ایرانی فوج کے کمانڈر قاسم سلیمانی پر حملہ، بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی پر عراق میں ڈرون حملے کا حکم دیا تھا جس میں وہ ہلاک ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ اِس اقدام کے قانونی جواز کیا تھے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے کیا گیا۔ تو بین الاقوامی قانون میں اِس حملے کی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے کن امور کو پرکھا جائے۔
قانون کیا کہتا ہے؟
اقوامِ متحدہ کا چارٹر کسی ریاست کو حملے کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن قانونی ماہرین کے خیال میں مختلف حکومتیں قانون کی اِس تعریف کی اپنی تشریح کرتی ہیں۔
آکسفرڈ یونیورسٹی میں پبلک انٹرنیشنل لاء اور مسلح تنازعات کے پروفیسر ڈاپو اکانڈے کہتے ہیں 'جنرل سلیمانی کے کیس میں امریکہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اُس نے ایک منڈلاتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے اپنے دفاع میں یہ قدم اٹھایا جو کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ایک جائز اقدام ہے۔`
لیکن ماورائے عدالت قتل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کیلامارڈ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اِس معاملے میں 'خطرے کو بھانپ کر اپنے دفاع' کی تعریف بہت محدود ہے۔ یہ صرف اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جب خطرہ فوری ہو، انتہائی شدید ہو اور اِس خطرے کو ٹالنے کے کوئی دوسرے ذرائع نہ ہو اور نہ ہی سوچ بچار کا وقت ہو۔ اِس قسم کے واقعات میں اِن شرائط کے پورے ہونے کا امکان کم ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
نشانہ وار قتل کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سنہ 2010 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر ماہرین کے خیال میں اپنے دفاع کے حق کے استعمال کا مطلب ہے کہ ’اصلی اور قریبی خطرے کی صورت میں جب اپنے دفاع کی فوری ضرورت ہو، خطرہ شدید ہو اور اسے ٹالنے کے کوئی دوسرے ذرائع نہ ہو اور نہ ہی سوچ بچار کا وقت ہو۔‘
امریکہ کے محکمۂ دفاع کے ابتدائی بیان میں لفظ ’فوری یا نزدیک‘ کو شامل نہیں کیا گیا اور کہا گیا کہ حملے کا مقصد ایران کی جانب سے مستقبل کے حملوں کو روکنا تھا کیونکہ ایران کے اعلی ترین فوجی کمانڈر جنرل سلیمانی عراق اور پورے خطے میں امریکی سفارتکاروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اِس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت امریکہ اہلکاروں کی جانب سے آنے والے بیانات میں کہا گیا کہ جنرل سلیمانی فوری حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔
ایران کی جانب سے حملوں کی منصوبہ بندی کے کیا شواہد ہیں؟
ڈاپو اکانڈے کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت امریکی حملے کے جواز کا دارومدار ان شواہد پر ہے جو امریکہ ایران کے حملوں کے بارے میں پیش کرے گا۔
امریکی حکومت اس بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کانگریس کی اہم شخصیات کو انٹیلیجنس معلومات بتائی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونیورسٹی کالج لندن میں بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر رالف وائلڈ کہتے ہیں ماضی میں امریکہ دوسرے جواز کا استعمال کرتا رہا ہے۔
’نائن الیون کے حملوں کے بعد سے امریکہ کا موقف یہ ہو گیا ہے کہ مستقبل کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے ’اپنے دفاع‘ کا جواز دیا جا سکتا ہے۔ صدر باراک اوبامہ کی حکومت میں ڈرون حملوں کے جواز میں یہی دلیل دی جاتی تھی کہ اگر حملے کا خطرہ فوری اور یقینی نہیں ہے تو بھی مستقبل کے حملے کو روکنے کے لیے جب اس کی منصوبہ بندی ہو رہی ہو اسی وقت اسے روکا جائے۔‘
کیا عراقی حکومت کی اجازت ضروری نہیں؟
ایک اور معاملہ یہ ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ کرتے وقت کیا امریکہ کو عراقی حکومت کی اجازت حاصل تھی۔ عراقی پارلیمنٹ کے ارکان کا ردِعمل سخت مخالفانہ تھا اور انھوں نے ایک قرار داد منظور کی جس میں کہا گیا کہ امریکی فوج عراق سے نکل جائِے۔
عراقی حکومت نے بھی اِس حملے کو ملکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
عراق میں امریکی فوج عراقی حکومت کی دعوت پر آئی تھی تا کہ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں حصہ لے۔
اب شاید امریکہ یہ موقف اختیار کرے کہ یہی دعوت کسی حد تک عراقی حکومت کی اجازت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے جو امریکہ کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ عراق کے اندر اپنے مفادات اور اہلکاروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔
لیکن ڈاپو اکانڈے کہتے ہیں کہ امریکی فوج جس معاہدے کے تحت عراق میں موجود ہے اُس میں اِس طرح کے حملے کی گنجائش نہیں ہے۔
کیا ثقافتی ورثے پر حملہ کیا جا سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ اگر ایران نے جنرل سلیمانی پر حملے کے جواب میں کسی بھی امریکی اثاثے پر حملہ کیا تو ایران کے 52 مقامات پر حملہ کیا جائے گا جن میں ثقافتی ورثے والے مقامات بھی شامل ہیں۔ ایران کے وزیرِ خارجہ نے جواب میں کہا تھا کہ ایسا کرنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی اینڈریا پراسو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کو سنگدلانہ طور پر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ امریکی حکومت کہتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق کام کرے گی۔
لیکن ثقافتی عمارات پر حملہ کئی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران ثقافتی ورثہ کے مقامات کو پہنچنے والے نقصان اور تباہی کے تناظر میں ثقافتی املاک کے تحفظ کے لیے سنہ 1954 کے ہیگ کنونشن میں ان مقامات کی حفاظت کا معاہدہ کیا گیا تھا اور امریکہ نے بھی اس پر دستخط کیے تھے۔
سنہ 2017 میں اقوام متحدہ نے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے حملوں کے جواب میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ’ ثقافتی ورثے سمیت مذہبی مقامات اور نوادرات کی غیر قانونی تباہی‘ کی مذمت کی گئی تھی۔
سنہ 2015 میں شام میں پامیمرا کے تاریخی مقام کو تباہ کرنے اور 2001 میں طالبان کی جانب سے افغانستان میں بامیان بدھا کے انہدام پر سخت تنقید کرنے والوں میں امریکہ شامل تھا۔
امریکہ آئی سی سی کا حصہ نہیں ہے لیکن ثقافتی املاک کے تحفظ کے لیے دوسرے معاہدوں پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس ضمن میں کوئی بھی ایسا حملہ اس کے الٹ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔













