برطانوی حکومت پارلیمان کیونکر بند کر سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف ارکان پارلیمان اور بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج یا ’نو ڈیل بریگزٹ‘ کے مخالفین نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نے بدھ کی رات مظاہرے کیے اور اس اقدام کے خلاف درخواست پر چند گھنٹوں کے دوران دس لاکھ سے زیادہ افراد نے دستخط کیے۔
حکومت کا موقف ہے کہ ستمبر اور اکتوبر میں پانچ ہفتے کی معطلی کے باوجود بریگزٹ ڈیل ہر بحث کرنے کے لیے وقت مل جائے گا تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ارکانِ پارلیمان کو نو ڈیل بریگزٹ کو ناکام بنانے سے روکنے کی ’غیر جمہوری‘ کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
بورس جانسن کی کابینہ کے رکن مائیکل گوو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کی معطلی کا فیصلہ یقینی طور پر ایک سیاسی اقدام نہیں ہے اور ایوان کے پاس یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کی ڈیڈ لائن یعنی 31 اکتوبر سے قبل اس پر بات کرنے کے لیے کافی وقت ہو گا۔
ملکۂ برطانیہ نے بدھ کو وزیر اعظم بورس جانسن کے پارلیمان کو معطل کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
امکان یہی ہے کہ دس ستمبر کو پارلیمان کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا اور اسے 14 اکتوبر تک دوبارہ نہیں بلایا جا سکے گا اور اس وقت برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈ لائن میں صرف 17 دن باقی رہ جائیں گے۔
اس بارے میں برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کے لیے ایسا کرنا اہم ہے تاکہ وہ ملک کے لیے 'شاندار ایجنڈا' تیار کر سکیں۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ نئی قانون سازی متعارف کروانا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم جانسن نے کہا کہ 14 اکتوبر کو ملکۂ برطانیہ کی تقریر ان کے ’انتہائی دلچسپ ایجنڈے‘ کے خدوخال بیان کرے گی۔
لیڈر آف ہاؤس جیکب موگ نے جو کہ ملکہ برطانیہ کے ساتھ بورس جانسن کی ملاقات میں موجود تھے کہا ہے پارلیمان کا سیشن چار سو سالہ تاریخ میں طویل ترین تھا اس لیے اسے معطل کیا جانا درست ہے تاکہ نئے سیشن کی شروعات کی جا سکیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
دی ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق جیکب موگ کا کہنا ہے کہ اسے آئینی بحران وہی کہہ رہے ہیں جو سنہ 2016 کے ریفرینڈم کے مخالفین ہیں۔
اپوزیشن رہنما جیریمی کوربن نے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’پارلیمان کو معطل کرنا قابل قبول نہیں ہے ۔وزیراعظم جو کچھ کر رہے ہیں وہ توڑ پھوڑ اور ہماری جمہوریت کو کسی معاہدے کے ذریعے مجبور کرنا ہے۔‘
حکومتی مخالفین کا خیال ہے کہ پارلیمان کو معطل کرنے کا مقصد بریگزٹ کے راستے میں پارلیمان کی رکاوٹوں کو روکنا ہے۔
حکومت کے حامیوں کے خیال میں پارلیمان کو معطل کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ملکۂ برطانیہ پارلیمان سے خطاب کر سکیں جو پہلے ہی تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔
حکومت پارلیمان کیونکر بند کر سکتی ہے؟
پارلیمان کو ’پروروگ‘ یا معطل کرنا خالصتاً حکومتی اختیار ہے کہ پارلیمان کا اجلاس کب ہو گا اور دونوں ایوان، دارالعلوم اور دارالامرا بھی اس حکومتی فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
ملکہ کا پارلیمان سے خطاب ہر پارلیمانی سال کے شروع میں ہوتا ہے۔
ملکۂ برطانیہ دارالامرا میں داخل ہوتی ہیں اور دارالعوم کے نمائندوں کو طلب کر کے حکومت کی طرف سے تیار کی گئی تقریر پڑھتی ہیں جس میں وزیر اعظم کے ان منصوبوں کا ذکر ہوتا ہے جس پر وہ قانون سازی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ روایت 16 ویں صدی سے جاری ہے اور پارلیمانی سال میں صرف ایک بار ایسا ہوتا ہے۔ البتہ اس کے بارے میں کوئی ضوابط قلم بند نہیں کیے گئے ہیں۔
ملکۂ برطانیہ نے سنہ 2017 سے پارلیمنٹ سے خطاب نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وقت اتنا متنازع کیوں ہے؟
حکومت کے مخالفین کا خیال ہے کہ اس وقت کا انتخاب یہ سوچ کر کیا گیا ہے تاکہ عوامی نمائندے برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار نہ کر سکیں۔
لیبر پارٹی کے شیڈو چانسلر جان میکڈانل نے کہا ’اس پر کسی کو گمان نہیں ہونا چاہیے کہ یہ برطانوی طرز کی بغاوت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بریگزٹ کے بارے آپ کی رائے جو بھی ہو، لیکن اگر آپ وزیراعظم کو جمہوری اداروں کی آزادانہ کارروائی کو روکنے کی اجازت دے دیں گے تو پھر آپ انتہائی خطرناک راستے پر چل رہے ہیں۔‘
شیڈو چانسلر جان میکڈانل کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانس چاہ رہے ہیں کہ بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین کو چھوڑنے کی صورت میں پارلیمان ان کے راستے میں نہ آ سکے۔
برطانیہ کو 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے علیحدہ ہونا ہے لیکن کچھ ممبران پارلیمان چاہتے ہیں کہ اگر برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو علیحدگی کی تاریخ میں تبدیلی کر کے اسے مزید دور لے جایا جائے۔
اگر پارلیمان کا اجلاس پانچ ہفتوں تک روک دیا گیا تو برطانیہ کے یورپی یونین کو چھوڑنے کی تاریخ میں اضافہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
دارالعوم کے سپیکر جان برکو بظاہر اس خیال کے حامی لگتے ہیں اور حکومتی منصوبے کو’آئینی بے حرمتی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمان کو معطل رکھنے کے فیصلے کو جو بھی پہناؤا پہنا دیں لیکن یہ واضح ہے کہ اجلاس کو ملتوی کرنے کا مقصد عوام کے نمائندوں کو بریگزٹ پر بحث سے محروم رکھنا ہے اور انھیں ملک کے لیے راستے متعین کرنے کی ذمہ داری ادا نہ کرنے دینا مقصود ہے۔
انھوں نے کہ قومی تاریخ کے ایسے مشکل موڑ پر عوام کے منتخب نمائندوں کو ان کا کردار ادا کرنے دینا بہت ضروری ہے۔
کیا یہ عام سی بات ہے؟
یقیناً حکومت اس خیال سے متفق نہیں ہے۔
وزیر اعظم بورس جانسن سے جب کہا گیا کہ پارلیمان کی معطلی جمہوریت کی بے حرمتی ہے جس میں عوامی نمائندے بریگزٹ کے حوالے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکیں گے تو وزیر اعظم نے کہا ’نہیں یہ بلکل جھوٹ ہے۔‘
وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حکومت کو موقع دینا ہے کہ وہ اپنا ایجنڈا دے سکے۔
وزیر اعظم نے کہا ’ہمیں نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ہمیں قوانین کے لیے نئے بل متعارف کروانے ہیں۔ ملکۂ برطانیہ 14 اکتوبر کو پارلیمان سے خطاب کریں گی اور ہمیں قانون سازی کے نئے پروگرام کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن وزیر اعظم کے کچھ حامی اس کو مانتے ہیں کہ پارلیمان کو معطل کرنے کے وقت کا برطانیہ کے یورپی یونین سے ممکنہ علیحدگی سے تعلق ہے۔
کنزرویٹو ایم پی پولین لیتھم نے کہا ’مجھے اطمینان ہے کہ بورس جانسن وہ کچھ کر رہے ہیں جو برطانیہ کو یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے کرنا ضروری ہے اور عوام اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔‘
ایک منقسم ملک
خواہ لوگ وزیراعظم کے فیصلے کو قانونی سمجھیں یا جمہوری بے حرمتی لیکن یہ سب کچھ ایک نکتے پر منتج ہو جاتا ہے اور وہ ہے بریگزٹ۔
بریگزٹ نے ملکی اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ اس سے نہ صرف معاشرہ منقسم ہو گیا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔
جو لوگ بریگزٹ کے حامی ہیں ان کی نظر میں پارلیمان کو کچھ ہفتوں کے لیے معطل کر دینا یورپی یونین سے علیحدگی کی ایک چھوٹی سی قیمت ہے۔
یورپی یونین میں رہنے کےحامی سمجھتے ہیں پارلیمان کو معطل کرنا برطانوی جمہوریت کے دل پر وار کے مترادف ہے۔
جو لوگ یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی ہیں ان کی نظر میں پارلیمان کے ممبران برطانوی عوام کی رائے کو نظر انداز کر کے بریگزٹ کو روکنا چاہتے ہیں۔
سنہ 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فیصد برطانوی ووٹروں نے یورپی یونین سے علیحدگی جبکہ 48 فیصد نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔
اس ساری بحث کا محور برطانوی آئین ہے جو دوسرے کئی ممالک کے برعکس تحریر شدہ ہے اور یہ صدیوں پر محیط جمہوری روایات، پارلیمان سے منظور شدہ قوانین اور عدالتی فیصلوں پر مشتمل ہے۔
یہ سارا نظام اس وقت اچھا چلتا ہے جب سیاستدان اصولوں پر چلنے پر رضامند ہوں لیکن آج کے منقسم برطانیہ میں جہاں یورپی یونین سے علیحدگی یا اس میں رہنے سے وسیع مفادات وابستہ ہیں، دونوں اطراف سے سیاستدان اپنی جیت کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں اور پارلیمانی روایات ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
لیبر پارٹی کی سینیئر ممبر پارلیمان مارگریٹ بیکٹ نے اپنے تبصرے میں کہا: ’ہماری تاریخ میں پارلیمان کے بغیر حکومتوں کی نظیر موجود ہیں لیکن جب آخری بار ایسا ہوا تھا تو اس کا نتیجہ خانہ جنگی پر نکلا تھا۔‘
قطع نظر اس کے کہ برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہتا ہے یا اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے، لیکن برطانوی سیاست ایک لمبے عرصے تک تلخ اور منقسم رہے گی۔









