ون ایم ڈی بی: پلے بوائز، وزرائے اعظم، پارٹیوں کے رسیا اور دنیا کا سب سے بڑا مالیاتی سکینڈل

جھو لاؤ، نجیب رزاق اور روسمہ منصور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ہیدر چین، میوری می لِن اور کیون پونیا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ملائشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کے خلاف اس مالیاتی سکینڈل کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی جسے دنیا کا سب سے بڑا سکینڈل کہا جا رہا ہے۔

سابق وزیر اعظم پر الزام ہے کہ انھوں نے ’ون ملائشیئن ڈیولپمنٹ برہاد‘ کے نام سے جو فنڈ قائم کیا تھا اس سے انھوں نے 681 ملین ڈالر خرد برد کیے تھے۔ نجیب رزاق ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

ذیل میں ہمارے تین ساتھیوں نے اس سکینڈل کے مختلف کرداروں کے پس منظر، سرگرمیوں اور اس معاملے کو منظر عام پر لانے والی صحافیوں کی کاوشوں کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔

یہ دنیا کے سب سے بڑے معاشی گھپلوں میں سے ایک کی کہانی ہے۔

اس سکینڈل میں ہوا یہ کہ ایک ایسے فنڈ سے اربوں ڈالر غائب ہو گئے جس کا مقصد اصل میں ملائشیا کی عوام کی بہبود تھا اور یہ خطیر رقم عالمی مالیاتی نظام کی تاریک راہوں میں گم ہو گئی۔

امریکہ اور ملائشیا کے سرکاری وکیلوں کے مطابق یہ رقم اصل میں چند طاقتور افراد کے ہاتھوں میں چلی گئی جس سے بعد میں نہایت مہنگی جائداد، بڑے بڑے پینٹرز کے فن پاروں اور نجی طیارہ خریدنے کے علاوہ ہالی وڈ کی ایک بڑی فلم میں سرمایہ کاری بھی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے:

ملائشیا کے ’ون ملائشیئن ڈیویلپمنٹ برہاد‘ میں ہونے والے اس مبینہ غبن پر دنیا بھر میں بہت شور ہوا جس کے بعد دنیا کے کم از کم چھ ملکوں میں بھاری رقوم کو ادھر سے ادھر کرنے کے معاملے کی تفتیش شروع ہو گئی، جس کا دائرہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں سے لیکر ٹیکس فری جزیروں اور وہاں سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ وہی سکینڈل ہے جس میں اُس سیاسی جماعت کی حکومت کا بھی تختہ الٹ دیا گیا جو ملائشیا کی آزادی کے بعد سے وہاں حکمران رہی ہے۔

اس حوالے سے اب نیویارک کے سب سے طاقتور بینکوں میں سے ایک، گولڈمین سیکس، کو ملائشیا میں مقدمات کا سامنا ہے جن کے بارے میں بینک کا کہنا ہے وہ پوری شد ومد سے اپنا دفاع کرے گا۔ اسی دوران ایک ایسا مفرور پلے بوائے بھی ابھی تک حکام کے ہاتھ نہیں آیا ہے جو امریکہ اور ملائشیا دونوں کو مطلوب ہے، تاہم اس پلے بوائے کی عیش و عشرت کے سامان سے لیس ایک نہایت مہنگی کشتی حکام کے ہاتھ لگ چکی ہے۔

اس سکینڈل کے حوالے سے اب تمام نظریں ملائشیا کے دارلحکومت کوالالمپور پر لگی ہوئی ہیں جہاں سابق وزیراعظم اور ’ون ملیشیئن ڈویلپمنٹ برہاد‘ کے بورڈ کے سابق چیئرمین نجیب رزاق کے خلاف پہلے مقدمے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔

اس سکینڈل کے کرداروں کی کہانی واقعی ایک عالمی سطح پر پھیلے ہوئے سکینڈل کی تصویر پیش کرتی ہے جس میں کئی صحافی مخلتف ممالک میں بکھرے ہوئے ان افراد کا سراغ لگاتے نطر آتے ہیں جنھوں نے مبینہ طور پر اس سکینڈ ل میں خوب پیسے بنائے۔

رزاق نجیب

نجیب رزاق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کہانی کے مرکزی کردار ملائشیا کے سابق وزیر اعظم ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔ یہ نجیب رزاق ہی تھے جنھوں نے سنہ 2009 میں اپنی قوم کی معاشی ترقی کے لیے ایک ’دلیرانہ قدم‘ اٹھاتے ہوئے اس فنڈ کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن یہی وہ ’دلیرانہ قدم‘ تھا جس نے نو سال بعد نہ صرف نجیب رزاق کی سیاسی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا بلکہ ان کی عزت کو بھی خاک میں ملا دیا۔

نجیب رزاق کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان کے پس منظر کو سمجھنا پڑے گا۔ ملائشیا کے دوسرے وزیراعظم عبدالرزاق کے بڑے صاحبزادے اور تیسرے وزیر اعظم کے اس بھتیجے کا تعلق ملائشیا کی سیاسی اشرافیہ سے ہے۔ اسی لیے جب وہ آخر کار سنہ 2009 میں خود ملک کے وزیر اعظم بنے تو سب کو یہی لگا کہ یہ تو ان کے مقدر میں لکھا ہوا تھا۔

برطانیہ کے دلدادہ، نجیب رزاق نے ابتدائی تعلیم برطانیہ کے مشہور پرائیویٹ سکول میلورن کالج سے مکمل کی جس کے بعد انھوں نے نوٹنگھم یونیورسٹی سے صنعتی معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔

اپنے اس پس منظر اور اور پھر ’معتدل‘ اسلام کے بارے میں اپنے زبردست خیالات کی وجہ سے نجیب رزاق ڈیوڈ کیمرون اور براک اوباما سمیت کئی مغربی رہنماؤں اور دیگر شخصیات کے ذاتی دوست بن گئے۔

مسٹر نجیب اور براک اوباما ریاست ہوائی میں گولف کھیلتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک ایسا وقت بھی تھا جب مسٹر نجیب اور براک اوباما اکٹھے گولف کھیلا کرتے تھے

لیکن وزیر اعظم بنتے ہی ان کے سر پر سیاہ بادل چھانا شروع ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے جب وہ سنہ 2002 میں وزیر دفاع تھے تو انھوں نے فرانس سے آبدوزیں خریدنے کا جو معاہدہ کیا تھا اس نے نجیب رزاق کو گھیر لیا تھا۔ الزام تھا کہ ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کے اس معاہدے میں تقریباً 130 ملین ڈالر رشوت لی گئی تھی، تاہم نجیب اس الزام سے ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں۔

لیکن بعد میں جب منگولیا سے تعلق رکھنے والی اس ماڈل کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا جس نے آبدوزوں کے معاہدہے میں مترجم کا کردار ادا کیا تھا، تو اس معاہدہے پر مزید سوال اٹھنا شروع ہو گئے۔ اس قتل کے سلسلے میں فرانس میں ابھی تک تفتیش ہو رہی ہے جبکہ ملائشیا کی موجودہ حکومت نے بھی اس مقدمے کو ایک مرتبہ پھر کھول دیا ہے۔ مسٹر نجیب کا اصرار ہے کہ وہ مذکورہ خاتون سے کبھی بھی نہیں ملے۔

ڈیوڈ کیمرون اور نجیب رزاق

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈیوڈ کیمرون اور نجیب رزاق ڈاؤننگ سٹریٹ میں وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے

نجیب رزاق نے جب سنہ 2009 میں ’ون ملائشیئن برہاد‘ کی بنیاد رکھی تھی اس کا مقصد قدرتی وسائل سے مالا مال ملائشیا کی دولت کو بڑی حکمت عملی کے ساتھ عوام کی بھلائی کے لیے سرمایہ کاری میں استعمال کرنا قرار دیا گیا تھا۔ لیکن جب سنہ 2015 میں یہ فنڈ بینک کو گیارہ ارب ڈالر کے قرضے کی قسطیں واپس کرنے میں ناکام ہوا تو خطرے کی گھنٹیاں بجانا شروع ہو گئیں۔ مختلف تفتیش کار اور صحافی اس واقعے سے پہلے ہی اس سارے معاملے کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے اور اپنے تئیں معاملے کی تہہ کرنے تک پہنچنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔

اور پھر جولائی سنہ 2016 میں امریکی محکمۂ انصاف نے ایک دیوانی مقدمہ دائر کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ ساڑھے تین ارب ڈالر خرد برد کر دیے گئے ہیں۔ (بعد میں اس رقم میں اضافہ کر دیا گیا اور یہ ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔)

امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لِنچ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ’ کئی بدعنوان سرکاری افسران نے عوام کے پیسے کو اپنے ذاتی بینک اکاؤٹ کی طرح استعمال کیا۔‘

امریکی استغاثہ نے اس جرم میں مبینہ طور پر شامل تمام ملزمان کے نام بتائے لیکن ’ملائشیئن آفیشل نمبر ایک‘ کو بے نام رکھا، تاہم یہ بتایا گیا کہ اس شخصیت نے فنڈ سے 681 ملین ڈالر نکالے تھے مگر بعد میں زیادہ تر رقم واپس کر دی۔ بعد میں ملائشیا کی حکومت نے بتایا کہ ’ملائیشیئن آفیشل نمبر ایک‘ سے مراد نجیب رزاق ہیں۔

نجیب رزاق جب وزیر اعظم تھے تو ملائشیا کی حکومت نے انھیں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری سے بری قرار دے دیا تھا، لیکن گذشتہ انتخابات میں ان کی جماعت کی بری شکست کے بعد، حالات نے ایک مرتبہ پھر پلٹا کھایا۔

تب سے مسٹر نجیب کی کئی رہائشگاہوں پر چھاپے مارے جا چکے ہیں اور پولیس نہایت قیمتی اشیاء کے علاوہ دو کروڑ 86 لاکھ ڈالر کیش بھی اپنی تحویل میں لی چکی ہے۔ اب تک مسٹر نجیب کے خلاف 42 مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں جن میں مبینہ بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات شامل ہیں۔ مسٹر نجیب نے ہمیشہ ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔

روسمہ منصور

روسمہ منصور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

Presentational white space

نجیب رزاق کی دوسری اہلیہ کی شاہ خرچیوں کا مقابلہ فلپائن کی امیلڈا مارکوس اور فرانس کی آخری ملکہ مریہ انتونت سے کیا جاتا ہے۔ جب سے ان کے شوہر کے ہاتھ سے اقتدار گیا ہے، 67 سالہ روسمہ منصور پر کالے دھن کو سفید کرنے کے الزام کے تحت باقاعدہ مقدمہ قائم کیا جا چکا ہے، تاہم عدالت میں انھوں نے بھی اس الزام سے انکار کیا ہے۔

ملائشیا میں مس روسمہ کو اپنے مہنگے شوق کی وجہ سے شدید تنقید اور تسمخر کا سامنا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ انھیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں ہے کہ ملک کے غریب لوگ کن مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جب سنہ 2018 میں پولیس نے مس روسمہ اور ان کے شوہر کے مختلف گھروں پر چھاپے مارے اور وہاں سے برآمد ہونے والے 500 سے زیادہ مہنگے بیگوں، سینکڑوں گھڑیوں، 12 ہزار اقسام کے زیورات سمیت کئی قیمتی اشیاء کی تصاویر منظر عام پر آئیں تو سوشل میڈیا پر ہر کوئی اس بارے میں بات کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ان اشیاء کے مجموعی قیمت 273 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ ان انکشافات کے بعد عوام میں موجود اس خیال کو مزید تقویت ملی کہ ملک کا خاندان اوّل نہایت پرتعش زندگی گزار رہا تھا۔

اب جب بھی مس روسمہ عدالت میں پیش ہوتی ہیں تو ہر کوئی ان کے مہنگے ہینڈ بیگ کی بات کر رہا ہوتا ہے۔

ملائشیا میں خبر رساں ادارے روئٹرز کی نامہ نگار روضانہ لطیف کہتی ہیں کہ مس روسمہ ’بدمزاج نہیں ہیں لیکن وہ کوئی ہنس مکھ خاتون بھی نہیں ہیں۔ جب آپ ان سے ملتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے وہ ایک مغرور خاتون ہیں۔ اسی لیے جس دن انہیں عدالت میں بلایا جاتا ہے تو لوگ ان کے لباس اور بیگ کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘

مہاتیر محمد

مہاتیر محمد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ کسی رہنما کی سیاسی واپسی کی ایسی کہانی ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ وہ مہاتیر محمد جو ملائشیا کی سیاست پر سنہ 1980، 1990 اور 2000 کے تین عشروں میں چھائے رہے وہ 93 سال کی عمر میں ایک مرتبہ پھر اس ملک کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

سیاست میں ان کی واپسی کے پیچھے ان کی یہی خواہش تھی کہ کسی طرح اپنے پرانے شاگرد نجیب رزاق کو اقتدار سے الگ کیا جائے۔

مئی 2018 میں انتخابی مہم کے شروع میں ہی مہاتیر محمد نے کہہ دیا تھا کہ ’ میں تمام لوگوں سے معافی چاہتا ہوں کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے اسے (نجیب رزاق) کو اتنی ترقی دی، یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اب میں اس غلطی کو درست کرنا چاہتا ہوں۔‘

اور پھر کچھ دن بعد انھوں نے اس وقت دنیا کو حیران کر دیا جب انھوں نے اپنی ہی ماضی کی اس جماعت کو شکست دے دی جو نصف صدی سے زیادہ عرصے تک ملائشیا پر حکمران رہی تھی۔

مسٹر مہاتیر کی واپسی پر ملائشیا کے لوگ خوش ہیں اور ان کی اکثریت اپنی حکومت کی ان کوششوں کے گن گا رہی ہے جن کے تحت وہ ان افراد کو قانون کے دائرے میں لا رہی ہے جنھوں نے ’ون ایم ڈی بی‘ کو مبینہ طور پر لوٹا تھا۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملائشیا کے عمر رسیدہ رہنما نے نہ صرف نجیب کے لیے طاقت کا راستہ ہموار کیا تھا بلکہ خود ان کا دور اقتدار بھی آمرانہ تھا۔

جھو لاؤ

مسٹر جھو لاؤ

ملائشیا اور امریکہ کے تفتیش کاروں کی نظر میں اس فنڈ کو ترتیب دینے والے لوگوں میں ایک ماسٹر مائینڈ کا نام لاؤ تائک جھو ہے جو نسلی اعتبار سے چینی ملائشئن ہیں اور ان کا تعلق ملائشیا کے مشہور جزیرے پناگ سے ہے۔ وہ جھو لاؤ کے نام سے مشہور ہیں۔

اگرچہ جھو لاؤ کے پاس ون ملائشیئن برہاد میں کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ انھوں نے فنڈ کی سرگرمیوں میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ صحافی بریڈلی ہوپ اور ٹام رائیٹ، جنھوں نے سنہ 2018 میں ’بلین ڈالر وھیل‘ کے عنوان سے تہلکہ خیز کتاب لکھی تھی، ان دونوں کا کہنا تھا کہ جھو لاؤ کی کاروباری سمجھ اور لوگوں سے بہت جلدی رابطے قائم کرنے کی صلاحیت کی بدولت وہ اس فنڈ میں ایک مرکزی کردار بن گئے تھے۔ اپنی کتاب میں ان دونوں نے لکھا ہے کہ جھو لاؤ نے اس فنڈ سے مبینہ طور پر بہت دولت بنائی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹام رائیٹ کا کہنا تھا کہ ’ اس فنڈ میں سب سے دلچسپ کردار جھو لاؤ ہیں، تقریبات کی میزبانی کرنے والے ایک پراسرار شخص ۔ یہ بات بہت شروع میں ہی واضح ہو گئی تھی ون ملائشئن برہاد کے بڑے بڑے کرداروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ جھو لاؤ ہی تھے اور وہ واحد شخص تھے جو اربوں ڈالر کے اس منصوبے کے اندر کی ایک ایک چیز جانتے تھے۔‘

امریکی استغاثہ کے مطابق یہ مسٹر لاؤ ہی تھے جنھوں نے اپنے طاقتور سیاسی رابطوں کو استعمال کر کے اس فنڈ کے لیے مختلف کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے کروڑوں ڈالر رشوت دی۔ استغاثہ کے مطابق اس ساری سکیم میں جھولاؤ نے امریکہ کے معاشی نظام کو استعمال کر کے بہت سا کالا دھن سفید کیا اور دنیا کی مہنگی ترین جائدادیں، آرٹ کے نمونے اور ہالی وڈ کی فلمیں خریدیں۔

جھو لاؤ کی لگژری بوٹ آجکل ملائشیا کے ایک جزیرے پر کھڑی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجھو لاؤ نے اپنی اس بدنام زمانہ 250 ملین ڈالر کی پرتعیش کشتی کا نام 'سکون و طمانیت' رکھا تھا

جھو لاؤ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کاروبار اور عیاشی کو ایک کرنے کے ماہر ہیں۔ وہ پرتعیش محفلوں، عرب شاہی خاندانوں کے ساتھ دوستیوں اور فلم اور فن کی دنیا کی مشہور شخصیات کے ساتھ رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے فنڈ کے اہم ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے۔ یہاں تک کہ 2012 میں جب لاس ویگس میں ان کی سالگرہ کی پارٹی ہوئی تو برٹنی سپیئرز بھی وہاں موجود تھیں۔

بریڈلی ہوپ اور ٹام رائیٹ اپنی کتاب میں یہاں تک کہتے ہیں کہ کرنسی کی شکل میں جتنا پیسہ جھولاؤ کے ہاتھ میں تھا شاید فنڈ کے کسی دوسرے کردار کے پاس نہیں تھا۔

لیکن نجیب رزاق کی حکومت کا زوال مسٹر لاؤ کے لیے بری خبر ثابت ہوا۔ اس کے بعد ہی ان پر مقدمات قائم ہوئے اور اب وہ کئی ممالک کو مطلوب ہیں۔ آج کل جھولاؤ کہاں ہیں، اس بارے میں کوئی نہیں جانتا لیکن اپنی ویب سائیٹ پر ان کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ ان کے وکلاء کا موقف ہے کہ جھو لاؤ کو ملائشیا میں انصاف نہیں ملے گا۔

مسٹر ہوپ کے بقول ’اس میں کوئی شک نہیں کہ جھولاؤ میں آگے بڑھنے کا جذبہ بہت زیادہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ نہ صرف بے انتہا محتاط ہیں بلکہ کام بھی بے ڈھنگ کرتے ہیں۔ وہ کسی کے پیسے کو استعمال کر کے اپنے لیے دھڑا دھڑا دولت کا ایک مینار بنانے میں لگے ہوئے تھے، اسی لیے ان کا سارا منصوبہ جلد بازی کا شکار ہوا اور وہ مستقل بنیادوں پر کوئی کاروبار نہ کھڑا کر سکے۔‘

ٹموتھی لیزنر

ٹموتھی لیزنر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب دنیا کے طاقتور ترین بینکوں میں سے ایک، گولڈمین سیکس، اپنے کاروبار کو ایشیا میں پھپیلا رہا تھا تو اس وقت وہاں بینک کے روح رواں ٹموتھی لیزنر تھے۔

جب 2008 میں دنیا بھر میں کساد بازاری کا دور آیا تو یہ ٹموتھی لیزنر ہی تھے جنھوں نے اپنی کمپنی کو ایشیا سے اچھا خاصا منافع کما کر دیا اور انھیں خطے میں گولڈمین سیکس کے چیئرمین کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

لیکن ٹموتھی لیزنر کے ہاتھ ابھی وہ منافع نہیں آیا تھا جو آنے والے برسوں میں جھو لاؤ کے ساتھ کام کر کے ہونا تھا۔

ٹموتھی لیزنر سے پہلے گولڈمین نے مسٹر لاؤ کا اکاؤنٹ کھولنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ بینک کو مطمعن نہیں کر سکے تھے کہ انھوں نے دولت کن ذرائع سے بنائی ہے۔ لیکن امریکی استغاثہ کے مطابق بعد میں ٹموتھی لیزنر اور ان کے ایک ساتھی روجر نے مل کر مسٹر لاؤ کے طاقتور شخصیات سے رابطوں سے فائدہ اٹھایا اور گولڈمین کو نیا کاروبار دلوایا۔

بینک پر الزام ہے کہ اس نے سنہ 2012 اور 2013 میں ون ملائیشئن برہاد کے لیے محض تین بانڈ جاری کرنے میں فنڈ کی مدد کی اور 600 ملین ڈالر کی فیس لی۔

مسٹر لیزنر نے امریکی عدالت میں یہ جرم تسلیم کر لیا ہے کہ انھوں نے منی لانڈرنگ کی سازش کی تھی اور وہ غیر ملکی افسران کو رشوت دے کر انسداد بدعنوانی کے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ملائشیا نے بھی مسٹر روجر اور گولڈمین سیکس کے خلاف مقدمات قائم کر دیے ہیں، تام مسٹر روجر تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

بینک نے بھی الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان الزامات کا بھرپور دفاع کرے گا، تاہم بینک نے اس سارے معاملے میں مسٹر روجر کے کردار سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 2016 میں اپنے عہدے سے اسی وجہ سے ہٹا دیا گیا تھا کہ وہ دھوکہ بازی میں ملوث ہو گئے تھے۔ بینک نے اس حوالے سے معافی بھی مانگی تھی۔

لیکن ملائشیا کی حکومت نے یہ معذرت قبول نہیں کی ہے اور بینک سے کہا ہے کہ وہ زر تلافی کے طور پر ساڑھے سات ارب ڈالر حکومت کے کھاتے میں جمع کرائے۔

فلمی ستارے

میرنڈا کیر، پیرس ہلٹن اور لیونارڈو ڈیکیپریو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پیسہ بولتا ہے لیکن کیا فلمی ستاروں کی طاقت زیادہ زور سے بولتی ہے؟

ون ملائشین برہاد کے سکینڈل میں صرف بڑے بڑے سیاسی لوگوں اور سرمایہ کاروں کے نام نہیں ہیں کیونکہ مفرور جھو لاؤ ہالی وڈ کی صف اوّل کی شخصیات کے ساتھ بھی پارٹی کرتے رہے ہیں۔

اگرچہ ان میں سے کسی پر یہ الزام نہیں ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام کیا تھا، لیکن مسٹر لاؤ کے ساتھ ان کی پارٹیوں کا چرچا سوشل میڈیا پر ایک عرصے سے جاری ہے۔

لیونارڈو ڈیکیپریو کی وہ` والی فلم

آسکر ایوارڈ یافتہ لیونارڈو نے سنہ 2013 میں ’وولف آف وال سٹریٹ‘ نامی جس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے اس میں روسمہ منصور کے حقیقی اور نجیب رزاق کے سوتیلے بیٹے رضا عزیز نے بھی سرمایہ کاری کی تھی اور وہ اس کے پروڈیوسروں میں بھی شامل تھے۔

بینکوں اور کاروباری دنیا میں بدعنوانی کے موضوع پر بنائی جانے والی اس فلم پر لیونارڈو ڈیکیپریو کو گولڈن گلوب ایوارڈ بھی ملا تھا اور انھوں نے اس کے لیے مسٹر عزیز اور مسٹر لاؤ کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

لیونارڈو ڈیکیپریو اور جھو لاؤ پیرس میں فلم کے پریمئر کے موقع پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی محکمہ انصاف کے حکام کہتے ہیں کہ اس فلم میں سرمایہ کاری کے لیے جو پیسہ استعمال ہوا تھا وہ بھی ون ملائشین برہاد کے فنڈ سے چُرایا گیا تھا۔ فلم بنانے والی کمپنی ریڈ گرینائٹ اور امریکی حکومت کے درمیان اس حوالے سے عدالت سے باہر معاملات طے پا چکے ہیں۔

کمپنی کا موقف ہے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا جبکہ لیونارڈو نے امریکی حکام کو تعاون کا یقین دلاتے ہوئے پکاسو کی وہ بیش قیمت پینٹنگ بھی حکام کے حوالے کر دی ہے جو مبینہ طور پر مسٹر لاؤ نے انھیں تحفے میں دی تھی۔

کسام ڈین (عرف سوئز بیٹز) اور الیشیا کیز

یہ مشہور موسیقار اور ان کی اہلیہ کبھی مسٹر لاؤ کے حلقۂ احباب میں شامل تھے اور اکثر ان کی رنگین پارٹیوں کی تصویریں منظر عام پر آتی رہتی تھیں۔ ڈین نے مسٹر لاؤ کی اس بدنام زمانہ 31ویں سالگرہ کی پارٹی میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے تھے جس میں کیک پر برٹنی سپیئرز کی تصویر بھی تھی۔

جھولاؤ سوئز بیٹز اور الیشیا کی کے ہمراہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2014 میں موسیقار کی سب سے بڑی شام اور اس موقع پر بھی جھولاؤ سوئز بیٹز اور الیشیا کی کے ہمراہ وہاں موجود تھے

موسیقار کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انھوں نے ہی مسٹر لاؤ کو فلم کی دنیا سے متعارف کرایا تھا جس کے بعد مسٹر لاؤ نے وان گو کے فن پاروں کے علاوہ مشہور پینٹر مونے کی دو پینٹنگز بھی ون ملائشین برہاد کے پیسے سے خریدی تھیں۔

پیرس ہلٹن کی ساتھ پارٹیاں

ستاروں کی دنیا کی محفلوں میں ہوٹلوں کے مالک مشہور امریکی خاندان سے تعلق رکھنے والی مس پیرس ہلٹن بھی شامل تھیں جو اطلاعات کے مطابق سنہ 2009 میں مسٹر لاؤ سے ملی تھیں۔ اس کے بعد سے ان دونوں کو اکثر دنیا بھر میں اکٹھے پارٹیاں کرتے دیکھا گیا، لاس ویگس کے جوئے خانوں کی میزوں سے لیکر سینٹ ٹروپز کے جزیروں تک۔

میرنڈا کیر اور ایلوا ہسائو کے ساتھ رومانس

آخر آسٹریلیا کی سپر ماڈل اور تائیوان کی گلوکارہ کے درمیان قدر مشترک کیا ہے؟ جی ہاں، ان دونوں خواتین کے رابطے بھی کبھی مسٹر لاؤ سے تھے۔

دس دن تک یورپی سمندروں کی سیر اور نہایت مہنگی جگہوں پر ڈیٹنگ کے طویل سلسلے کے بعد مسٹر لاؤ نے دنیا کی مہنگی ترین سُپر ماڈلز میں سے ایک، میرنڈا کیر پر دولت نچھاور کرنا جاری رکھا اور انھیں ایسے قیمتی تحائف دیے جو کسی دوسری دنیا کی بات دکھائی دیتی ہے۔ ان میں دس لاکھ ڈالر کے ایکرولک کے بنے ہوئے ایک پیانو کے علاوہ گیارہ قیراط کے ہیرے والا ہار اور اس کے ساتھ کی بالیاں بھی شامل تھیں۔ تاہم، سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سے وہ زیورات کی شکل میں لاکھوں ڈالر امریکی حکام کو لوٹا چکی ہیں۔

تائیوانی گلوکارہ ایلوا ہسایو کو بھی مسٹر لاؤ ڈیٹ کے لیے دبئی لے گئے تھے جہاں انھوں نے ایک نجی ساحل پر کھانا بھی کھایا۔ بلین ڈالروھیل کے مصنفین کہتے ہیں کہ اس ڈیٹ پر مسٹر لاؤ نے کم و بیش دس لاکھ ڈالر خرچ کیے تھے۔

رپورٹرز

اگر کچھ صحافی اتنی جانفشانی سے کام نہ کرتے تو ون ملائشین برہاد کی کہانی کبھی پر منظر عام پر نہ آتی ہے۔ یہ لوگ ایک کے بعد دوسرا دھماکہ کرتے رہے اور اس فنڈ کے کرتا دھرتا لوگوں کو قانون کی لپیٹ میں آنے پر مجبور کر دیا۔

تین صحافی: بریڈلی ہوپ، کلئر ریوکاسل براؤن اور ٹام رائیٹ

،تصویر کا ذریعہAFP/WALL STREET JOURNAL

کلئر ریوکاسل براؤن

ایک عشرے سے زیادہ ہو گیا ہے جب اس ملائشین نژاد برطانوی صحافی نے ملائشیا کی سیاسی اشرافیہ کی کارستانیوں کا کھوج لگانے کا کام شروع کیا۔ وہ لندن میں اپنے فلیٹ میں بچوں کو سلانے کے بعد باورچی خانے کی میز پر بیٹھ کر اپنی ویب سائیٹ ’سراوک رپورٹ‘ پر کام شروع کر دیتی تھیں۔

کلئر براؤن کی ویب سائیٹ پر شروع شروع میں ملائشیا کی صرف ایک ریاست میں ہونے والے ایسے مالی لین دین کے بارے میں خبریں ہوتی تھیں جن سے بدعنوانی کی بو آ رہی تھی۔ تاہم بعد میں جب ون ملائشین برہاد نے اپنا شروع شروع کا ایک معاہدہ کیا تو کلئر براؤن کی توجہ اس جانب مبذول ہو گئی اور ان کو محسوس ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔

پھر 2013 کے آخری دنوں میں انھیں خبر ملی کہ نجیب رزاق کے سوتیلے بیٹے نے ’وولف آف وال سٹریٹ‘ کے نام سے ایک فلم بنائی ہے۔ کلئر براؤن کے بقول ’یہی وہ وقت تھا جب میں نے اس کا کھوج لگانا شروع کر دیا کیونکہ یہ ایک ایسی کھلی کہانی تھی جس سے میں نظریں چرا نہیں سکتی تھی۔`

اور جب انھوں نے اس فلم پر خرچ کی جانے والی بھاری رقم کا پیچھا کرنا شروع کیا تو ان کے ہاتھ ایک بڑی خبر آ گئی اور یہ ایک سیاسی خبر تھی جس پر ملائشیا میں موجود ان کے دوست وغیرہ یا تو کام کر نہیں سکتے تھے یا کرنا نہیں چاہتے تھے۔

سنہ 2015 کے اوائل میں دو لاکھ سے زیادہ دستاویزات کا ایک پلندہ کلئر براؤن کے ہاتھ آ گیا جو سوئٹزر لینڈ سے زیوئرجسٹو نے انھیں بھیجا تھا۔ ان دستاویزات میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا گیا تھا کہ جھو لاؤ کے ایک ذاتی اکاؤنٹ میں اچانک سات سو ملین ڈالر جمع کرائے گئے تھے اور یہ بھاری رقم ون ملائشین برہاد کے ایک ٹھیکے کے بعد انھیں دی گئی تھی۔

اس کے چند ماہ بعد کلئر براؤن نے ’سنسنی خیز انکشافات‘ کی شہ سرخی کے ساتھ ایک خبر شائع کی جس میں الزام لگایا گیا کہ سنہ 2013 میں وزیر اعظم نجیب رزاق کے اکاؤنٹ میں تقریباً سات سو ملین ڈالر جمع کرائے گئے تھے۔ ملائشین حکام نے فوراً ان کی ویب سائیٹ کو بلاک کر دیا اور ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔

پھر کیا تھا ’دیکھتے ہی دیکھتے مجھے دنیا بھر سے فون آنا شروع ہو گئے اور لوگ مزید معلومات دینے لگے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان معلومات کا دفاع کرنا میرا کام تھا۔ جب بدعنوانی کے اس معاملے کی خبریں عروج پر تھیں تو کرائے کے لوگوں کو میری کلائی مروڑنے کے لیے میرے پیچھے لگا دیا گیا۔ ان لوگوں نے ہر جگہ میرا پیچھا کرنا اور تصویریں لینا شروع کر دیں۔ ۔ ۔ مجھے پولیس کے ہاس جانا پڑ گیا۔‘

ٹام رائیٹ اور بریڈلی ہوپ، وال سٹریٹ جنرل

ان دونوں نے 2018 میں جو کتاب ’بلین ڈالر وھیل‘ لکھی تھی اس میں مسٹر لاؤ کی مبینہ بدعنوانیوں کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا اور یہ کتاب چند ہی دن میں ملائشیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گئی۔

لیکن ٹام رائیٹ اور بریڈلی ہوپ نے ون ملائشین برہاد پر کام برسوں پہلے اس وقت شروع کر دیا تھا جب یہ دونوں امریکی روزنامے ’وال سٹریٹ جنرل‘ میں بطور رپورٹر کام کر رہے تھے۔

بریڈلی ہوپ کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر خبریں دو ہزار الفاظ سے زیادہ کی نہیں ہوتیں، اور ہمیں محسوس ہوا کہ ہمیں اپنی خبروں سے بہت سی حیران کن تفصیلات نکالنا پڑ جاتی ہیں۔ ہمیں لگا کہ لوگوں کو بھی اس سکینڈل کی تفصیلات جاننے میں دقت ہو رہی ہے اور ہمارے پاس مسٹر لاؤ کے کردار کے حوالے سے ایک زیادہ رنگین کہانی موجود ہے۔

بریڈلی ہوپ کے بقول ان کی کتاب نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ سکینڈل ملائشیا کے لیے کتنا برا ثابت ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سکینڈل کے حوالے سے دنیا میں اتنا شور اور غلط معلومات پھیلائی جا رہی تھیں کہ ’اس ساری چیز کو ایک جگہ جمع کرنے، ایک ایک حقیقت کو کھول کر بیان کرنے سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ معاملہ دنیا کا ایک سب سے بڑا مالی سکینڈل بن چکا ہے۔ بلین ڈالر وھیل نے یہ دکھایا کہ اس سکینڈل کے کس مرحلے پر کیا ہوا اور اس کتاب سے ملائشیا میں عام لوگوں کو بھی معلوم ہوا کہ یہ سب ہوا کیسے۔‘

ہو سکتا ہے کہ اس کتاب نے عالمی سطح پر بھی اس دباؤ میں اضافہ کیا ہو کہ مسٹر جھو لاؤ کو تلاش کرنا ضروری ہے۔

بریڈلی ہوپ کا مزید کہنا تھا کہ ’ قارئین نے ہمیں خط لکھے اور سیاستدان (مہاتیر محمد اور وزیر مالیات لِم گوئن) ہماری کتاب کو بطور سند پیش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اب یہ کتاب دنیا کے ان لوگوں نے بھی پڑھنا شروع کر دی ہے جنھوں نے ون ملائشین برہاد کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ یہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ وہ کتاب میں مکمل ڈوب گئے تھے۔‘

ایج ملائشیا

جب 2015 میں یہ سکینڈل اپنے عروج پر تھا اور اگر آپ ان دنوں میں صرف ملائشیا کے اخبار پڑھتے یا مقامی ٹی وی چینلز دیکھ رہے ہوتے تو آسانی سے بے وقوف بن جاتے اور سوچتے کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ ملائشیا کے صحافیوں اور مدیروں کو جلد ہی معلوم ہو گیا تھا کہ اس سکینڈل کے بارے میں خبریں دینا خطرے سے خالی نہیں اور اگر ایسا کرتے ہیں تو ان کے اخباروں اور چینلز کے لائسینس منسوخ کر دیے جائیں گے۔

لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جنھوں نے ان خطرات کے باوجود کام جاری رکھا اور پھر اس کی قیمت بھی ادا کی۔ ان میں سے ایک ’دی ایج میڈیا گروپ‘ تھا۔

اس گروپ سے منسلک اخبار نے جب اس فنڈ کی سرگرمیوں کی تفتیش کے بارے میں خبریں دینا شروع کیں تو اخبار کا لائسینس معطل کر دیا گیا اور کہا گیا کہ آپ ’ایسی خبریں شائع کر رہے ہیں جس سے امن عامہ میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔‘

اس وقت کے اخبار کے مدیر ہو کے تات کہتے ہیں کہ ’اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ ہمارا منہ بند کرنے کے لیے انھوں نے اخبار ہی بند کر دیا۔‘

ٹونی پُوا

Tony Pua

ملائشیا میں ون ملائشین برہاد کے خلاف جاری مقدمے میں حکومت کی نمائندگی ایک قانون ساز، ٹونی پُوا، کر رہے ہیں اور یہ نجیب رزاق کے دور میں حزبِ اختلاف کے وہ رکن اسمبلی تھے جو اس سکینڈل کے حوالے سے پارلیمان میں مسلسل سوال اٹھاتے رہے۔

اب ان کی جماعت حکومت میں ہے لیکن مسٹر پُوا اب بھی سابق وزیر اعظم کا نام حقارت سے لیتے ہیں اور انہیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔

سنگاپور کے دورے کے دوران انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نجیب رزاق انتہائی بدعنوان شخص ہیں۔ جب بھی عدالت میں ان کے بیانات کے حوالے سے کوئی مخمصہ پیدا ہو گا تو میں وہاں پہنچ کر کارروائی کو درست سمت پر ڈالتا رہوں گا۔‘

مسٹر پُوا آج کل ملک کے وزیر مالیات کے سیکرٹری بھی ہیں جو ون ملائشین برہاد کے معاملے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ہیں اور مسٹر پُوا کا کہنا ہے کہ ان کی ’ساری توجہ اسی بات پر ہے کہ ملک کی معیشت کو پہنچائے جانے والے نقصان کا ازالہ ہو۔‘

ان کے بقول ’یہ معاشی سکینڈل ماضی کی بات ہے اور اب مزید کوئی ہیرا پھیری نہیں ہو گی۔ اس وقت صفائی کا عمل جاری ہے۔ ہمیں ملک میں معاشی ترقی کو بہتر کرنا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ ون ملائشین برہاد کے باب کو بند کرنا ہے۔‘

رنگا رنگ شخصیت کے مالک مسٹر پُوا اکثر یو ٹیوب کے ذریعے بھی اس سکینڈل کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ ان کے بقول ’میں حقائق جانتا ہوں اور میں ان کا برملا اظہار بھی کرتا ہوں۔ میں باخبر لوگوں اور دستاویزات سے معلومات اکھٹی کرتا ہوں اور ان کو جوڑ کر کہانی بناتا ہوں اور لوگوں کو بتاتا ہوں کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔‘

لیکن ان کا کہنا ہے کہ مسٹر نجیب کے خلاف عدالتی کارروائی ’صرف آغاز‘ ہے اور اس معاملے کی سماعت میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ یہ معمہ اب تقریباً حل ہو چکا ہے لیکن ابھی اس کے کچھ ٹکڑے ملنا باقی ہیں۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ نجیب رزاق کے مقدمے میں مزید راز بھی سامنے آئیں گے۔‘

کئی مرتبہ تاخیر کے بعد مسٹر نجیب کے خلاف مقدمے کی کارروائی آخر کار بدھ تین اپریل کو شروع ہو گئی ہے۔

مزید دو مقدمات کی سماعت کی تاریخیں بھی طے پا چکی ہیں۔

اگر ان پر الزام ثابت ہو جاتے ہیں تو مسٹر نجیب رزاق کو برسوں جیل میں گزارنا پڑ سکتے ہیں جبکہ مسٹر لاؤ ابھی تک مفرور ہیں۔

گرافکس بشکریہ: ڈیویز سریا اور ارون سپریادی، جکارتہ