نیپلز کا نیپولیٹن پیزا: اٹلی کی پہچان سمجھا جانے والا پیزا کہاں سے آیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب آپ اطالوی کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں تو سب سے پہلے ذہن میں کیا آتا ہے؟
اٹلی کے دنیا بھر میں مقبول پکوانوں میں پیزا کا نام اکثر سب سے اوپر آتا ہے لیکن اٹلی کے پیزا میں خاص بات کیا ہے اور سب سے عمدہ پیزا آپ کہاں کھا سکتے ہیں؟
پیزا کا جنم اطالوی شہر نیپلز میں ہوا تھا۔ یہاں کے نام سے یہاں کا پیزا 'نیپولیٹن' مشہور ہے۔ اس شہر میں پیزا بنانے کی روایت کو 2017 میں یونیسکو نے یہاں کے ورثے کے طور پر بھی تسلیم کیا ہے۔
یہاں ایک ہی خاندان کی نسلیں برسوں سے پیزا بناتی اور سیکھتی چلی آ رہی ہیں۔ اٹلی میں نسلوں سے پیزا بنانے والے خاندان اپنی تکنیک میں اوروں سے جدا نسخوں کو بہت سنبھال کر رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس معاملے میں ان کے جذبے کا مقابلہ صرف ایک ہی بات سے کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے یہاں کے رہائشیوں کا اپنی فٹ بال ٹیم کے لیے پیار۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیزا نیوپولیٹانا کی تین قسمیں ہیں: پیزا مارگریٹا جس میں پیزا کے اوپر کی سطح پر ٹماٹر کی چٹنی، موزیریلا پنیر اور باسل یا تلسی کے پتے ڈالے جاتے ہیں۔ دوسری قسم ہے ماریانا جس میں پنیر نہیں ہوتا اور باسل کی جگہ اوریگانو اور لہسن کی ٹاپنگ ہوتی ہے۔
تیسرا ڈیزائن آف اوریجنل کنٹرول یا ڈی او سی یعنی اپنی قدیم اصل صورت میں پیزا جس میں گائے کے بجائے بھینس کے دودھ سے بنے موزیریلا پنیر کا استعمال ہوتا ہے۔
پیزا کا جنم 18ویں صدی میں ہوا جب سیاح پیرو سے یہاں ٹماٹر لے کر آئے لیکن اس سے بھی قبل نیپلز کے رہائشی روٹی کی شکل میں پیزا کی ایک شکل کھایا کرتے تھے۔ اٹلی میں روٹی عرب مہاجرین کے ذریعہ پہنچی جس نے بعد میں پیزا کی شکل اختیار کر لی۔
ابتدائی دنوں میں بہت سے دولتمند یورپی ٹماٹر کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اسے زہر آلود سمجھتے تھے۔ اس میں ٹماٹر کا کوئی قصور نہیں تھا۔
اکثر لوگ جستی برتنوں میں ترش پھل رکھ دیا کرتے تھے جس سے ان کی ہیئت خراب ہو جایا کرتی تھی۔
تاہم جس دور میں ملک کو قحط کا سامنا ہوا تو مقامی افراد نے اپنی روٹی میں ٹماٹر کی مدد سے لذت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ جلد ہی یہ نسخہ مقبول ہو گیا اور پیزا کی شکل اختیار کر چکی روٹی مقامی ڈش بن گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1861 میں ملک کے اتحاد کے بعد نانبائی رفیلو ایسپوسیتو نے 1889 میں پہلی مرتبہ مارگریٹا پیزا بنایا۔ انھوں نے پیزا کا نام ملکہ مارگریٹا ڈی سلوا کے نام پر رکھا تھا۔
پیزا کی ٹاپنگ کے طور پر استعمال کیے گئے ٹماٹر، پنیر اور تلسی کے رنگ اٹلی کے قومی جھنڈے کے رنگوں لال، سفید اور ہرے کی عکاسی کے لیے تھے اور اس طرح پیزا مارگریٹا کا جنم ہوا۔
آج کل صرف نیپلز میں 500 اقسام کے پیزا ملتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 100 کو ہی شہر کی پیزا ایسوسی ایشن نے سرٹیفِکیٹ دیا ہوا ہے۔ اس تنظیم کا قیام 1984 میں رکھا گیا تھا تاکہ تہذیبی طور پر اصل پیزا کی شناخت کی جا سکے۔
سرٹیفِکیٹ ملنے کی بنیاد پیزا کے معیار سے طے ہوتی ہے جس میں صرف پیزا میں استعمال ہونے والی چیزیں ہی شامل نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کس قسم کا آٹا استعمال کیا جاتا ہے، کون سا پنیر استعمال ہونا چاہیے اور یہ بھی کہ وہ کس درجہ حرارت پر پکایا جانا چاہیے۔
یہ تنظیم اب سالانہ ایک ایسے مقابلے کا انعقاد کرتی ہے جس میں دنیا کے بہترین پیزا بنانے والے شخص کا انتخاب ہوتا ہے۔
گذشتہ تین برس سے گرانی کے فرانکو گرانی یہ مقابلہ ہر برس جیت رہے ہیں۔ اٹلی میں ان دنوں فرانکو جیسے پیزا بنانے والوں کو کسی راک سٹار جتنی شہرت حاصل ہے۔
پیزا بنانا دیکھنے میں جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہے نہیں۔ اچھا پیزا بنانے کے لیے چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔
نیپلز میں گینو سوربیلو کی پیزا کی دکان شہر کی سب سے مشہور دکانوں میں سے ایک ہے۔ کچھ لوگ اس دکان کے پیزا کو شہر کا سب سے شاندار پیزا بھی قرار دیتے ہیں۔
یہ دکان گینو کے دادا نے 1935 میں کھولی تھی۔ نیپلز میں ان کے یہاں آنے والے گاہک یہ جاننے بھی آتے ہیں کہ اصل اور روایتی پیزا کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے۔
سوربیلو کی پیزا کی دکانیں اب ٹوکیو اور نیویارک میں بھی ہیں۔ وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ وہاں بھی پیزا بنانے کی ان کی خاندانی ترکیب کا خیال رکھا جائے اور اسی کے مطابق پیزا تیار ہو۔
نیپلز کو یہاں رہنے والوں کی غربت اور بےترتیبی کے لیے بھی اٹلی میں جانا جاتا ہے۔ جرائم بھی یہاں ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ ہیں۔
تاہم سوربیو کا کہنا ہے کہ 'مجھے لگتا ہے کہ میں نے نوجوانوں کو ایک امید بھی دی ہے کہ ہم یہاں نیپلز میں رہ کر بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں تاکہ انھیں محسوس ہو کہ انھیں بھی کچھ نیا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مستند نیپولیٹن پیزا کیسے بنتا ہے؟
اگر آپ نیپلز جا کر اصل اور روایتی پیزا کا مستند ذائقہ چکھ نہیں سکتے تو کیا ہوا، آپ اسے خود گھر پر بھی تیار کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ پیزا کے ڈوہ یا وہ روٹی جس کے اوپر ٹاپنگ سجائی جاتی ہے، اسے کیسے تیار کریں۔
اس کے لیے استعمال ہونے والا میدہ چھنا ہوا یعنی باریک ہونا چاہیے۔ خمیر تازہ ہونا چاہیے اور سوکھی خمیر بالکل استعمال نہ کریں۔
میدے کو ہاتھ سے گوندھیں۔ گندھائی کے بعد ہوا میں اچھال کر اسے پھیلانے کی کوشش کریں۔ اسے خاص طرح اچھالنا نیپولیٹن پیزا بنانے کے ماہر بخوبی جانتے ہیں۔
پیزا بنابے کے مختلف ماہر اپنے اپنے نسخے بتاتے ہیں۔ چیرو، سالوو شہر کے ایک اور مشہور نانبائی ہیں۔ وہ میدہ گوندھنے کے بعد اسے دس سے بارہ گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ آپ کس طرح کا ٹماٹر استعمال کر رہے ہیں اس سے بھی ذائقہ بڑی حد تک متاثر ہوتا ہے۔
پیزا پر استعمال ہونے والا موزیریلا پنیر بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ گائے کے دودھ سے بنا موزیریلا استعمال کرتے ہیں جبکہ کچھ بھینس کے دودھ پر زور دیتے ہیں۔
نیپولیٹن پیزا کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے کس طرح پکایا جاتا ہے۔ میدے سے تیار روٹی تین ملی میٹر سے زیادہ موٹی نہیں ہونی چاہیے اور اسے لکڑی سے جلنے والے تندور میں بہت تیز درجہ حرارت یعنی 485 ڈگری سیلسیئس پر، ایک سے ڈیڑھ منٹ تک پکایا جانا چاہیے تاکہ ڈوہ کُرکُری ہو کر پکے لیکن جلے نہیں۔
سننے میں یہ طریقۂ کار بہت ِآسان معلوم ہوتا ہے لیکن اصل میں چھوٹی چھوٹی باریکیوں سے ذائقے میں فرق آ جاتا ہے اور اسی لیے چند پیزا بنانے والوں کو اصل ماہر تصور کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
لیکن اگر آپ کے پاس اس معیار کا سامان نہیں ہیں جو ماہرین بتاتے ہیں، یا لکڑی سے جلنے والا تندور نہیں ہے تو بھی آپ یہ پیزا بنا سکتے ہیں۔
سوربیو کا کہنا ہے کہ صرف اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کا میدہ اور ٹماٹر کی چٹنی اچھی ہو اور گائے کے دودھ سے بنا تازہ پنیر آپ کے پاس ہو۔ انھوں نے بتایا کہ پیزا کا ذائقہ اس کے 'ڈو' یا روٹی پر بڑی حد تک منحصر ہوتا ہے۔

نیوپولیٹن پزا ایسوسی ایشن کی ڈوہ یا پیزے کی روٹی بنانے کی ترکیب
باریک میدہ: 450 گرام
پانی: 300 ملی لیٹر
تازہ خمیر: 03 گرام
نمک: 09 گرام
ایک بڑے برتن میں خمیر ڈال کر اسے پانی میں گھول لیں۔ اب میدے کا دو تہائی حصہ اس آمیزے میں ڈالیں۔ ایک بڑے چمچے سے سب کچھ ایک ساتھ ملائیں۔ اب نمک ملائیں اور باقی بچا ہوا میدہ بھی اس میں ڈال دیں۔ تب تک ملاتے رہیے جب تک سارا خشک میدہ نمی جذب کر لے۔
اب میدے کو گوندھیے۔ تب تک گوندھتے رہیے جب تک پھٹکیاں محسوس ہونا بند نہ ہو جائیں اور میدہ چکنا ہوتا ہوا محسوس ہونے لگے۔ اب اسے دس سے پندرہ منٹ کے لیے ڈھک کر رکھ دیں۔
گندھے ہوئے میدے پر تھوڑی خشکی لگا کر میز پر رکھیں۔ اسے خشکی کے ساتھ کچھ مرتبہ پرتوں میں لپیٹیں۔ اب اسے گول گھما کر گول لوئی کی شکل میں ڈھال لیں۔
لوئی کو تیل لگے ہوئے بیکنگ کے برتن میں رکھ کر کمرے کے درجہ حرارت پر سات سے آٹھ گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیں۔
اب لوئی کو کسی تسلے نما برتن میں رکھ کر پھیلائیے۔ میدے کو چپکنے سے بچانے کے لیے برتن میں تھوڑا تیل لگا لیں۔ آہستہ آہستہ انگلیوں سے پھیلاتے ہوئے اسے روٹی کی شکل میں بڑا کریں۔ اسے تب تک پھیلائیں جب تک پیڑے کی موٹائی تین ملی میٹر نا رہ جائے۔ اب اسے ڈھک کر مزید تین گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔
اب ڈو کے اوپر ٹماٹر کی چٹنی کی ایک پرت لگائیں اور تندور یا اون کی نچلی سطح پر 250 سے 280 کے درمیان درجہ حرارت پر پانچ سے چھ منٹ تک پکائیں۔
اب اسے نکال کر اوون کی اوپر کی سطح پر چھ سے آٹھ منٹ تک پکائیں۔ آخری تین منٹ شروع ہونے سے پہلے پیزا کو نکال کر اس پر موزیریلا کی پرت بچھائیں اور واپس اوون میں رکھ کر وقت پورا کر لیں۔
اگر آپ باسل یا پھر زیتون کا تیل استعمال کرنا چاہتے ہیں تو وہ پیزا کے پکنے کے بعد اس کے اوپر چھڑکیں۔
ماہرین کے مطابق آپ اپنے پیزا کی ٹاپنگ اپنی پسند کی کر سکتے ہیں۔ بس یہ خیال رہے کہ ٹاپنگز کب شامل کرنی ہیں۔
ٹماٹر کی چٹنی ڈال کر پانچ سے چھ منٹ اوون میں رکھنے کے بعد آپ زیتون اور لہسُن یا پالک ڈال کر چھ سے آٹھ منٹ تک پکا سکتے ہیں لیکن موزیریلا جیسی آسانی سے پگھلنے اور پکنے والی چیزیں آخری دو سے تین منٹ میں ڈالیں۔
پیزا تیار ہو جانے کے بعد ہی اس پر اوریگانو، باسل یا زیتون کا تیل ڈالیں اور آپ کا پیزا اب کھانے کے لیے تیار ہے۔
کبھی آپ کا پیزا اچھا بنے گا اور ہو سکتا ہے کبھی اچھا نہ بنے۔ لیکن کسی بھی اور ڈش کی طرح آپ جتنی مرتبہ پیزا بنائیں گے اس میں آپ کی مہارت بڑھتی جائے گی۔











