بریگزٹ: ٹریزا مے عدم اعتماد سے محفوظ، بریگزٹ پر رہنماؤں سے ملاقاتیں

Flags

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بریگزٹ کے معاملے پر برطانوی حکومت کے پیش کردہ معاہدے کی ناکامی کے بعد ٹریزا مے کے خلاف پیش کردہ تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو گئی ہے۔

حکومت کے خلاف یہ تحریک محض 19 ووٹوں سے ناکام ہوئی۔306 ارکانِ پارلیمان نے اس تحریک کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 325 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

ووٹنگ کے نتائج آنے کے بعد ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ وہ خوش ہیں کہ پارلیمان نے حکومت کے لیے حمایت ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بریگزٹ کے نتائج پر عمل درآمد کے لیے کام جاری رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالےسے سینیئر ارکانِ پارلیمان کے ساتھ ملاقاتوں کے سلسلے کی تجویز دی ہے اور پارٹی رہنماؤں کو دعوت دی ہے کہ وہ آگے بڑھنے کے لیے راستہ تلاش کرنے میں مدد کریں۔ یہ ملاقاتیں آج رات سے ہی شروع ہوں گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا وہ ان ملاقاتوں میں ’تعمیری سوچ‘ کے ساتھ شامل ہوں گی اور انھوں نے دوسروں سے بھی اسی طرز عمل کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا ’میں بریگزٹ کے حوالے سے اس پارلیمان کے کسی بھی رکن کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

زومبی گورنمنٹ

اس سے پہلے برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے کہا تھا کہ ٹریزا مے کی انتطامیہ ’زومبی گورنمنٹ‘ ہے جو ’حکومت نہیں کر سکتی‘ اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعظم ٹریزا مے کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے جیریمی کوبن نے کہا کہ حکومت ’کو صحیح کام کرنا چاہیے اور منگل کی رات بھاری شکست کے بعد استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘

انھوں نے عام انتخابات کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ 'وزیر اعظم نے مسلسل ڈیل کا دعویٰ کیا جو فیصلہ کن طور پر مسترد کر دی گئی، جو برطانوی ورکرز اور کاروبار کے لیے اچھا تھا۔۔۔ انھیں عوام میں جانے کا کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ فکسڈ ٹرم پارلیمنٹس ایکٹ ’کا کبھی بھی مقصد زومبی حکومت کا ابھرنا نہیں تھا،‘ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم اپنا ’کنٹرول کھو چکی ہیں‘ اور انھوں نے ’تاریخی اور شرمناک شکست‘ کا سامنا کیا ہے۔

کوربن

،تصویر کا ذریعہHOC

تاہم کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان کرس فلپ نے کوربن پر ’شرمناک سیاسی موقع پر پرستی‘ کا الزام عائد کیا جو ’پارٹی کے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔‘

ادھر یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے تجویز دی ہے کہ موجودہ صورتحال میں برطانیہ کو یورپی یونین کا حصہ بنے رہنا چاہیے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کہنا تھا کہ اگر معاہدہ ناممکن ہے اور کوئی بھی بغیر معاہدے کے ایسا نہیں چاہتا تو کون ہو گا جو جرات کر کے وہ بات کہے گا جو کہ واحد مثبت حل ہے۔

اسی بارے میں

برطانوی دارالعوام میں منگل کی شب بریگزٹ معاہدے پر ہونے والی ووٹنگ میں حکومت کو 230 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ وزیراعظم مے کی یہ شکست برطانوی پارلیمانی تاریخ میں کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی شکست ہے۔

ارکانِ پارلیمان نے معاہدے کو مسترد کرنے کے لیے 202 کے مقابلے میں 432 ووٹ دیے۔ کنزرویٹو پارٹی کے قریباً 118 ارکان نے حزب مخالف کے ساتھ مل کر اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔

برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کی حتمی تاریخ 29 مارچ مقرر ہے اور اس معاہدے میں برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کی شرائط متعین کی گئی تھیں۔

یورپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس شکست کو ٹریزا مے کے لیے بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ گذشتہ دو برس سے یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے کے حق میں سرگرم تھیں۔

اس منصوبے کا مقصد 29 مارچ کو یورپی یونین سے ایک طریقے کے تحت اخراج تھا جس کے بعد 21 ماہ کا ایک عبوری دور آنا تھا جس میں آزادانہ تجارت کے بارے میں معاہدے پر بات چیت ہونا تھی۔

اس معاہدے پر ووٹنگ ابتدائی طور پر دسمبر میں ہونا تھی تاہم وزیراعظم نے اس وقت بھی شکست کو بھانپتے ہوئے اسے ملتوی کر دیا تھا۔

لندن کے میئر صادق خان نے کہا ہے کہ ارکانِ پارلیمان نے اس معاہدے کو مسترد کر کے صحیح فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تمام جماعتوں کے ارکان کو احساس ہے کہ اس معاہدے سے حالات بدترین ہوں گے آنے والے نسلوں کے لیے مواقع کم ہو جائیں گے۔‘

صادق خان کا کہنا تھا کہ ’اب آگے جو ہو گا وہ ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔‘ انھوں نے کہا وزیرِاعظم کو آرٹیکل 50 کو واپس لے لینا چاہیے۔

یورپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی کے نمائندہ راب واٹسن کے مطابق پارٹی کی قیادت جیریمی کوربن کی رہنمائی میں کسی نہ کسی قسم کے بریگزٹ کی خواہاں ہے جبکہ اراکین میں سے زیادہ تر چاہتے ہیں کہ بریگزٹ کرنے نہ کرنے پر دوبارہ ریفرنڈم کروایا جائے تاکہ بریگزٹ کو روکا جا سکے۔

ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی برطانوی پارلیمنٹ میں اس پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج سے کیسے نمٹا جائے۔ معاملہ اتنا بنیادی ہے اور یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں 1945 کے بعد سے سب سے بڑا سیاسی بحران ہے۔ مگر اگر کچھ بھی نہیں ہوتا تو یاد رہے کہ برطانیہ کی ڈیفالٹ پوزیشن یہ ہے کہ ڈیل کے بغیر یورپ سے علیحدہ ہو جائیں۔

اب کیا ہوگا؟

برطانوی پارلیمان کے وہ ممبران جو بریگزٹ کے حوالے سے ایک اور ریفرنڈم چاہتے ہیں، وہ جو بریگزٹ کا نیا معاہدہ چاہتے ہیں اور وہ ممبران جو سمجھتے ہیں کہ یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے نکل جانا چاہیے، ان تمام کے پاس اب موقع ہے کہ سخت دباؤ میں گھری وزیر اعظم ٹریزا مے سے اپنے اپنے مطالبات منوانے کے لیے زور ڈالیں۔

بریگزٹ کے بارے میں بحث جماعتی وفاداری سے بڑھ گئی ہے اور ٹریزا مے کی جانب سے پیش کیے گئے معاہدے کے خلاف ووٹ ڈالنے والے 432 اراکین میں سے 118 کا تعلق ٹریزا مے کی اپنی کنزرویٹو جماعت سے ہے۔

دوسری جانب حریف جماعت لیبر پارٹی کے تین ممبران نے وزیر اعظم کے معاہدے کے حق میں ووٹ دیا۔

اس معاہدے کے نکات میں سب سے گرما گرم بحث شمالی آئرلینڈ کی سرحدوں کے حوالے سے تھی۔

ٹریزا مے کے بڑے حمایتیوں میں سے ایک اور ملک کے سابق سیکریٹری خارجہ، بورس جانسن نے تسلیم کیا کہ ووٹنگ میں ہونے والی شکست اندازوں سے زیادہ بڑی تھی اور اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے پیش کیا گیا معاہدے اب کسی کام کا نہیں۔

یورپ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلاؤڈ جنکر

البتہ ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ٹریزا مے یورپی یونین کے پاس ایک بار پھر جا سکتی ہیں تاکہ وہ معاہدے کے بارے میں دوبارہ بات چیت کر سکیں جس میں شمالی آئرلینڈ کا معاملہ شامل نہ ہو۔

یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کا رد عمل

یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلاؤڈ جنکر نے کہا کہ برطانوی دارالعوام میں ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں ایک ناہموار بریگزٹ ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'معاہدے کے تحت اخراج ضروری ہے تاکہ کوئی دشواری نہ پیدا ہو۔' ژان کلاؤڈ جنکر نے مزید کہا کہ یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے اپنی جانب سے پوی کوشش کی تھی تاکہ برطانوی ممبر پارلیمان کے کوئی شکوک نہ رہیں۔

'میں برطانیہ سے دوبارہ کہنا چاہوں گا کہ اپنی پوزیشن کو جلد از جلد واضح کریں کیونکہ اب زیادہ وقت باقی نہیں ہے۔'

ُادھر یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ انھیں اس نتیجے پر افسوس ہے اور بعد میں انھوں نے ٹویٹ کے ذریعے سوال اٹھایا کہ 'کون یہ سوال کرنے کی ہمت کرے گا کہ اس پورے معاملے کا مثبت حل کیا ہے؟'

انھوں نے مزید کہا کہ معاہدے کی منظوری میں ناکامی کے بعد برطانیہ کو یورپی یونین میں رہنا چاہیے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

جرمنی:

جرمنی کے وزیر خزانہ اور ملک کے وائس چانسلر اولاف شولز نے ووٹنگ کے نتیجے پر کہا کہ یہ یورپ کے لیے اچھا دن نہیں تھا۔

'ہم سب تیار تو ہیں لیکن اس سخت نوعیت کا بریگزٹ اخراج کا سب سے ناپسندیدہ طریقہ ہوگا۔'

فرانس:

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ 'دباؤ برطانیہ والوں پر ہی ہے۔'

انھوں نے تنبیہ کی کہ تبدیلی کا مرحلہ بہت اہم ہوگا۔ 'ہمیں تبدیلی کے مرحلے کے بارے میں وضاحت طے کرنی ہوگی۔'

آئرلینڈ:

آئرش حکومت کی جانب سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ وہ بغیر معاہدے کے برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کے لیے اپنی تیاریاں جاری رکھیں گے۔

'ہمیں افسوس ہے کہ آج کے نتیجے کے بعد مشکل علیحدگی کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور ہماری حکومت اسی بنیاد پر اپنی تیاریاں کر رہی ہے۔'