ملائشیا: سکولوں کی لڑکیاں بد روحوں کے چنگل میں یا ذہنی دباؤ کا شکار

،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC
- مصنف, ہیدر چین
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ملائشیا

اس دن جمعہ تھا اور سہ پہر کا وقت، جب شمال مشرقی ملائشیا کے ایک سکول میں اچانک شور شرابا شروع ہو گیا اور افراتفری پھیل گئی۔ اس بگھدڑ کا مرکزی کردار ایک سترہ سالہ لڑکی سیتی نورالنساء تھی۔
سیتی بتاتی ہیں کہ اصل میں ہوا کیا تھا:
’ اسمبلی کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔
اس وقت میں اپنے ڈیسک پر بیٹھی تھی اور مجھے نیند آ رہی تھی۔ اچانک مجھے لگا کہ کسی نے بہت زور سے میرے کاندھے پر ہاتھ مارا۔
میں دیکھنے کے لیے پیچھے مڑی کہ کس نے مجھے اتنے زور سے مارا ہے۔
میں جیسے ہی پیچھے مڑی تو پورا کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔
میں خوفزہ ہو گئی۔ میری کمر میں بہتدرد ہونے لگا، شدید چکر آنے لگے اور میں زمین پر گر گئی۔
اس سے پہلے کہ مجھے کچھ پتہ چلتا، میں ’کسی دوسری دنیا‘ میں پہنچ چکی تھی جہاں ہر طرف خون ہی خون اور وحشت تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے جو سب سے زیادہ ڈراؤنی چیز دیکھی وہ شیطان کا چہرہ تھا۔
وہ مسلسل مجھے ڈرا رہا تھا اور میرے لیے اس سے فرار ممکن نہیں تھا۔ میں نے چیخنے کے لیے اپنا منہ کھولا لیکن میری آواز بند ہو چکی تھی۔
اور پھر میں بے ہوش ہو گئی۔‘

سیتی کی اس حالت کی وجہ سے پورے سکول میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور چند ہی منٹ میں دوسری کلاسوں کی لڑکیوں نے بھی چیخنا چلانا شروع کر دیا اور ان کے رونے کی آوازیں تمام کمروں اور ہال میں گونجنے لگیں۔
ایک اور لڑکی کو بھی کوئی ’تاریک سایہ‘ دکھائی دیا اور وہ بھی بےہوش ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

دیکھتے ہی دیکھتے کیترہ نیشنل سیکنڈری سکول کی لڑکیوں اور سٹاف نے خود کو کمروں میں بند کر لیا اور سکول انتظامیہ نے روحانی علاج کے ماہر لوگوں کو بلا لیا تا کہ وہ خصوصی نماز اور دعائیں کر کے سکول کو شیطانی سائے سے نجات دلائیں۔
اور جب دن کا اختتام ہوا تو بتایا گیا کہ اس وقت تک 39 لڑکیوں کو شدید اعصابی تناؤ کی وجہ سے ہسٹیریا کے دورے پڑ چکے تھے۔

ہسٹیریا کیا ہوتا ہے؟
اس کیفیت کو اجتماعی ہسٹیریا یا اجتماعی خلجان کی کیفیت کہتے ہیں جو تیزی سے پورے گروہ میں پھیل جاتی ہے، بغیر کسی وجہ کے لوگوں کی سانس پھول جاتی ہے اور وہ بےچین ہو جاتے ہیں۔
معروف امریکی میڈیکل سو شیالوجسٹ رابرٹ بارتھلمیو کہتے ہیں کہ یہ کیفیت دراصل شدید دباؤ کے اجتماعی رد عمل کے طور پر ہوتی ہے جس میں گروہ میں شامل اکثر لوگوں کا اعصابی نظام بہت تیزی سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اس قسم کا اجتماعی ہِسٹیریا کیوں ہوتا ہے، اسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور نہ ہی ’ماس ہسٹیریا‘ کا اندراج ذہنی امراض کی فہرست میں کیا جاتا ہے۔ لیکن، کنگز کالج ہاسپٹل لندن سے منسلک ڈاکٹر سائمن ویزلی جیسے ذہنی امراض کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ایک ’اجتماعی رد عمل یا رویہ‘ ہوتا ہے۔
اس کیفیت سے جو لوگ گزر رہے ہوتے ہیں ان کی علامات حقیقی ہوتی ہیں، یعنی واقعی ان کا دل ڈوب رہا ہوتا ہے، سر میں درد ہوتا ہے، سانس پھول جاتی ہے، جی متلانے لگتا ہے، حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو باقاعدہ دورہ پڑ جاتا ہے۔
ڈاکٹر سائمن ویزلی بتاتے ہیں کہ اس انفرادی کیفیت کے کسی پورے اجتماع یا گروہ میں پھیل جانے میں جن چیزوں کا عمل دخل ہوتا ہے وہ اصل میں نفسیاتی اور معاشرتی عوامل ہوتے ہیں۔


،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

اس قسم کے واقعات کے شواہد ہمیں پوری دنیا سے ملتے ہیں اور کئی ممالک میں قرون وسطیٰ کی کتابوں وغیرہ میں اس کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جہاں تک ملائشیا کا تعلق ہے تو یہاں سنہ 1960 کے عشرے میں فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں اجتماعی ہسٹیریا خاصا عام تھا۔ آج کل یہ ملائشیا میں سکولوں اور ہاسٹل میں رہنے والے بچوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

رابرٹ بارتھلمیو کئی برس سے ملائیشا میں اس اجتماعی ذہنی کیفیت کا مطالعہ کر رہے ہیں اور وہ ملائشیا کو ’دنیا میں اجتماعی ہسٹیریا کا سب سے بڑا مرکز‘ قرار دیتے ہیں۔
ان کے بقول ’ملائشیا ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مذہب اور روحانیت لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہے، خاص طور وہ لوگ جو دیہات اور زیادہ قدامت پسند گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں، وہ لوک کہانیوں اور مافوق الفطرت عوامل کی طاقت میں یقین رکھتے ہیں۔‘
لیکن، اس کے باجود ملائشیا میں یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے حساس سمجھا جاتا ہے۔
اس قسم کے واقعات، باقی برادریوں کی نسبت، ملے برادری کی لڑکیوں میں زیادہ عام ہیں۔ یاد رہے کہ ملے برادری ملائشیا کی ایک اقلیتی برادری ہے۔
مسٹر بارتھلمیو کہتے ہیں کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ چیز خواتین میں بہت زیادہ ہوتی ہے، اور (ذہنی اور طبعی امراض کے ) علمی مواد میں سب کا اس بات پر اتفاق ہے۔


،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

ملے کمیونٹی کا پڈانگ لیمبک نامی گاؤں کلینٹن صوبے کے دارالحکومت کوٹا بھرو کے نواح میں ایک سرسبز مقام پر واقع ہے۔
یہ ایک ایسا چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا ہے، یعنی ایسا دیہات جو ملائشیا کے اکثر لوگوں کو ان کے ماضی کے پرسکون ملائشیا کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں کچھ ریستوران ہیں، بیوٹی پارلر ہیں، ایک مسجد ہے اور ایک اچھا سکول بھی۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

سیتی نورالنسا اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک عام سے گھر میں رہتی ہیں جسے آپ اس کی سرخ چھت اور سبز دیواروں سے آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ باہر ایک پرانی موٹر سائیکل بھی کھڑی ہے جو سیتی اور ان کی بہت اچھی سہیلی، رشیدہ روزلان کی مشترکہ سواری ہے۔
’جس دن مجھے ’بدروحوں‘ نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا، اس صبح بھی ہم دونوں اسی موٹر سائیکل پر سکول گئے تھے۔‘


،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

ہر نوجوان لڑکی کی طرح سیتی پر بھی ذہنی دباؤ کے اثرات ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا سنہ 2018 میں تھا جب وہ سکول کے آخری سال میں تھیں اور سالانہ امتحان ہونے والے تھے۔
’میں کئی ہفتوں سے امتحانوں کی تیاری کر رہی تھی، تمام نوٹس یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن کچھ گڑ بڑ تھی، کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ کوئی بھی چیز میرے دماغ میں بیٹھ نہیں رہی۔‘
اور پھر جب جولائی میں یہ واقعہ پیش آیا تو اس کے بعد سیتی نہ سو پا رہی تھیں اور نہ ہی ٹھیک سے کھا رہی تھیں۔ ان کی طبیعت بحال ہونے میں ایک مہینہ لگ گیا اور اس کے بعد بھی جب انھوں نے سکول جانا شروع کیا تو وہ بمشکل نارمل محسوس کر رہی تھیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ہسٹیریا کا اجتماعی دورہ اس وقت پڑتا ہے جب گروپ میں کسی ایک شحض کو ایسا محسوس ہونا شروع ہوتا ہے۔ اس پہلے شخص کو ’انڈیکس کیس‘ کہا جاتا ہے۔
اس کہانی میں ایڈیکس کیس سیتی تھیں۔
رابرٹ بارتھلمیو بتاتے ہیں کہ ہسٹیریا ’ایک رات‘ میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ پہلے ایک بچے کو ہوتا ہے اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ دوسروں تک پھیل جاتا ہے کیونکہ ان تمام بچوں کے دماغ میں ایک پریشر کُکر کی طرح دباؤ جمع ہوتا ہے۔
جب تمام بچے شدید ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں تو پھر پورے گروپ کو ہسٹیریا ہونے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے ہوتا کہ ایک کلاس فیلو ذہنی دباؤ سے بے ہوش ہو جائے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیفیت دوسرے بچے پر بھی طاری ہو جائے۔


،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

رشیدہ کبھی بھی بھُلا نہیں سکتیں کہ ان کی بہترین دوست سیتی نورالنسا کس حال میں تھی۔ ان کے بقول ’سیتی بالکل بے قابو ہو کر زور زور سے چیخ رہی تھی۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کریں۔ ہم اتنے خوفزدہ ہو گئے تھے کہ سیتی کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈر رہے تھے۔‘
رشیدہ اور نورالنسا ہمیشہ سے ایک دوسرے کے بہت قریب رہی ہیں، تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران ان دونوں کا رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔ رشیدہ کہتی ہیں کہ ’ہم دونوں جب اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمیں اسے بھول کر آگے بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔‘

باہر سے دیکھیں تو سیتی اور رشیدہ کا سکول آپ کو ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسے ملائشیا کے اس علاقے میں ہائی سکول ہوتے ہیں، یعنی بڑے بڑے درختوں کے سائے میں گھری ہوئی شوخ ہرے رنگ والی عمارت۔
سکول کے سامنے ’آنٹی زین‘ کا ڈھابہ ہے جہاں سے سکول کی لڑکیاں بڑے شوق سے چاول کے مختلف پکوان کھاتی ہیں۔ آنٹی زین بتاتی ہیں کہ گزشتہ سال اُس صبح خاصا حبس تھا، وہ اپنے ٹھیلے پر کھانا تیار کر رہی تھیں کہ اچانک سکول سے چیخوں کی آوازیں آنے لگیں۔
’چیخنے کی آوازیں اتنی زیادہ تھیں کہ انسان بہرہ ہو جائے۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کم از کم نو لڑکیوں کو دیکھا جنھیں مختلف کمروں سے اٹھا کر باہر لایا جا رہا تھا۔ یہ لڑکیاں ہاتھ پاؤں مار رہی تھیں اور سب چیخ رہی تھیں۔ ’یہ بڑا دلخراش منظر تھا۔‘
کچھ دیر بعد انھوں نے دیکھا کہ کوئی پیر صاحب اپنے شاگرد کے ساتھ وہاں پہنچے اور سکول کے اس چھوٹے سے کمرے میں چلے گئے جو نماز کے لیے مختص ہے۔ ’یہ دونوں کئی گھنٹے تک اس کمرے میں موجود رہے۔ اس دن جو ان لڑکیوں پر گزری، مجھے اسے دیکھ کر بچیوں پر بہت ترس آ رہا تھا۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

جولائی 2018 کے اس واقعے کے بعد سے سکول میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
سکول انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کی غرض سے ہم نے اپنے سکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا اور سٹاف کے ایک اہلکار کو تبدیل بھی کیا۔‘
اہلکار کے مطابق سکیورٹی انتظامات میں بہتری کے علاوہ، سکول میں نماز کا انتظام بھی متعارف کرایا گیا ہے اور بچوں کے لیے نفسیاتی بہبود کی کلاسیں بھی شروع کی گئی ہیں۔
’سب سے پہلے سکیورٹی آتی ہے، لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس قسم کے واقعے کے بعد بچوں کی بحالی کے لیے دیگر اقدامات کرنا بھی اہم ہوتا ہے۔‘
اہلکار کی باتوں سے یہ واضح نہیں ہوا کہ روحانی اور نفسیاتی بحالی کی ان کلاسوں میں کیا ہوتا ہے، اور آیا یہ پروگرام ترتیب دینے میں ذہنی امراض کے کسی ماہر سے مشورہ بھی کیا گیا یا نہیں۔ اہلکار نے ہمیں اس حوالے سے مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔
لیکن رابرٹ بارتھلمیو جیسے ماہرین کا پرزور مطالبہ ہے کہ ملائشیا میں سکولوں کے لڑکے لڑکیوں کو ہسٹیریا جیسے مسائل کے بارے میں تعلیم دینا ضروری ہے، کیونکہ ملک میں یہ مسئلہ خاصا زیادہ ہے۔
مسٹر بارتھلمیو کہتے ہیں ان بچوں کو بتایا جانا چاہیے کہ اجتماعی ہسٹیریا کیوں ہوتا ہے اور یہ کس طرح پھیلتا ہے۔ ’ان کے لیے یا بات سمجھنا بھی اہم ہے کہ ذہنی دباؤ اور پریشانی سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔‘
ہم نے ملائشیا کی وزارتِ تعلیم سے بھی اس حوالے سے رائے جاننے کی کوشش کی، تاہم انھوں نے ابھی تک ہماری درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

کیلنٹان کے صوبے میں کتیرہ سیکنڈری سکول جیسے 68 سیکنڈری سکول ہیں، لیکن یہ وہ اکیلا سکول نہیں ہے جہاں اجتماعی ہسٹیریا کے واقعات پیش آئے ہیں۔
سنہ 2016 کی ابتدا میں صوبے کے کئی سکولوں میں اس قسم کے واقعات ہوئے تھے، جہاں ایک مقامی رپورٹر کے مطابق ’حکام اتنے زیادہ واقعات پر کنٹرول نہیں کر سکے اور انھیں صوبے کے تمام سکول بند کرنا پڑے۔‘
مذکورہ رپورٹر اور ان کے ساتھی کیمرا مین کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس سال اپریل میں یہاں حالات کیا تھے۔
کیمرا مین شائی لِن کہتے ہیں کہ ’یہ اجتماعی ہسٹیریا کا موسم تھا اور ہر طرف اس قسم کے واقعات ہو رہے تھے، اور یہ وبا کی طرح ایک سکول سے دوسرے میں پھیل رہا تھا۔‘
کتیرہ کے قریب کے قصبے پینگکلان چیپا میں ہونے والے واقعے کو ذرائع ابلاغ میں بھی خاصی توجہ دی گئی۔ میڈیا میں آنے والی خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ کس طرح طلبا اور اساتذہ کو سکول کی عمارت کے کسی کونے میں کوئی ’سایہ‘ دکھائی دیتا تھا جس کے بعد کوئی چیز انھیں ’جکڑ‘ لیتی تھی۔ اس سائے یا بدروح سے تقریباً ایک سو طلبا اور اساتذہ متاثر ہوئے تھے۔


،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

پینگکلان چیپا کے سیکنڈری سکول سے تعلیم مکمل کرنے والی ایک لڑکی، سیتی عین بتاتی ہیں کہ ان کا سکول پورے ملائشیا میں وہ سکول تھا جہاں بدروحوں کا سایہ سب سے زیادہ خوفناک تھا۔
سیتی عین کی عمر اب 18 سال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بدروحوں کا خوف صرف چند گھنٹے کا ہی تھا، لیکن لڑکیوں کی زندگی معمول پر واپس آنے میں کئی ماہ لگ گئے تھے۔
باسکٹ بال کے کورٹ کے قریب کٹے ہوئے درختوں کے تنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیتی عین نے بتایا کہ ’یہ وہ جگہ ہے جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا۔ میری سہیلیوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہاں لگے ہوئے گھنے درختوں کے درمیان ایک عورت کو کھڑے دیکھا تھا۔‘
’میں وہ سایہ دیکھ نہیں سکی جو میری سہیلیاں دیکھ رہی تھیں، لیکن میری دوستوں پر اس سائے کے اثرات صاف نظر آ رہے تھے۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

ملائشیا میں بُھوتوں کی کہانیوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے اور اس کی جڑیں یہاں کی قدیم مذہبی روایات اور لوک کہانیوں میں بھی نظر آتی ہیں۔
یہاں بچے اُن مردہ بچوں کی کہانیاں سنتے رہتے ہیں جنھیں مقامی زبان میں ’توئل‘ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون چوسنے والی ایک خوفناک چڑیل کے قصے بھی سنتے رہتے ہیں جو انسانوں کو زندہ کھا جاتی ہے۔
اس قسم کی ڈراؤنی کہانیوں میں پرانے گھنے درختوں اور قبرستانوں کا ذکر بہت ہوتا ہے۔ اس قسم کے مقامات کا ذکر بچوں میں خوف پیدا کر دیتا ہے اور بھوت پریت میں بچوں کا یقین مزید پختہ ہوتا جاتا ہے۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

یقین سے یہ بتانا مشکل ہے کہ اس دن پینگکلان چیپا کے سکول میں ہوا کیا تھا، لیکن سکول کی انتظامیہ نے کوئی وقت ضائع کیے بغیر اس مسئلے کی جڑ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
سیتی عین کے بقول ’ہم لوگ اپنے کمروں میں تھے اور ہم نے باہر دیکھا تو کچھ لوگ درخت کاٹنے کے لیے بڑی بڑی آریاں لیکر پہنچ گئے۔ پرانے درخت بڑے خوبصورت تھے اور انھیں ختم ہوتے دیکھ کر دکھ بھی ہو رہا تھا، لیکن میں سمجھ سکتی تھی کہ سکول والے ایسا کیوں کر رہے تھے۔‘
سکول کی اکثر لڑکیوں کی طرح سیتی عین بھی یہی سمجھتی ہیں کہ اس دن جو ہوا تھا وہ اجتماعی ہسٹیریا کا معاملہ نہیں تھا بلکہ کوئی مافوق الفطرت واقعہ تھا۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

لیکن یہ معاملہ صرف نہایت مذہبی علاقوں میں واقع اسلامی مدرسوں تک محدود نہیں۔
ملائشیا سے تعلق رکھنے والے امریکہ میں مقیم ماہرِ بشریات ڈاکٹر ازلی رحمان بتاتے ہیں کہ جب وہ سنہ 1976 میں امیر گھرانوں کے بچوں کے ایک بورڈنگ سکول میں رہتے تھے تو وہاں بھی اجتماعی ہسٹیریا کا واقعہ ہوا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ایک دن جب بچوں میں گائیکی کا مقابلہ ہو رہا تھا تو ایک لڑکی نے خوفناک انداز میں چیخنا شروع کر دیا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ اس نے ہال کے باہر دیکھا تو اسے ہاسٹل کی چھت پر ایک بودھ بھکشو دکھائی دیا جو کھڑا مسکرا رہا تھا۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

اس لڑکی کے ہسٹیریا سے 30 دیگر لڑکیاں بھی مثاتر ہوئیں اور سکول کو جن نکالنے والے پیر ( وِچ ڈاکٹر) بلانے پڑے۔
یہ افراد یا پیر زندہ اور مردہ انسانوں کے درمیان رابطے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، لیکن ڈاکٹر رحمان کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ اجتماعی ہسٹیریا کے اس قسم کے واقعات کو عقلی بنیادوں پر سمجھے۔

سیتی نورالنساء اور ان کے گھر والوں کو بھی بتایا گیا تھا کہ اجتماعی ہسٹیریا دراصل میڈیکل سائنس کا معاملہ ہے اور انھیں یہ بات سائنس کی زبان میں سمجھانے کی کوشش بھی کی گئی۔
لیکن ہر کوئی اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ مثلاً ایک سابق فوجی اور سیتی نورالنساء کے والد اعظم یعقوب کہتے ہیں کہ نفسیاتی طور پر ان کی بیٹی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ’جس کرب سے ہماری بیٹی گزری ہے، کوئی والدین نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہو۔‘
جب سیتی والا واقعہ پیش آیا تھا تو ان کے والد نے ذکی نام کے روحانی علاج کے ایک ماہر سے رابطہ کیا تھا جن کے پاس اس قسم کے علاج کا 20 برس کا تجربہ ہے۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

جب ہم کتیرہ میں ذکی کے مرکز پر پہنچے تو انھوں نے مسکراتے ہوئے ہمارا خیرمقدم کیا۔
امام ذکی قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں اور دیگر مسلمانوں کی طرح جنات پر یقین رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم انسان اس دنیا میں ایسی مخلوق کے ساتھ رہتے ہیں جو ہمیں دکھائی نہیں دیتی، یہ جِنّات اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی اور آپ برے جنات کو اپنے ایمان کے ذریعے شکست دے سکتے ہیں۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

امام ذکی کے مرکز کی سبز دیواروں پر قرآنی آیات آویزاں تھیں اور دروازے کے پاس دم کیے ہوئے پانی کی بھری بوتلیں بھی رکھی ہوئی تھیں۔
اور کھڑکی کے پاس ایک کونے میں عجیب و غریب اشیا پڑی تھیں، جن میں کچھ زنگ آلود چاقو، کنگھیاں، گول گول پتھر اور حتیٰ کہ ایک خشک سمندری گھوڑا بھی شامل تھا۔
امام ذکی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’ پلیز، کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا، یہ ساری چیزیں معلون ہیں یعنی ان پر خدا کی لعنت ہو چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

امام ذکی سے سیتی نورالنساء کی ملاقات سنہ 2018 میں اس وقت ہوئی تھی جب سکول والا واقعہ ہوا تھا۔
انھوں نے ہمیں فخر سے بتایا کہ ’میں تب سے سیتی کی رہنمائی کرتا رہا ہوں اور وہ میری مدد سے ٹھیک ہو رہی تھی۔‘
امام ذکی نے مجھے ایک لڑکی کی ویڈیو بھی دکھائی جس کا انھوں نے خود ’علاج‘ کیا تھا۔ ویڈیو میں لڑکی وحشیانہ طریقے سے فرش پر اچھلتی اور چیختی نظر آتی ہے، اور پھر دو مرد بڑی مشکل سے اس پر قابو پاتے ہیں۔
پھر چند ہی منٹ بعد ہمیں ذکی کمرے میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ لڑکی کی جانب بڑھتے ہیں جو بہت پریشان دکھائی دیتی ہے۔ ذکی لڑکی کا سر پکڑ کر کچھ قرآنی آیات کا ورد کرتے ہیں، جس کے بعد لڑکی پرسکون ہوتی دکھائی دیتی ہے۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

امام ذکی نے ہمیں بتایا کہ ’خواتین نرم طبیعت کی ہوتی ہیں اور جسمانی طور کمزور ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بھوت پریت خواتین پر زیادہ آسانی سے غلبہ پا لیتے ہیں۔‘
ذکی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس قسم کے کئی واقعات میں دماغی صحت کا عنصر بھی ہوتا ہے، لیکن وہ جِنوں کی طاقت کے بارے میں بڑی شد ومد سے بات کرتے ہیں۔
ان کے بقول ’سائنس بھی اہم ہے، لیکن سائنس مافوق الفطرت چیزوں کی پوری توجیح پیش نہیں کرتی۔ وہ لوگ جو جن وغیرہ کو نہیں مانتے، وہ اس وقت تک ان چیزوں پر یقین نہیں کر سکتے جب تک یہ خود ان کے ساتھ نہ پیش آئے۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

لیکن اس حوالے سے ملائشیا کے سب سے بڑے صوبے، پہانگ میں قائم اسلامی مفکرین کی ٹیم کے خیالات اور ہسٹیریا پر قابو پانے کے طریقے مسٹر ذکی جیسے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ متنازعہ ہیں۔
یہ ٹیم ’انسدادِ ہسٹیریا کِٹ‘ کے نام سے مختلف چیزوں کا جو مجموعہ فروخت کرتی ہے وہ انتہائی مہنگی ہے اور اس کی قیمت تقریباً دو ہزار ایک سو (2100) امریکی ڈالر ہے۔ اس کِٹ میں جو اشیاء شامل ہیں ان میں فورمِک ایسڈ، امونیا، آنکھوں میں مرچوں کی طرح چبھنے والا سپرے اور بانس کی بنی ہوئی چِمٹی ہوتی ہے۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

یہ کِٹ ڈاکٹر محی الدین اسماعیل نے ترتیب دی ہے اور ان کے بقول اس کا مقصد ’سائس اور مافوق الفطرت عوامل کو ملانا‘ تھا۔
’دو مقامی سکول ہماری بنائی ہوئی کِٹ استعمال کر کے ہسٹیریا کے سو سے زیادہ کیسز کو حل کر چکے ہیں۔‘
ڈاکٹر اسماعیل کے ان دعوؤں کے حق میں کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہیں۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

جب سنہ 2016 میں یہ کِٹ متعارف کرائی گئی تو اس پر کئی لوگوں نے تنقید کی تھی۔ مثلاّ ایک سابق وزیر خیری جمال الدین نے اسے ’دقیانوسی معاشرے کی علامت‘ قرار دیا تھا۔
’یہ ایک احمقانہ قسم کی توہم پرستی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملائشیا سائنس کو مانے اور نئی ایجادات کرے، نہ کہ مافوق الفطرت چیزوں پر یقین کرتا رہے۔‘
لیکن جہاں تک اجتماعی ہسٹیریا کے مسئلے کا تعلق ہے، یونیورسٹی پُترا ملائشیا سے منسلک ماہرِ نفسیات، عمرہ اسماعیل جیسے ماہرین مافوق الفطرت عوامل پر یقین کو رد نہیں کرتے۔
عمرہ اسماعیل کہتے ہیں کہ ’ملائشیا میں اس حوالے سے لوگوں کی ایک خاص سوچ ہے اور اس مسئلے کا بہتر عملی حل یہ ہے کہ اسے روحانی نظریات اور دماغی امراض کے علاج کو ملا کر دیکھا جائے۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

اگر ملائشیا کو دنیا میں اجتماعی ہسٹیریا کا سب سے بڑا مرکز کہا جائے تو ملک کے شمال مشرقی ساحل پر واقع کیلنٹان کے صوبے کو اس مرکز کا دل کہنا غلط نہیں ہوگا۔
رابرٹ بارتھلمیو کے خیال میں ’ہمیں یہ جان کر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اجتماعی ہسٹیریا کے واقعات ملائشیا کے اس صوبے میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں جو مذہبی اعتبار سے سب سے زیادہ قدامت پسند علاقہ ہے۔
کیلنٹان کو ملائشیا میں اسلام کا گڑھ سمجا جاتا ہے اور یہ ملک کے ان دو صوبوں میں سے ایک ہے جہاں حکومت حزب اختلاف کی قدامت پسند جماعت ’ملائشین اسلامِک پارٹی‘ کے ہاتھ میں رہی ہے۔
باقی ملک کے برعکس، سنیچر اور اتوار کے بجائے کیلنٹان میں ہفتہ وار چھٹی جمعرات اور جمعہ کو ہوتی ہے۔
مقامی بازار میں ٹھیلہ لگانے والی 82 سال روحیدہ راملی کہتی ہیں کہ ’یہ علاقہ ملائشیا کا ایک دوسرا رخ ہے۔ یہاں زندگی بہت سادہ ہے۔ دارالحکومت کوالالمپور کے برعکس، یہاں لوگ بہت زیادہ مصروف یا ذہنی دباؤ کا شکار نہیں ہوتے۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

کیا مذہب اور مافوق الفطرت عوامل پر یقین، ان دونوں کا آپس میں تعلق ہے؟
اس حوالے سے دانشور عفیق نور کہتے ہیں کہ کیلنٹان جیسے صوبوں میں، جہاں اسلامی قوانین کا سختی سے اطلاق کیا جاتا ہے، وہاں ہسٹیریا وبائی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس قسم کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔
’ملے برادری کی مسلمان لڑکیاں جن سکولوں میں جاتی ہیں وہاں مذہب پر سختی سے عمل کرایا جاتا ہے، ان لڑکیوں کو مخصوص لباس پہننا ہوتا ہے اور انہیں موسیقی سننے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ موسیقی کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔‘
ایک خیال یہ ہے کہ ہو سکتا ہے یہاں دماغی بے چینی کے زیادہ ہونے کی وجہ سکولوں کا سخت ماحول ہے۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

اجتماعی ہسٹیریا کے اس قسم کے واقعات میکسیکو، اٹلی اور فرانس کے کیتھولک مسیحیوں کے کانونٹ یا لڑکیوں کے مدرسوں اور کوسوو کے سکولوں میں بھی ہوتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے دیہی علاقوں کے لڑکیوں کے گروپس (چیئر لیڈرز) میں بھی اجتماعی ہسٹیریا کے واقعات ہو چکے ہیں۔
ان تمام کیسز میں ہر کسی کا اپنا ثقافتی ماحول ہے اور اس لحاظ سے ہر جگہ اجتماعی ہسٹیریا مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے۔ لیکن بنیادی طور یہ ایک ہی چیز ہے، اور ماہرین کے خیال میں سخت ماحول اور قدامت پسند روایات جیسے عوامل اور اجتماعی ہسٹریا میں واضح تعلق موجود ہے۔


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

نفسیاتی علاج کے سٹیون ڈائمنڈ جیسے ماہرین سمجھتے ہیں کہ اجتماعی ہسٹیریا کی درد، خوف اور شرمندگی جیسی علامات اس بات کا عکاس ہو سکتی ہیں کہ ہسٹیریا کا شکار شخص اصل میں توجہ چاہتا ہے اور توجہ نہ ملنے کی صورت میں اس کی پریشانی کا اظہار ہسٹیریا کی صورت میں ہوتا ہے۔
سنہ 2002 میں مشہور جریدے ’سائیکالوجی ٹوڈے، میں ایک مضمون میں سٹیون ڈائمنڈ کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ درد اور شدید خوف جیسی علامات سے ہسٹیریا میں مبتلا لوگ یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اصل جذبات کیا ہیں، وہ جذبات جن کا اظہار وہ کرنا نہیں چاہتے یا الفاظ میں اظہار کر نہیں سکتے۔‘

سنہ 2019 کا سال سیتی نورالنسا کے لیے قدرے پرسکون رہا ہے۔
’میں اس عرصے میں ٹھیک رہی ہوں، میں پرسکون رہی، اور اب کئی مہینوں سے میں نے کوئی بری چیز نہیں دیکھی ہے۔‘
سکول سے فارغ ہونے کے بعد سے سیتی نورالنسا کا اپنی زیادہ تر پرانی دوستوں سے رابطہ ختم ہو گیا، لیکن وہ اس پر پریشان نہیں ہیں کیونکہ سیتی نے مجھے بتایا کہ سکول کے دنوں میں بھی ان کی سہیلیوں کا گروپ چھوٹا ہی تھا۔
وہ جلد ہی یونیورسٹی جانا چاہتی ہیں، تاہم آج کل انہیں پڑھائی نہیں کرنا پڑتی۔


،تصویر کا ذریعہJoshua Paul for the BBC

جس دن میں سیتی نورالنسا سے ملی، اس نے مجھے سیاہ رنگ کا ایک چمکدار مائیکروفون بھی دکھایا۔
’میں فارغ وقت میں ہمشیہ موسیقی سے لطف اندوز ہوتی ہوں اور مجھے مشہور دھنوں پر گانا یا ’کیری اوکی` بہت پسند ہے۔ کیٹی پیری اور ملائشیا کی مشہور گلوکارہ سیتی نورالہدیٰ میری پسندیدہ سنگرز ہیں۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

ہسٹیریا کے مشکل دنوں میں ذہنی دباؤ کو ختم کرنے میں گانے نے سیتی نورالنسا کی بہت مدد کی اور اس ڈراؤنے تجربے کے بعد خود پر دوبارہ اعتماد بحال کرنے میں ان کے لیے گانے گانا بہت اچھا ثابت ہوا۔
’ذہنی دباؤ سے میرا جسم کمزور پڑ جاتا تھا، لیکن اب میں نے ذہنی دباؤ پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔ میرا ہدف یہ ہے کہ میں نارمل اور خوش زندگی گزاروں۔‘


،تصویر کا ذریعہJOSHUA PAUL FOR THE BBC

سیتی نورالنسا کی یہ بات سن کر میں نے ان سے پوچھا کہ مستقبل میں کیا کرنا چاہتی ہیں۔
’پولیس وومن بننا چاہتی ہوں۔ پولیس افسر بہادر ہوتی ہیں اور انھیں کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا۔‘

۔










