بریگزٹ پر ٹریزامے کا معاہدہ برطانوی پارلیمان میں تیسری بار مسترد

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ کی پارلیمان میں وزیر اعظم ٹریزامے کے بریگزٹ معاہدے کو تیسری مرتبہ کثرت رائے سے مسترد کردیا۔
برطانیہ نے 29 مارچ کو یعنی آج یورپی یونین سے علیحدہ ہونا تھا لیکن ٹریزامے نے یورپی یونین کے رہنماؤں سے گذشتہ ہفتے کچھ وقت مانگا تھا۔
برطانوی ارکان پارلیمان نے یورپی یونین سے نکلنے کے معاہدے کو 286 کے مقابلے 344 ووٹوں سے مسترد کیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ نے یورپی یونین کی جانب سے بریگزٹ کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن و 22 مئی یک مؤخر کرنے اور کسی معاہدے کے تحت نکلنے کا ایک اور موقع گنوا دیا ہے۔
اسی بارے میں
برطانوی وزیراعظم کو 10 اور 11 اپریل کو برسلز میں بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب برطانیہ کے پاس دو ہفتے ہیں کہ یہ طے کرنے کے لیے کہ یورپی یونین سے مزید مہلت طلب کریں یا پھر 25 اپریل کو یورپی اتحاد سے الگ ہو جائیں۔
بغیر معاہدے نکلنے کا امکان زیادہ
یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ قوی امکان یہی ہے کہ بریگزٹ بنا کسی معاہدے کے ہو گا۔
یورپین کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک نے بریگزٹ کی نئی ڈیڈ لائن سے دو دن قبل یورپی رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہے۔
اس دوران وہ برطانیہ کی جانب سے طویل مہلت کی ممکنہ درخواست پر غور کریں گے۔ تاہم یورپین کمیشن کے سربراہ کے خیال میں موجودہ حالات کے مطابق بریگزٹ بنا کسی معاہدے کے ہی ہو جائے گا۔
برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزامے کا کہنا ہے کہ انخلا کا معاہدے تیسری مرتبہ مسترد کیے جانے کے بعد اب بریگزٹ میں طویل تاخیر ناگزیر ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بریگزٹ کے حق میں احتجاج
حکومت کی جانب سے تیسرے مرتبہ معاہدہ مسترد کیے جانے کے بعد ہزاروں افراد نے ویسٹ منٹسر کے باہر بریگزٹ کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ احتجاج کے شرکا دور دور سے آئے تھے جن میں شمال مشرقی برطانوی باشندے بھی شامل تھے۔
ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ فوری طور پر یورپی یونین کے علیحدگی اختیار کی جائے۔ انھوں نے سیاستدانوں پر جمہوریت کا ناکام کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
معاہدے کے مسترد کیے جانے پر بعض برطانوی افراد نے مسرت کا اظہار کیا کیونکہ ان کے خیال میں معاہدہ ان کے حق میں نرم تھا۔ جبکہ کئی لوگوں کو خدشہ ہے کہ شاید ریفرنڈم دوبارہ کروانا پڑے گا۔
شہر میں جوابی مظاہروں کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
کیا اور کوئی راستہ ہے؟
حکومت یہ تجویز دے سکتی ہے کہ اس معاملے پر مزید بات چیت کی جائے لیکن اس کے لیے مزید وقت درکار ہو گا تو اس صورتحال میں دو راستے ہو سکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ برطانوی حکومت یورپی اتحاد کو کہہ سکتی ہے کہ اتحاد سے نکلنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے لیکن اس آپشن پر یورپی اتحاد میں شامل تمام ممالک کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔
دوسرا یہ کہ حکومت آرٹیکل 50 کو منسوخ کر سکتی ہے جو کہ یورپی اتحاد سے نکلنے کے عمل کو شروع کرنے کی قانونی شق ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یورپی اتحاد آیا دوبارہ سے بات چیت میں شامل ہونا چاہتا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ اس سے دیگر بہت سے سیاسی مسائل شروع ہو سکتے ہیں۔











