ملکہ الزبتھ اور شہزادہ ہیری شاہی جوڑے کے مستقبل پر بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی شہزادے ہیری کی جانب سے شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے اعلان کے بعد اب وہ پیر (کل) کو ملکہ الزبتھ سے ایک بالمشافہ ملاقات کریں گے جس میں وہ اپنے اور اپنی اہلیہ ڈچز آف سسیکس میگھن مارکل کے مستقبل کے کردار پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ شاہی خاندان کی ’سینیئر‘ شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مالی طور پر خودمختار ہونے کے لیے اقدامات کریں گے۔
اسی حوالے سے شاہی محل کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پیر کو ملکہ برطانیہ الزبتھ اور شہزادہ ہیری کے درمیان ملاقات میں شہزادہ چارلس اور شہزادہ ولیم بھی موجود ہوں گے۔
تاحال اس حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں کہ ملکہ کے ساتھ ہونے والی اس نشست میں کوئی حتمی فیصلہ ہو پائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے شاہی نمائندے جونی ڈائمنڈ پُرامید ہیں کہ یہ مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن کے شاہی خاندان کے ساتھ مستقبل میں کیا تعلقات ہوں گے۔ ملکہ الزبتھ بھی آنے والے دنوں میں اس معاملے کا حل نکالنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
تاہم انھوں نے مزید کہا ہے کہ اب بھی کئی ’بڑی رکاوٹیں‘ موجود ہیں جن کے بارے میں ان مذاکرات میں بات ہو گی۔
خیال ہے کہ شاہی جوڑے کے اعلان کے بعد شہزادہ چارلس، شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری مستقبل کے بارے میں متعدد امکانات کا جائزہ لیں گے۔ اگر آئندہ دنوں میں ایک معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے عمل درآمد کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا۔
جبکہ اس بات کی بھی تصدیق ہو چکی ہے کہ میگھن مارکل کینیڈا روانہ ہو چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دستبرداری کا اعلان
برطانوی شاہی خاندان کے شہزادہ ہیری اور ڈچز آف سسیکس میگھن نے اعلان کیا تھا کہ وہ شاہی حیثیت سے دستبردار ہو رہے ہیں اور مالی طور پر خودمختار ہونے کے لیے اقدامات کریں گے۔
ایک بیان میں برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنا وقت برطانیہ اور شمالی امریکہ کے درمیان گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ اس بیان سے پہلے ملکہ برطانیہ یا شہزادہ ولیم سمیت کسی شاہی خاندان کے فرد سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا اور بکنگھم پیلس اس سے ’مایوس‘ ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شاہی خاندان کے سینیئر ارکان کو اس اعلان سے ’دکھ‘ پہنچا ہے۔ گذشتہ اکتوبر میں ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس نے میڈیا کی زد میں رہنے کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔
کرسمس کے دوران بھی شاہی جوڑے نے اپنے شاہی فرائض سے چھ ہفتوں کا وقفہ لیا تھا اور کینیڈا میں اپنے بیٹے شہزادہ آرچی کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔ شہزادہ آرچی گذشتہ برس مئی میں پیدا ہوئے تھے۔

تجزیہ
جانی ڈائمنڈ، شاہی نامہ نگار
ممکن ہے کہ پیر کے روز ہونے والی نشست مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے ہونے والی ضروری ملاقاتوں کے سلسلے کی آخری ملاقات نہ ہو۔
لیکن محل کے عملے اور سرکاری ملازمین نے اس حوالے سے کافی پیشرفت کی ہے تاکہ شاہی خاندان کے سب سے سینیئر افراد مل بیٹھیں اور شہزادہ ہیری اور میگھن کے مستقبل کے حوالے سے چند ٹھوس تجاویز پر تبادلہ خیال کر سکیں۔
ابھی بھی بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی فرائض کی انجام دہی میں اپنا کتنا کردار دیکھتے ہیں۔
ملاقات میں شاہی محل اور شہزادہ ہیری اور میگھن کی نئی تنظیم کے مابین مالی اعانت اور رابطے جیسے امور بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔
موجودہ تعلقات پیچیدگیوں کا شکار ہیں مگر ایک نیا تعلق بنانا، جو کہ قائم رہ سکے، اس سے بھی زیادہ مشکل ہو گا۔
یہ کام (نیا تعلق) کرنے کی شدید خواہش ہے۔ لیکن یکساں طور پر یہ معاہدہ مضبوط اور قابل عمل ہونا چاہیے۔
یہاں مثال قائم کی جا رہی ہے- ایسا کرنے کا ایک طریقہ جو شاید آنے والے برسوں میں شاہی خاندان کے دیگر افراد بھی اپنائیں

جوڑے کے مومی مجسمے شاہی انکلوژر سے منتقل

،تصویر کا ذریعہ@MadameTussauds
اس سے قبل برطانیہ کے شاہی جوڑے، شہزادہ ہیری اور شہزادی میگھن مارکل کے مومی مجسموں کو لندن کے مومی مجسموں کے میوزیم مادام تساڈ کے شاہی انکلوژر سے منتقل کر دیا گیا تھا۔
منتقلی سے قبل ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کے مجسموں کو ملکہ برطانیہ اور ڈیوک آف ایڈنبرا، اور شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کے مجسموں کے ساتھ شاہی انکلوژر میں رکھا گیا تھا۔ تاہم میوزیم کی جانب سے اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان مجسموں کو کہاں رکھا جائے گا۔
میوزیم کے مطابق یہ فیصلہ شاہی جوڑے کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے سینیئر شاہی حیثیت سے ’دستبردار‘ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
میوزیم کے جنرل مینجر سٹیو ڈیویز نے بتایا کہ میگھن اور ہیری کی جوڑی کے مجسموں کا شمار ان کے میوزیم میں سب سے مقبول مجسموں میں سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بقیہ دنیا کی طرح ہم بھی ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کی سینیئر شاہی حیثیت سے دستربدار ہونے کے فیصلے پر ردِ عمل دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہVictoria Jone/PA
’آج کے بعد سے میگھن اور ہیری کے مجسمے شاہی خاندان کے مجسموں کے ساتھ نظر نہیں آئیں گے۔‘
مادام تساڈ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک تصویر جاری کی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہزادہ اور شہزادی کے مجسمے شاہی انکلوژر میں موجود نہیں ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس ٹویٹ کا عنوان تھا کہ ’ہمیں ان کی خواہشات کا احترام کرنا ہے۔‘
ڈیویز کا کہنا تھا کہ یہ مجسمے مادام تساڈ میوزیم کا ایک اہم حصہ رہیں گے، ’دیکھتے ہیں آگے اور کیا ان کا منتظر ہے۔‘
یاد رہے کہ بدھ کے روز ڈیوک اور ڈچز نے اعلان کیا ہے کہ وہ برطانیہ اور شمالی امریکہ کے درمیان اپنا وقت تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔











