بورس جانسن: برطانیہ اور یورپی یونین کا نئی بریگزٹ ڈیل پر اتفاق ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہPA Media
برسلز میں یورپی رہنماؤں کے اجلاس سے قبل برطانیہ اور یورپی یونین کی مذاکرات کرنے والی ٹیموں کے درمیان نئے بریگزٹ معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ 'ہم نے ایک نئی بہترین ڈیل کی ہے جس سے کنٹرول دوبارہ ہمارے ہاتھ میں آ گیا ہے۔'
دونوں فریقین بریگزٹ معاہدے کے قانونی متن پر کام کر رہے ہیں، لیکن اس کی منظوری کے لیے برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کی اجازت درکار ہو گی۔
برطانیہ کی سیاسی جماعت ڈی یو پی نے اس کامیابی پر شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب بھی اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل شمالی آئرش پارٹی نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ مجوزہ تجاویز کی ایسے وقت میں حمایت نہیں کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم جانسن کے نئے اعلان کے بعد آئرش پارٹی نے کہا ہے کہ اس حوالے سے وہ اپنے پرانے مؤقف پر قائم ہیں۔
لیبر رہنما جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ نیا مجوزہ معاہدہ اس معاہدے سے بھی بدتر لگتا ہے جو موجودہ وزیر اعظم بورس جانسن کی پیش رو ٹریزا مے نے کیا تھا۔ انھوں نے ممبران پارلیمان کو مشورہ دیا ہے کہ انھیں نئے معاہدے کو 'مسترد کردینا چاہیے'۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
تاہم پورپی کمیشن کے صدر جین کلائیڈ جنکر نے کہا تھا کہ 'یہ متوازن اور منصفانہ معاہدہ' تھا۔
یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو لکھے گئے ایک خط میں یورپی کمیشن کے صدر نے لکھا کہ 'یورپی یونین سے علیحدہ ہونے اور جتنا جلدی ممکن ہو اتنا جلدی آگے بڑھنے کے لیے یہ ایک عمدہ وقت ہے۔'
وزیر اعظم بورس جانسن اور جین جنکر نے اپنے اپنے پارلیمان سے اس ڈیل کی حمایت کرنے کی گذارش کی تھی۔
یورپی یونین کے چیف مذاکرات کار مشیل بارنیئر نے برسلز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم برطانوی حکومت کے ساتھ یورپی یونین سے دستبردار ہونے اور اپنے مستقبل کے تعلقات کے لائحہ عمل کے حوالے سے ایک معاہدے پر پہنچے ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا کہ اس مجوزہ متن میں 'ہر ایسے شعبے میں قانونی استحکام فراہم کرنا چاہیے جہاں بریگزٹ کے نتیجے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے خاص کر شہریوں کے لیے۔'
وزیر اعظم جانسن کی جانب سے اعلان کردہ نئی مجوزہ بریگزٹ ڈیل متنازعہ 'بیک سٹاپ' سے نجات پانے کی جانب بھی ایک اشارہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیک سٹاپ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہوجانے کے بعد آئرش بارڈر کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے ایک لائحہ عمل تھا جس پر سابق برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔
بیک سٹاپ سے نجات پا لینے کے بعد بورس جانسن کو امید ہے کہ وہ اپنی پارٹی اور ڈی یو پی کے ان ممبران کی حمایت حاصل کر لیں گے جو پہلے اس ڈیل کے مخالف تھے۔ اور اس وجہ سے دارالعوام میں اس مسئلے پر ہونے والی ووٹنگ میں کامیابی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
نئے مجوزہ پلان کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں شمالی آئرلینڈ کے ساتھ باقی برطانیہ کے علاقوں سے مختلف سلوک کیا جائے گا اور یہی وہ گمان ہے جس پر چند دوسرے ممبران کے علاوہ ڈی یو پی کو خدشات ہوں گے۔
تاہم گذشتہ چند ہفتوں کے دوران 20 سے زائد ٹوری ممبران پارلیمان کے مستعفی ہونے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارلیمان سے نئی مجوزہ ڈیل کو منظور کروانے میں حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تجزیہ
نورمن سمتھ، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایڈیٹر
کیا یہ بورس جانسن کی جانب سے قابل اعتراض مگر قانونی طریقے سے کھیل جیتنے کی ایک کوشش ہے؟
میرا خیال ہے کہ وہ ڈی یو پی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حقیقی کوششیں کر رہے ہیں۔
تاہم اب ہم اصل مقابلے کی جانب بڑھ رہے ہیں جب برطانوی وزیر اعظم نئی ڈیل دارالعوام کے سامنے رکھیں گے۔
بہت سے ممبران پارلیمان اس پر ناخوش ہوں گے کہ نئی ڈیل کے مسودے کی تفصیلات انھیں فراہم کیے بغیر اس کو ووٹنگ کے لیے ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایک اور جنگ بھی جاری ہے۔ ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لیبر پارٹی اس معاملے پر ایک تصدیقی ریفرینڈم کی حمایت کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس نئی ڈیل کو ریفرینڈم کے عمل سے گذرنے کے بعد ہی منظور کریں گے۔
مگر مجھے جو ایک بات بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ بورس جانسن اس معاہدے کو اس وقت تک ووٹنگ کے لیے پیش نہیں کریں گے جب تک انھیں کامیاب ہونے کا یقین نہ ہو۔
ہم ایک بڑے شو ڈاؤن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔










