بریگزٹ: برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی پارلیمنٹ سے مستعفی

جو جانسن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجو جانسن کینٹ کے علاقے اورپنگٹن سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی جو جانسن نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہے ہیں کیونکہ وہ خاندان سے وفاداری اور قومی مفاد کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں۔

جو جانسن کینٹ کے علاقے اورپنگٹن سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور موجودہ کابینہ میں وزیرِ تجارت ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ جو کام وہ اِس وقت کر رہے ہیں اُس میں ایسا تناؤ جس میں کمی ممکن نہیں ہے۔

جو جانسن نے کہا کہ وہ سنہ 2009 سے اپنے حلقے کے لوگوں کی خدمت کرنے پر فخر کرتے ہیں۔

جو جانسن اِس سے پہلے سابق وزیراعظم ٹریزا مے کی کابینہ سے بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے معاملے پر ٹریزا مے کی حکمتِ عملی سے انھیں اختلاف تھا۔

گذشتہ روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کی برطانوی دارالعوام میں قبل از وقت عام انتخابات کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو اراکین پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا ہے۔

اس کے بعد حکومت کا کہنا ہے کہ جمعے تک دارالعلما میں بغیر کسی معاہدے کے بریگزٹ کو روکنے کے بل پر کام مکمل کر لیا جائے گا۔

بورس جانسن

،تصویر کا ذریعہAFP

اس بات کا اندیشہ تھا کہ بریگزٹ کے حامی جان بوجھ کر اس بل کو روک لیں گے تاکہ آئندہ ہفتے اس بل کو پارلیمان کے ملتوی ہونے سے پہلے ملکہ کی جانب سے منظوری نہ مل سکے۔

لیکن دارالعمرا میں کنزرویٹو پارٹی کے چیف وِپ نے لیبر پارٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد پیشرفت کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل وزیر اعظم بورس جانسن نے اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 15 اکتوبر کو قبل از وقت عام انتخابات کروانے کے منصوبے کی حمایت کریں۔

یہ بھی پڑھیے

اس قرارداد کی کامیابی کے لیے انھیں دو تہائی ارکان پارلیمنٹ کی حمایت کی ضرورت تھی۔ لیکن اس قرارداد کے حق میں انھیں 298 ووٹ ملے جبکہ 56 ووٹ اس قرارداد کے خلاف ڈالے گئے۔ اس قرارداد کو کامیاب ہونے کے لیے انھیں 136 ووٹوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

جبکہ اس قرارداد کی منظوری کے لیے کل 434 ووٹوں کی ضرورت تھی۔

لیبر پارٹی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

واضح رہے کہ لیبر پارٹی، ایس این پی اور لبرل ڈیموکریٹس کا پہلے ہی کہنا تھا کہ وہ اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

اس سے پہلے ارکان پارلیمان نے بورس جانسن کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ 31 اکتوبر سے پہلے بغیر کسی معاہدے کے بریگزٹ کے خلاف بل کی منظوری دی تھی۔

بورس جانسن نے اسے ایک ’ہتھیار ڈالنے والا بل‘ قرار دیا ہے جو ایک نئے معاہدے پر مذاکرات کے لیے انھیں کمزور کر دے گا۔

لیکن یہ بل حزب اختلاف کی جماعتوں اور ٹوری باغی ارکان کی حمایت کے ساتھ دارلعوام میں ایک ہی دن میں تمام مراحل سےگزر کر منظور ہو گیا ہے۔ اب یہ بل منظوری کے لیے دارالامرا میں بھیجا جائے گا۔

جیرمی کوربن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کی انتخابات کی پیشکش 'سنو وائٹ کو سیب کی پیشکش‘ کے مترادف ہے

پارلیمان کے اراکین اب اس قرارداد پر بحث کر رہے ہیں کہ جمعرات کو اس بل کو کس طرح آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ لیکن بریگزٹ کے حامی اراکین نے اس پیشرفت کی رفتار سست کرنے کے لیے 100 سے زائد ترامیم کی ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے منگل کو متنبہ کیا تھا کہ اگر بل اس مرحلے میں آتا ہے تو وہ فکسڈ ٹرم پارلیمنٹس ایکٹ کے تحت انتخابات کے لیے قرارداد کے ساتھ دارلعوام میں واپس آجائیں گے۔

بورس جانسن نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا اس بل کے تحت بغیر معاہدے کے ’سنجیدہ مذاکرات‘ کو روکنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سے وہ یورپی یونین کے سامنے ’ہتھیار ڈالنے‘ پر مجبور ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ملک کے لیے آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ باقی ہے۔‘

’میرے خیال میں اور اس حکومت کے نزدیک اب منگل 15 اکتوبر کو انتخابات ہونا ضروری ہیں۔‘

لیکن لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کی انتخابات کی پیشکش 'سنو وائٹ کو سیب کی پیشکش کے مترادف ہے۔۔۔ یعنی بنا کسی معاہدے کے زہر کی پیشکش۔‘