بریگزٹ کی بحث: کیا ہو گا، کیوں ہو گا، کب ہو گا اور ہو گا بھی یا نہیں

برطانوی پارلیمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرطانوی سیاسی میں ایسا ہیجان کم ہی دیکھنے میں آیا ہے
    • مصنف, عارف شمیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

شیکسپیئر نے اپنے شہرہ آفاق ڈرامہ ’ہیملٹ‘ میں لکھا تھا ’ٹو بی اور ناٹ ٹو بھی دیٹ از دا کویسچن‘ جس کا مطلب اس ڈرامہ میں تو یہ تھا کہ ’کروں یا نہ کروں سوال یہ ہے۔‘ ڈرامے کے کردار ہیملٹ نے یہ کیوں کہا یہ آپ ڈرامہ میں ہی پڑھیں لیکن آج کل کی برطانوی سیاست میں کچھ ایسی ہلچل مچی ہوئی ہے کہ اس مشہور ڈرامے کی یہ مشہور لائن بار بار کانوں میں سنائی دیتی ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن چاہتے ہیں کہ برطانیہ 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے یورپی یونین سے نکل جائے۔ اسے حروفِ عام میں بریگزٹ کہا جاتا ہے یعنی کہ برطانیہ کی ایگزٹ یا یورپی یونین سے نکل جانا۔

بورس جانسن سے پہلے سابق وزیرِ اعظم ٹریزا مے بھی یہی چاہتی تھیں اور ان سے پہلے سابق وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اگرچہ یورپی یونین سے نکلنا نہیں چاہتے تھے لیکن انھوں نے یہ کہہ کر کہ یہ میرا الیکشن کا وعدہ تھا کہ اس بات پر ریفرنڈم کراؤں گا کہ یورپی یونین میں رہنا ہے یا نہیں، ریفرنڈم ضرور کروایا تھا۔

جب وہ ریفرنڈم ہار گئے تو انھوں نے چپکے سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا اور حکومت چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔

ٹریزا مے نے بہت کوشش کی کہ نکلنے کی کوئی صورت ہو، یورپی یونین کے ساتھ کوئی ڈیل ہو پر کبھی یورپی یونین نہ مانی اور کبھی ان کی اپنی پارٹی اور کبھی حزبِ اختلاف۔ بالآخر انھوں نے بھی آبدیدہ آنکھوں سے استعفیٰ دے دیا۔

اب آئے بورس جانسن، لندن کے سابق میئر اور صحافی۔ یہ وہی ہیں جنھوں نے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے اپنے ہی وزیرِ اعظم اور جماعت کے خلاف مہم چلائی تھی۔

تقدیر کا کرنا ایسا ہوا کہ انھیں ان کی جماعت نے پھر وزیرِ اعظم منتخب کیا۔ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد انھوں نے جو سب سے پہلے بیان دیے ان میں بریگزٹ شامل تھا۔ انھوں نے کہا تھا جو بھی ہو ڈیل یا نو ڈیل ہم 31 اکتوبر کو یورپی یونین چھوڑ دیں گے۔

لیکن جیسا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے حال ہی میں امریکہ میں کہا تھا کہ جس طرح کے مسائل کا پاکستان میں مجھے سامنا ہے شاید کسی اور کو ہوتا تو اسے ہارٹ اٹیک آ جاتا (انھوں نے میزبان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا)۔

کچھ اسی طرح کی صورتِ حال برطانیہ میں بھی ہے۔ وزیرِ اعظم بورس جانسن نے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن پر بریگزٹ کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمان تک کو پانچ ہفتے کے لیے منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ کوئی انھیں اس سے نہ روکے۔ پر وہی ہوا جس کا انھیں ڈر تھا۔

ممبر پارلیمان تو اس کی مخالفت کرتے رہے، جمہوریت میں ایسا ہی کیا جاتا ہے لیکن پہلے سکاٹ لینڈ کی عدالت نے اسے غیر قانونی کہا اور بعد میں برطانیہ کے سپریم کورٹ نے بھی اسے غیر قانونی اور قانون توڑنے سے تعبیر کیا۔

سپریم کورٹ کی صدر لیڈی ہیل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملکۂ برطانیہ کو پارلیمان کو منسوخ کرنے کے لیے درخواست کرنا بھی غیر قانونی تھا کیونکہ اس سے پارلیمان کے آئینی تقاضوں پر پورا اترنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سبھی گیارہ ججوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے۔

ملکۂ برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبورس جانسن پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے پارلیمان کی منسوخی کے حوالے سے ملکۂ برطانیہ کے ساتھ غلط بیانی کی ہے جس کی وہ تردید کرتے ہیں

بورس جانسن سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔ انھوں نے فوراً واپس آنے کا فیصلہ کیا اور اگلے دن یعنی بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان میں جو کچھ کہا سنا گیا کہ شاید ہی کبھی پہلے ایسا کہا سنا گیا ہو۔

سبھی کچھ لکھنا ممکن نہیں لیکن چند الفاظ اور جملے شاید اس کی شدت سمجھا سکیں۔ ’غدار‘، ’ڈرپوک‘، ’بغاوت‘، ’ہتھیار ڈالنا‘، ’اخلاقیات‘، ’ذلت‘، ’یہ پارلیمان ایک مردہ پارلیمان ہے‘، ’خطرناک وزیرِ اعظم‘ وغیرہ وغیرہ۔

وزیرِ اعظم پارلیمان سے تو روکنے کے باوجود اٹھ کر چلے گئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی عندیہ دے گئے کہ ’اگر نکال سکتے ہو تو نکال لو‘ مطلب یہ کہ آؤ اور الیکشن کروا لو۔

حزبِ اختلاف یہ تو چاہتی ہے کہ وزیرِ اعظم چلے جائیں اور یہ حزبِ اختلاف کے رہنما اور لیبر پارٹی کے صدر جیریمی کوربن نے بھی کہا ہے لیکن وہ یہ نہیں چاہتی کہ بورس جانسن ایسا یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے کریں۔ تو آپشنز کیا کیا ہیں۔

آئرلینڈ میں ’ہارڈ بارڈر‘ کے خلاف مظاہرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآئرلینڈ میں 'ہارڈ بارڈر' کے خلاف مظاہروں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی

یورپی یونین سے نیا معاہدہ

اگر بورس جانسن یورپی یونین سے کوئی نیا معاہدہ کرتے ہیں اور 31 اکتوبر سے پہلے ممبر پارلیمان اس کی حمایت کرتے ہیں تو معاملہ صاف ہے۔ ڈیڈ لائن میں کوئی توسیع نہیں چاہیئے۔

یہاں سب سے بڑا مسئلہ شمالی آئرلینڈ کا ہے۔ کیا شمالی آئرلینڈ جس کی سرحد آئرلینڈ کے ساتھ ہے بریگزٹ کے بعد برطانیہ سے زیادہ یورپی یونین سے جڑا رہے گا۔

یہ چھوٹا سا مسئلہ ہی اصل میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اسے مختصر طور پر ’بیک سٹاپ‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں دیکھنا یہ ہے کیا دونوں آئرلینڈ کے درمیان بارڈر پوسٹس اور چیک پوائنٹس رہیں گی یا ہٹا دی جائیں گی۔ ٹریزا مے بارڈر پوسٹس کے خلاف تھیں اور انھوں نے کہا تھا کہ کوئی برطانوی وزیرِ اعظم یہ قبول نہیں کرے گا۔

اب آتے ہیں دوسری طرف یعنی کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا۔

کوئی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں برطانیہ میں تیاریاں

،تصویر کا ذریعہGARETH FULLER/PA

،تصویر کا کیپشنکوئی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں برطانیہ میں تیاریاں

31 اکتوبر تک کوئی معاہدہ نہیں

اس کا مطلب ویسے تو یہ ہے کہ 31 اکتوبر کو رات گیارہ بج کر تیس منٹ پر برطانیہ یورپی یونین سے نکل جائے گا۔ یہاں اگر وزیرِ اعظم یورپی یونین سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست بھی کرتے ہیں تو یہ یونین پر ہے کہ وہ مانے یا نہ مانے۔

اس کا مطلب ہے کہ فوری طور پر برطانیہ یورپی یونین کی کسٹمز یونین اور سنگل مارکیٹ سے نکل جائے گا، یہ وہ سہولتیں ہیں جو برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بناتی ہیں۔ یہ سہولتیں فوری طور پر رک سکتی ہیں۔

اشیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کا خیال ہے کہ نو ڈیل سے معیشت کو فرق پڑ سکتا ہے

بہت سے ماہرین اور تاجر سمجھتے ہیں کہ اس سے معیشت کو بہت نقصان پہنچے گا۔ لیکن دوسرے گروپ کا کہنا ہے کہ نقصان کو بڑھ چڑھ کر بتایا جا رہا ہے اور ایسا نہیں ہو گا۔

انتخابات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیا جلد انتخابات سے بریگزٹ کا مسئلہ حل ہو جائے گا

جلد الیکشن

بہت سے لوگ جلد انتخابات کی توقع کر رہے ہیں لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ یہ اب 31 اکتوبر کے بعد ہی ممکن ہیں۔ یہ اس لیے کہ انتخابی مہم کے لیے کم از کم 25 دن چاہیئے ہوتے ہیں اور اب ایسا ناممکن نظر آ رہا ہے۔

ملکۂ برطانیہ پھر بھی 14 اکتوبر کو پارلیمان سے اپنا روایتی خطاب کریں گی جس کے بعد ہو سکتا ہے کہ دارالعوام کو کہا جائے کہ وہ جلد عام انتخابات کے متعلق حکومت کی حمایت کرے۔ اس کے لیے دارالعوام میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے لیکن ابھی تک تو ممبر پارلیمان اس کے لیے رضامند نہیں ہوئے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ حکومت ایک نیا قانون بنائے جس میں جلد انتخابات کی تاریخ ہو۔ ایسا کرنے کے لیے حکومت کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں، بس صرف سادہ اکثریت چاہیئے۔

ایک تیسرا راستہ بھی ہے جو ہے تو ذرا زیادہ ڈرامائی ہے لیکن اس سے بھی کام چل سکتا ہے اور وہ ہے عدم اعتماد کا ووٹ۔ لیکن ٹھہریے اس عدمِ اعتماد کے ووٹ کا حزبِ اختلاف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو وزیرِ اعظم خود ہی ہیں جو اپنی حکومت کے خلاف عدمِ اعتماد کے ووٹ کی درخواست کر سکتے ہیں۔

بورس جانسن اور جیریمی کوربن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعدمِ اعتماد کا ووٹ لیکن یہ لے کے کون آئے گا؟

عدمِ اعتماد کا ووٹ

ویسے تو حزبِ اختلاف کبھی بھی حکومت کے خلاف عدمِ اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کر سکتی ہے لیکن جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ ایسا بورس جانسن خود بھی کر سکتے ہیں۔

اگر زیادہ ممبر پارلیمان عدمِ اعتماد کے حق میں ووٹ ڈالیں تو پھر 14 دنوں میں موجودہ حکومت یا پھر اس کی متبادل حکومت کسی نئے وزیرِ اعظم کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کرے۔ اگر کوئی بھی ایسا نہیں کرتا تو پھر عام انتخابات یقینی ہیں۔

کیا آرٹیکل 50 کو منسوخ کرنا آسان ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیا آرٹیکل 50 کو منسوخ کرنا آسان ہو گا؟

بریگزٹ کی منسوخی

کیا ایسا ممکن ہے کہ بریگزٹ ہی منسوخ ہو جائے؟ اگر پارلیمان ہو سکتی ہے تو یہ کیوں نہیں؟ لیکن ایسا کرنا اتنا آسان نہیں اور ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کے تمام وزرائے اعظم کے سامنے یہ مشکل کھڑی رہی ہے۔ لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

اس کا طریقہ صرف قانونی ہے اور اس کے لیے آرٹیکل 50 کو منسوخ کرنا ہو گا۔ اب آرٹیکل 50 کہاں سے آیا اور یہ کیا ہے؟ پیش ہے اس کی بھی ایک جھلک۔

آرٹیکل 50 سنہ 2007 میں یورپی یونین کے ممبران ممالک کے درمیان ہونے والے لزبن معاہدے کا ایک حصہ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب کوئی ملک یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے۔

یہ آرٹیکل سابق وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے لاگو کیا تھا۔ اس آرٹیکل کو منسوخ کرنے لیے دی گئی ایک پیٹیشن پر 60 لاکھ سے زیادہ لوگ دستخط کر چکے ہیں لیکن ٹریزا مے کا موقف تھا کہ وہ اسے منسوخ نہیں کریں گی۔

اسے منسوخ کرنا بھی اتنا آسان کام نہیں ہے۔ یورپی کورٹ آف جسٹس نے گذشتہ برس کہا تھا کہ برطانیہ خود ہی آرٹیکل 50 منسوخ کر سکتا ہے اور اس کے لیے اسے 27 دیگر یورپی ممالک سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسا کرنے کے لیے اسے صرف یورپی کونسل کو ایک خط لکھنا ہوتا ہے۔ یہ کونسل یورپی یونین کے ممبر ممالک کے سربراہان پر مشتمل ہے۔

لیکن یہاں بھی کچھ شرائط ہیں۔

یورپی کورٹ آف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 50 کی منسوخی بالکل ’واضح اور غیر مشروط‘ طریقے سے ہو گی۔ ایسا نہیں کہ آج برطانیہ زیادہ وقت لینے کے لیے آرٹیکل 50 کو منسوخ کر دے اور دوبارہ کچھ عرصے بعد اسے دوبارہ لاگو کر دے۔ ایسا نہیں ہو گا۔

تاہم موجودہ حکومت تو اس پر بالکل ہی نہیں سوچ رہی۔ اس کے وزیرِ اعظم وہ ہیں جو یورپی یونین سے نکلنے کی مہم چلانے میں پیش پیش تھے تو وہ اب ایسا کیوں کریں گے۔ اگر ایسا سوچنا ہی ہے تو اسے کم از کم اس حکومت کی تبدیلی کے بعد سوچنا ہو گا۔

برطانیہ کی صرف ایک جماعت ہے جو کھلے عام اس کی منسوخی کی بات کرتی ہے۔ نہیں یہ لیبر پارٹی نہیں بلکہ لبرل ڈیموکریٹس ہیں جن کا واضع موقف ہے کہ اگر دارالعوام میں ان کی واضع برتری ہوئی تو وہ آرٹیکل 50 کو منسوخ کر کے بریگزٹ کو ختم کر دیں گے۔

سو ممکن تو ہے لیکن بس نو من تیل چاہیئے۔

برطانوی پارلیمان

،تصویر کا ذریعہUK PARLIAMENT / JESSICA TAYLOR

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ میں فیصلے کے بعد پارلیمان میں شرکت کے لیے آتے ہوئے سپیکر اور دیگر عملہ