برطانیہ اور یورپی یونین بریگزٹ کی تاریخ اکتوبر تک موخر کرنے پر متفق

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپین کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ کی ’لچکدار توسیع‘ پر اتفاق کر لیا ہے۔
بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع کے اس معاہدے پر اتفاق برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں ہوا جو کہ پانچ گھنٹے جاری رہا۔
ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا ’برطانوی دوستوں سے میری درخواست ہے کہ مہربانی کر کے اس بار وقت ضائع نہ کریں۔‘
یورپین کونسل کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ توسیع کے وقت کے دوران ’کارروائی کا مقصد مکمل طور پر برطانیہ کے ہاتھوں میں ہو گا۔ وہ ابھی بھی انخلا کے معاہدے کی تصدیق کر سکتے ہیں جس میں توسیع ختم ہو سکتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ برطانیہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر سکتا ہے یا آرٹیکل 50 کو منسوخ کرنے اور بریگزٹ کو ایک ساتھ منسوخ کر سکتا ہے۔
اس سے قبل برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کی تاریخ کو 30 جون تک توسیع دی جائے۔
ٹریزا مے نے نومبر 2018 میں یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر اتفاق کر لیا تھا مگر اس معاہدے کو دو مرتبہ برطانوی پارلیمان میں مسترد کیا جا چکا ہے جبکہ جمعے کو صرف علیحدگی کے معاہدے کو 58 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔
پارلیمانی ارکان نے بریگزٹ پر آمادگی ظاہر کرنے کے لیے دو مرتبہ ووٹنگ بھی کروائی مگر کسی بھی معاہدے کو اکثریت نہ ملی۔
برطانیہ نے 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنی تھی لیکن ٹریزا مے نے یہ جانتے ہوئے مختصر توسیع پر اتفاق کیا کہ پارلیمان ڈیڈلائن تک معاہدے پر رضامند نہیں ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بریگزٹ سے متعلق اہم واقعات کی ٹائم لائن
جون 2016: ریفرینڈم میں برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔
نومبر 2018: برطانیہ کا اخراج کے معاہدے اور یورپی یونین سے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں لائحہ عمل پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔
دسمبر 2018: ٹریزا مے نے یورپی اتحاد کو مزید یقین دہانی کروانے کے لیے پہلے 'میننگ فُل ووٹ' ملتوی کر دیا۔
15 جنوری: دارالعوام نے بریگزٹ معاہدے کو 239 ووٹوں سے مسترد کر دیا۔
13 مارچ: پارلیمانی ارکان نے دوسری مرتبہ 149 ووٹوں سے بریگزٹ معاہدے کو مسترد کر دیا۔
22 مارچ: یورپی اتحاد نے بریگزٹ میں 29 مارچ سے آگے تک تاخیر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن برطانیہ کی طرف سے ایک ہفتے تک معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں 12 اپریل تک تاخیر کی جائے گی۔
29 مارچ: پارلیمانی ارکان نے 58 ووٹوں سے اخراج کا معاہدہ مسترد کر دیا۔
2 اپریل: برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ یورپی اتحاد سے مزید 'مختصر توسیع' حاصل کریں گی۔













