بریگزٹ معاہدے کی منظوری کے بعد مے کے دو وزیر مستعفی

ڈومینک راب اور ایستھر میکووے
،تصویر کا کیپشنپہلا استعفیٰ بریگزٹ کے وزیر ڈومینک راب کی جانب سے آیا جس کے کچھ دیر بعد ورکس اینڈ پینشن کی وزیر ایستھر میکووے بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئیں۔

برطانوی کابینہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی، یعنی بریگزٹ کے معاہدے کے مسودے کی منظوری کے بعد کابینہ کے دو ارکان اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

پہلا استعفیٰ بریگزٹ کے وزیر ڈومینک راب کی جانب سے آیا جس کے کچھ دیر بعد ورکس اینڈ پینشن کی وزیر ایستھر میکووے بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئیں۔

ڈومینک راب نے ٹوئٹر پر اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ’آج میں بطور بریگزٹ سیکریٹری مستعفی ہو گیا ہوں۔ میں یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی حمایت نہیں کر سکتا، یہ میرے ضمیر پر بوجھ ہو گا۔ وزیراعظم کو خط لکھا ہے جس میں تمام تر وجوہات کی وضاحت کی گئی ہے، اور ان کا مستقل احترام۔‘

ایستھر میکووے نے اپنے استعفے میں وزیراعظم کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ ’آپ نے گذشتہ روز کابینہ کے سامنے جو معاہدہ رکھا وہ ریفرینڈم کے نتائج کی لاج نہیں رکھتا۔ درحقیقت یہ ان عزائم سے بھی مطابقت نہیں رکھتا جو آپ نے اپنی وزارتِ عظمیٰ آغاز پر متعین کیے تھے۔‘

اس سے قبل یورپی یونین کے مرکزی مذاکرات کار میشیل بارنیے نے کہا تھا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے معاہدے میں ’فیصلہ کن‘ پیش رفت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بارنیے نے کہا کہ بدھ کو شائع ہونے والا معاہدے کا 585 صفحات کا مسودہ ’مذاکرات کو انجام تک لے جانے والا کلیدی قدم‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ معاہدے میں ایسی شرائط رکھی گئی ہیں جن کے تحت آئرلینڈ کے ساتھ سخت سرحد سے بچا جائے گا۔

بارنیے کا یہ بیان اس وقت برطانوی وزیرِ ٹریزا مے کی جانب سے مسودے کی حمایت کے بعد آیا۔

ایک طرف تو برطانیہ کا یورپی یونین سے منظم طریقے سے اخراج کو ’فیصلہ کن قدم‘ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن دوسری طرف یورپین یونین کے 27 ملکوں کے رہنماؤں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ اس معاہدے کو منظور کیا جائے یا نہیں۔

میشیل بارنیے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمیشیل بارنیے نے کہا کہ بریگزٹ کا وقت بڑھایا جا سکتا ہے

کابینہ نے منظوری دے دی

اس سے قبل وزیراعظم ٹریزا مے نے کہا تھا کہ ان کی کابینہ نے برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی یعنی بریگزٹ کے حوالے سے ایک مجوزہ معاہدے کی حمایت کر دی ہے۔

وزیراعظم نے یہ اعلان پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے ایک کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے عمل کے سلسلے میں یہ ایک فیصلہ کن قدم ہے اور آئندہ چند روز میں معاہدہ حمتی طور پر طے کر لیا جائے گا۔

یورپی یونین کے مرکزی مذاکرات کار نے کہا ہے کہ یہ دونوں اطراف کے مفاد میں ہے۔ تاہم بریگزٹ کے نمایاں حامی جیکب ریس موگ نے اسے ’سڑا ہوا معاہدہ‘ قرار دیا ہے۔

585 صفحات پر مبنی یہ مجوزہ معاہدہ شائع کر دیا گیا ہے اور اس کا مختصر ورژن بھی جاری کیا گیا ہے۔ اس میں برطانیہ اور یورپی یونین کے مستقبل کے روابط کے بارے میں تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ میں بریگزٹ کے حوالے رہنما گاے ورہوفسٹاڈ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بریگزٹ کو ممکن بنائے گا، برطانیہ اور یورپ یونین کے قریبی رشتے کو قائم رکھے گا، شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے گا اور آئرلینڈ کے لیے ایک سخت تر سرحد نہیں ہونے دے گا۔

اس معاہدے پر تنقید آئرلینڈ کی سرحد کے حوالے سے کی گئی ہے۔

Theresa May

،تصویر کا ذریعہPA

معاہدے میں کیا ہے؟

اس مجوزہ معاہدے میں ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جنھیں عام طور پر ’طلاق‘ کے معاملات کہا جا رہا تھا۔ اس میں اس بات کا عزم کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں اور یورپ میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

اس میں مارچ 2019 میں برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد 19 ماہ کا ایک منتقلی دورانیہ بھی رکھا گیا ہے اور مالی حوالے سے برطانیہ کی جانب سے 39 ارب پاؤنڈ کی ادائیگی بھی رکھی گئی ہے۔

مذاکرات کا سب سے متنازع حصہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ اگر برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ نہیں ہوتا تواس بات کی ضمانت دی جائے کہ برطانیہ اور آئرلینڈ کی سرحد پر لوگوں کی آمد و رفت کے لیے چیک پوسٹیں نہیں بنائی جائیں گی۔

دونوں قریقوں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ضمانت نہیں مگر اس سلسلے میں متبادل نظام بنایا جائے گا۔

یورپی یونین کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن مائیکل بارنیئیر کا کہنا تھا کہ اگر جولائی 2020 تک ایسا ممکن نہ ہو سکا تو منتقلی دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے اور اگر پھر بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوتا تو ضمانتی اقدامات لاگو ہو جائیں گے۔

ان اقدامات میں برطانیہ اور یورپی یونین کو ایک مشترکہ کسٹمز علاقے مانا جائے گا تاکہ سرحد پر چیک پوسٹوں کی ضوروت نہ پڑے۔

ادھر ٹوری پارٹی کے رکن اراکینِ پارلیمنٹ اس بات پر ناراض ہیں کہ ان کے خیال میں اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ کو آئندہ کئی سالوں تک یورپی یونین کے قوانین ماننا پڑیں گے۔