میں ریکاسل براؤن کو ایک سوئس بھیدی یاویر گسٹو سے دو لاکھ دستاویزات موصول ہوئیں جن میں حیران کن الزامات لگائے گئے تھے۔ جن میں یہ معلومات بھی شامل تھیں کہ جوہ لو کی ایک کمپنی کے بینک اکاونٹ میں ستر کروڑ ڈالر ون ایم ڈی بی فنڈ سے ایک سودے میں منتقل کیے گئے۔

چند ماہ بعد انہوں نے یہ تفصیلات بھی شائع کئیں کہ سنہ 2013 میں وزیر اعظم کے بینک اکاونٹ میں 70 کروڑ ڈالر منتقل کیے گئے۔

ملائیشیا کے حکام نے ان کی ویب سائٹ کو بلاک کر دیا اور ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے۔

انھوں نے بتایا کہ 'دنیا بھر میں لوگوں سے میرا رابطہ تھا جو مجھے معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار تھے۔'

انہوں نے بتایا کہ جب یہ معاملہ بہت گرم تھا تو لندن میں کرائے کے لوگوں سے انہیں ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع ہوا جو ان کا پیچھا کرتے تھے ان کی تصاویر اتارتے تھے جس کے بعد انہیں پولیس سے رجوع کرنا پڑا۔

ٹام رائٹ اینڈ بریڈلی ہوپ، دی وال سٹریٹ جرنل

سنہ 2018 میں شائع ہونے والی ان کی کتاب بلین ڈالر وہیل اس میں بڑی تفصیل سے جوہ لو کی مبینہ کرپشن کو بیان کیا گیا اور یہ کتاب ملائیشیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی۔

ٹام وائٹ اور بریڈلی ہوپ ون ایم ڈی بی امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں ون ایم ڈی بی کی 'منی ٹریل' کے بارے میں کئی سال سے تحقیقات کر رہے تھے۔

بریڈلی ہوپ نے کہا کہ 'عام طور پر خبر دو ہزار الفاظ سے زیادہ کی نہیں ہوتی تو اکثر ہمیں لگتا کہ ہم بہت سے دلچسپ معلومات کو چھوڑ دیتے ہیں۔' انہوں نے مزید کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ اس سکینڈل کے بارے میں معلومات حاصل کرنا لوگوں کے لیے آسان نہیں تھا اور صرف جوہ لو کی کہانی بہت دلچسپ اور رنگین تھی۔

ہوپ نے کہا کہ اس کتاب نے یہ بات صاف اور شفاف طریقے بیان کر دی کہ اس سکینڈل سے ملائیشیا کے لوگوں کو کتنا نقصان ہوا تھا۔ اس بارے میں اتنا زیادہ شور شرابا اور غلط معلومات تھیں۔

لہذا تمام حقائق کو یکجا کرنے سے یہ واضح ہو گیا کہ ون ایم ڈی بی دنیا کا سب سے بڑا مالیاتی سکینڈل تھا۔ بلین ڈال وہیل میں یہ بیان کیا گیا کہ کسی طرح یہ سکینڈل بڑھتا گیا اور ملائیشیا کے لوگوں کو سارا معاملہ سمجھ میں آ گیا۔

اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد عالمی سطح پر جوہ لو کی گرفتاری کے بارے میں دباؤ بڑھا اور اب وہ کئی ملکوں میں مطلوب ہیں۔

ہوپ نے کہا کہ 'کتاب کے قارئین نے ہمیں خطوط ارسال کیے جبک سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کے وزیر خزانہ لم گون انگ نے ون ایم ڈی بی سکینڈل کی وضحات کرنے کے لیے ان کی کتاب کا حوالہ دیا۔'

ون ایم ڈی بی کا معاملہ جب 2015 میں اپنے عروج پر تھا اور اس وقت اگر آپ کو صرف ملائیشیا کے اخباروں اور ٹی وی چینلوں تک رسائی حاصل تھی تو آپ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے کہ ملائیشیا میں سب کچھ ٹھیک ہے۔

ملائیشیا کے اخبارنویسوں اور مدیران کو یہ بات بہت جلد معلوم ہو گئی تھی کہ اس معاملے پر خبریں کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھے اور ان میں سے ایک ایج میڈیا گروپ تھا۔

ایج میڈیا گروپ نے کرپشن کی یہ داستان شائع کی جس پر ان کا اخبار نکالنے کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔

اس ادارے کے مالک ہو کے تت نے کہا کہ 'ہماری زبان بند کرنے کے لیے ہمارا ادارہ ہی بند کر دیا گیا۔'