بریگزٹ یا نیا وزیراعظم؟

Flags

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ ان کی کابینہ نے برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی یعنی بریگزٹ کے حوالے سے ایک مجوزہ معاہدے کی حمایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے یہ اعلان بدھ کو پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا ہے۔ اب کیا ہو گا؟

ایک بنیادی یاد دہانی

برطانیہ 29 مارچ، جمعے کی دوپہر 11 بجے یورپی یونین سے باہر نکل جائے گا۔ وجہ عوام کی جانب سے سنہ 2016 میں ریفرنڈم میں یورپی یونین سے نکلنے کے لیے 51.9 فیصد نے اس تجویز کے حق جبکہ 48.1 فیصد نے اس کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ برطانیہ اور یورپی یونین نے قطع تعلق دوسرے معنوں میں طلاق کے عمل پر بات کرنے کے لیے ایک سال سے زیادہ عرصہ لگایا۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ اس کے بعد تعلقات کیسے ہوں گے۔ بات چیت کرنے والوں نے ایک معاہدے پر اتفاق رائے کیا، اور اب اس پر وزیراعظم ٹریزا مے کی کابینہ نے دستخط کرنے ہیں اور پھر پارلیمان کے اراکین نے اور 27 یورپی ریاستوں نے۔

بریگزٹ کے بارے میں مزید پڑھیے!

کیا اس ہفتے معاہدہ ہو جائے گا؟

یہ امید ٹریزا مے کو ہے۔ کئی ماہ اور برسلز میں بھرپور بات چیت کے بعد حکومت نے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے معاہدے کا ایک مسودہ تیار کیا ہے۔ یہ 583 صفحات پر مشتمل دستاویز ہے۔ وزرا کو کابینہ کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اسے ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں دکھا گیا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے وزرا کو بتایا کہ یہ بہترین معاہدہ نہیں لیکن اتنا اچھا ہے جتنا حکومت کر سکتی تھی۔

Theresa May

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ کتنا اہم ہے؟

ابھی کچھ حتمی کام کرنے ہیں لیکن ڈیل طے پا گئی ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ اس پر ایک سال سے زیادہ عرصے سے بات چیت کر رہے تھے۔

کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد رواں ماہ کے آخر میں یورپی یونین کی کانفرنس میں حتمی معاہدے بات ہو جائے گی اور ایوان نمائندگان بھی اس پر کرسمس سے پہلے رائے شماری کر سکتے ہیں۔

کیا انھوں نے آئرلینڈ کے ساتھ سرحد کا مسئلہ حل کر لیا ہے؟

برسلز میں بات چیت کے دوران یہ سب سے اہم مسئلہ تھا۔ دونوں اطراف شمالی آئرلینڈ کی سرحد پر دوبارہ چوکیاں لگانے اور نگرانی لاگو کرنے سے گریزاں تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ انھیں واپس اپنی پوزیشن پر لانے سے امن کا عمل خطرے میں پڑ جائے گا۔

لیکن دونوں جانب اس پر متفق نہیں ہو سکیں کہ وہ اس کی ضمانت کیسے دے سکتی ہیں۔ یورپی یونین کا اصرار ہے کہ سرحد کھلی رہے چاہے یورپی یونین اور برطانیہ میں کوئی بھی معاہدہ ہو۔

تجارتی ڈیل کے بارے میں کیا ہے؟

تجارتی ڈیل جسے ’سیاسی اعلامیہ‘ کہا جا رہا ہے کا ایک خاکہ یورپ سے نکلنے کے معاہدے کے ساتھ ہی شائع کیا جائے گا۔

بریگزٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگر سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق ہوا تو بریگزٹ کے بعد تجارت کیسے ہو گی؟ اس حوالے سے ڈیل کی تمام تر تفصیلات کو 21 ماہ کے عبوری دور کے دوران جاری کر دیا جائے گا۔ اس ڈیل کو اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ برطانیہ کے باقاعدہ طور پر یورپی یونین سے نکلنے سے پیدا ہونے والے خلا کو اسی کے ذریعے پر کیا جائے گا اور نیا تعلق شروع کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے!

اب آگے کیا ہوگا؟

ٹریزا مے کی کابینہ کی جانب سے بریگزٹ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بھی انھیں ارکان پارلیمان سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے بہت زور لگانا پڑے گا۔

ان کو اس وقت ایوان زیریں اور اپنے ہی ارکان پارلیمان کی اکثریت حاصل نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبر اور دیگر حزب مخالف کی جماعتیں ان کے بریگزٹ منصوبے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں یا کھلی مخالفت کر رہی ہیں۔ ڈی یو پی جس پر ٹریزا مے اہم ووٹ کے دوران تکیہ کیے ہوئے ہیں پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ یورپی یونین سے نکلنے کے معاہدے کے خلاف ووٹ دے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے سے برطانیہ ٹوٹ جائے گا۔

تمام تر نظریں کابینہ کے ان ارکان پر ہوں گی جو بریگزٹ کے حق میں ہیں، آیا ان میں سے کوئی اس معاہدے کے مواد کے خلاف بطور احتجاج استعفیٰ دے دے گا؟ وہ وزرا جنھوں نے حال ہی میں یہ کہہ کر کابینہ چھوڑ دی تھی کہ اس معاہدے کے تحت برطانیہ یورپی یونین کے زیر کنٹرول ہی رہے گا اور یہ صحیح معنوں میں بریگزٹ نہیں ہو گا۔

بریگزٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزرا اگر معاہدے کی حمایت کر دیتے ہیں تو تمام تر توجہ ایوان زیریں کے ووٹ پر مرکوز ہو جائے گی۔

اگر ارکان پارلیمان کو ٹریزا مے کا موقف دیا جائے یا نو ڈیل تو ڈگمگانے والوں کے لیے ٹریزا مے کی حمایت کرنے کے لیے کافی ہو گا۔ اسی طرح ڈاؤننگ سٹریٹ والے امید بھی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب لیبر اور ٹوریز کی کوشش ہے کہ ووٹ کے لیے دیگر آپشن بھی موجود رہیں۔

دوسری طرف اگر ٹریزا مے ووٹ حاصل نہیں کر پاتیں تو پھر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وہ یورپی یونین سے دوبارہ مذاکرات کرنا چاہیں گی تاہم اکثر لوگوں کو توقع ہے کہ ان کا ایوانِ وزیرِ اعظم میں وقت ختم ہو رہا ہے۔ ایسے میں عام انتخابات ہو سکتے ہیں اور نیا وزیراعظم آ سکتا ہے۔

بعض ٹوری اور لیبر ارکان پارلیمان کو امید ہے کہ ٹریزا مے بریگزٹ کے دن کو ملتوی کرنے کی طرف جائیں گی اور ایک اور ریفرینڈم کی کال دیں گی۔ یہ وہ چیز ہے جسے ٹریزا مے مسلسل مسترد کرتی آئی ہیں۔