بریگزٹ: ٹریزا مے کا معاہدہ 149 ووٹوں سے مسترد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم ٹریزامے کی جانب سے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کی ڈیل کو پارلیمانی اراکین نے دوسری بار مسترد کر دیا ہے اور اب اس معاہدے کے لیے اپنائے گئے لائحہ عمل پر مزید ابہام پیدا ہو گیا ہے۔
جنوری کے بعد ایوان میں اراکین نے منگل کو اس معاہدے کو 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے مسترد کیا۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اب اراکین پارلیمان اس بارے میں ووٹ ڈالیں گے کہ کیا برطانیہ کو معاہدے کے بغیر ہی 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے اور اگر اس میں بھی ناکامی ہوئی تو پھر سوال یہ ہو گا کہ کیا بریگزیٹ کو التوا میں ڈال دیا جائے۔
بریگزٹ ڈیل پر اراکینِ پارلیمان کی ووٹنگ سے پہلے برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا کہ وہ اس ڈیل پر ’لازمی قانونی‘ تبدیلیوں کے حصول میں کامیاب رہی ہیں۔
تاہم یورپی کمیشن کے صدر ژان کلاؤڈ جنکر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس ڈیل کو ووٹنگ میں شکست ہوئی تو تیسرا موقع نہیں ملے گا۔‘
یہ بات برطانوی وزیر اعظم اور یورپین کمیشن کے صدر نے سٹارسبوگ میں رات گئے ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آخری مرتبہ وزیر اعظم کی مجوزہ بریگزٹ ڈیل کو پارلیمان کے سامنے جنوری میں پیش کیا گیا تھا اور اس میں اسے 230 ووٹوں سے تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ژان کلاؤڈ جنکر اور مائیکل بارنئیر سے بات چیت کے دوران دو دستاویزات پر تمام فریقین متفق ہوئے۔ کیگنٹن کہتے ہیں کہ یہ نہ صرف برطانیہ کے یورپ سے انخلا کے معاہدے کو ’مضبوط اور بہتر‘ بنائے گا بلکہ مستقبل کے تعلقات کے سیاسی اظہار کو بھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلی دستاویز: برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا کا ’مشترکہ لازمی قانونی دستاویز‘ ہے۔
وزیر اعظم مے کہتی ہیں کہ اگر یورپی یونین نے برطانیہ کو بیک سٹاپ تک محدود کرنے کی کوشش کی تو اس دستاویز کو یورپی یونین کے خلاف ’باقاعدہ زیر بحث‘ لانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک طرح کا حفاظتی اقدام ہے۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ برطانیہ کے رواں ماہ یورپ سے اخراج یا بریگزٹ پر ڈیل کا معاملہ اور مستقبل اب ارکانِ پارلیمان کے ہاتھوں میں ہے۔
یورپی حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے 'آئرش بیک سٹاپ' کے معاملے پر ارکانِ پارلیمان کو ایک بار پھر یقین دہانی کروائی ہے۔
بیک سٹاپ کا حل برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان دسمبر 2017 میں طے پانے والا معاہدہ ہے جس کا مقصد برطانیہ میں موجود آئرلینڈ اور شمالی آئر لینڈ کے درمیان سرحد پار تعاون برقرار رکھنا، آئرش جزیرے کی معیشت میں مدد کرنا اور گڈ فرائیڈے امن معاہدے کی پاسداری کرنا شامل ہے۔
اگر برطانیہ یورپ سے علیحدہ ہو جاتا ہے تو وہ اشیا کی درآمد اور برآمد پر نئے قوانین لاگو کرے گا، لیکن برطانیہ میں موجود آئر لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کے درمیان 'بیک سٹاپ' معاہدے کی وجہ سے آئر لینڈ کی امپورٹ ایکسپورٹ اور کسٹمز قوانین یورپی قوانین کی پاسداری کریں گے۔
لیکن ارکانِ پارلیمان کو اس بات کا خدشہ ہے کہ برطانیہ یورپ سے نکلنے کے بعد بھی یورپی قوانین کی پاسداری کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ برطانیہ کو 29 مارچ تک یورپی یونین سے نکلنا ہے۔ تاہم برطانوی ارکانِ پارلیمان نے جنوری میں وزیر اعظم کی طرف سے پیش کی گئی ڈیل کو مسترد کیا تھا اور اس میں اہم تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔ لیکن زیادہ تر ارکانِ پارلیمان کو بل میں شامل آئرش 'بیک سٹاپ' کے نکتے پر اعتراض ہے۔
اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو کیا ہو گا؟
اگر منگل کو برطانوی پارلیمان میں بل نہ منظور ہو جاتا ہے تو اس صورت میں برطانیہ بغیر کسی معاہدے کے یورپی اتحاد سے نکل سکتا ہے۔
اس سلسلے میں قانون موجود ہے جس کے مطابق برطانیہ 29 مارچ کی رات 11 بجے کے بعد یورپی یونین کا رکن نہیں رہے گا۔
تاہم مبصرین کے نزدیک ایسی صورت حال پہاڑ سے نیچے گرنے کے مترادف ہو گی جس میں راتوں رات قانونی تارکین وطن پر شرائط نافذ ہوں گی جبکہ دونوں شراکت داروں کی تجارت عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کے تحت ہو گی۔
حکومت ممکنہ طور پر نو ڈیل بریگزٹ کے حوالے سے کچھ قانون سازی کر سکتی ہے لیکن یہ لازمی نہیں ہے۔
نو ڈیل بریگزٹ کے امکان سے ناراض ارکانِ پارلیمان کی وجہ سے آٹھ جنوری کو حکومت کو پارلیمان میں قانون سازی کی ایک کوشش کے دوران شکست بھی ہوئی تھی۔
کیا اور کوئی راستہ ہے؟
حکومت یہ تجویز دے سکتی ہے کہ اس معاملے پر مزید بات چیت کی جائے لیکن اس کے لیے مزید وقت درکار ہو گا تو اس صورتحال میں دو راستے ہو سکتے ہیں۔
پہلا یہ کہ برطانوی حکومت یورپی اتحاد کو کہہ سکتی ہے کہ اتحاد سے نکلنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے لیکن اس آپشن پر یورپی اتحاد میں شامل تمام ممالک کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔
دوسرا یہ کہ حکومت آرٹیکل 50 کو منسوخ کر سکتی ہے جو کہ یورپی اتحاد سے نکلنے کے عمل کو شروع کرنے کی قانونی شق ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یورپی اتحاد آیا دوبارہ سے بات چیت میں شامل ہونا چاہتا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ اس سے دیگر بہت سے سیاسی مسائل شروع ہو سکتے ہیں۔










