الہان عمر: امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی مسلمان کانگریس رکن کا قتل کی دھمکی ملنے کا انکشاف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما الہان عمر اپنے خلاف ایک نسل پرست دھمکی کو منظرِ عام پر لائی ہیں جس کے مطابق انھیں ریاستی سطح پر منعقد ہونے والے ایک میلے کے دوران ’ایک انتہائی ماہر شخص کے ہاتھوں ایک بڑے ہتھیار کے ذریعے‘ قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
منی سوٹا سے منتخب ہونے والی مسلمان رکنِ کانگریس الہان عمر نے کہا ہے کہ اس طرح کے گمنام پیغامات کی بنا پر اب سکیورٹی گارڈز ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا ’لیکن جب تک ایسے شرپسند لوگ میرے اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنے رہیں گے، مجھے سکیورٹی رکھنے کی حقیقت کو ماننا پڑے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ان کا یہ اعلان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب امریکہ کی سینیٹ کے امیدوار رائے موور نے متعدد ٹویٹس میں انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان میں سے ایک میں لکھا ’صدر ٹرمپ صحیح تھے، انھیں (الہان عمر کو) صومالیہ واپس چلے جانا چاہیے۔‘
مشی گن سے منتخب ہونے والی راشدہ طلیب اور منی سوٹا سے الہان عمر وہ پہلی مسلمان خواتین ہیں جنھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کانگریس تک رسائی حاصل کی تاہم ان کے اسرائیل مخالف بیانات کی وجہ سے انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں ایلاباما سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکنز نے الہان عمر کی کانگریس سے برطرفی پر زور دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اے ایل ڈاٹ کام کے مطابق پچھلے ہفتے کے اختتام پر ریاست ایلاباما کی ریپبلیکن پارٹی نے ایک قرارداد کی منظوری دی جس میں ایلاباما کے کانگریشنل وفد کو الہان کو ملک بدر کرنے کی کارروائی کا آغاز کرنے کا کہا گیا ہے۔
بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں الہان نے لکھا ’مجھے اس بات سے نفرت ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں آپ کو اپنے ساتھی انسانوں سے بھی محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔‘
حجاب پہننے والی الہان عمر نے اپنا بچپن کینیا کے تارکین وطن کے کیمپ میں گزارا تھا جہاں ان کا خاندان صومالیہ سے نقل مکانی کر کے پہنچا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے بعد وہ ایک سپانسرشپ کی مدد سے امریکی ریاست منی سوٹا پہنچیں اور سنہ 2016 میں 36 سالہ الہان عمر پہلی صومالی امریکن قانون ساز بن گئیں۔
قدامت پسندوں نے الہان عمر کے اسرائیل سے متعلق مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے ان پر یہود دشمنی کا الزام لگایا ہے۔
الہان عمر کو اپنی جماعت کی جانب سے بھی امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پر چند بیانات کی بنا پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے تاہم انھوں نے یہود دشمن ہونے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔
الہان نے منگل کے روز جواب میں کہا ’میرا انتخاب منیسوٹا کی ففتھ ڈسٹرکٹ کے 78 فیصد لوگوں نے کیا ہے، ایلاباما کی ریپبلیکن پارٹی نے نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں موور نے کہا کہ الہان ’اسرائیل کی حلفیہ دشمن‘ ہیں اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تنقید کا حوالہ بھی دیا۔
صدر ٹرمپ نے جولائی میں کہا تھا کہ کانگریس کی چند خواتین کو اپنے ’کرپٹ اور نااہل‘ ممالک کی جانب ’واپس چلے جانا‘ چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کے بعد ان کی ایک ریلی کے دوران ’اسے واپس بھیجو‘ کے نعرے سنائی دیے۔
الہان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں اس وقت زیادہ ملتی ہیں جب صدر ٹرمپ انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو مسلمان قانون سازوں کے اسرائیل داخلے پر پابندی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا قانون ایسے لوگوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دیتا جو اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔









