ٹرمپ کی کم جونگ ان کو شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر ملاقات کی دعوت

Kim Jong-un and Donald Trump talking in Hanoi

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننومبر 2017 میں بھی صدر ٹرمپ نے شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر کا غیر متوقع دورہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خراب موسم کے باعث انھیں اپنا ارادہ بدلنا پڑا

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر ملنے کی دعوت دی ہے۔

شمالی کوریا نے اسے ’بہت دلچپسپ تجویز‘ قرار دیا ہے۔ جاپان میں جی-20 سربراہی اجلاس کے بعد امریکی صدر جنوبی کوریا کا دورہ کرنے والے ہیں۔

سنیچر کو وہ دو روزہ دورے پر سیول پہنچ رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریا کے ساتھ ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے مذاکرات کی بحالی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بظاہر غیر متوقع طور پر کم جونگ سے ملاقات کا اشارہ دیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

جاپان کے شہر اوساکا میں جی-20 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید تفصیلات بھی بتائیں۔ انھوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ سنیچر کی صبح میں نے کم جونگ کے خیالات جاننے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا ’اگر وہ وہاں آتے ہیں تو ہم ایک دوسرے سے 2 منٹ کے لیے ملاقات کریں گے اور یہ بہتر ہے۔‘ وہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان کے ساتھ ناشتے سے پہلے رپورٹروں سے بات کر رہے تھے۔

یہ تبصرہ انھوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرت سے قبل کیا۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کو عالمی ترقی کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ موجود سرکاری اہلکاروں کو کم جونگ ان کے بارے میں اس تبدیلی سے متعلق پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نومبر 2017 میں بھی صدر ٹرمپ نے شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر کا غیر متوقع دورہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خراب موسم کے باعث انھیں اپنا ارادہ بدلنا پڑا۔

شمالی کوریا نے کیا ردعمل دیا؟

اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ چوئی سن ہوئی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اس کو بہت دلچسپ تجویز سمجھتے ہیں لیکن اس متعلق ابھی تک کوئی باضابطہ دعوت نہیں موصول ہوئی۔‘

ان کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ’یہ بامعنی ملاقات دونوں سربراہوں کے تعلقات کو اور مضبوط کرے گی اور دو طرفہ تعلقات کو تقویت دے گی۔‘

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات کیسے ہیں؟

رواں سال فروری کے مہینے میں ویتنام کے شہر ہنوئی میں صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کے بعد سے یہ کچھ کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔

Donald Trump at the G20 summit

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ نے جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر سعودی شہزادے محمد بن سلمان سے ملاقات کی

سنہ 2018 میں دونوں رہنماؤں کے درمیان سنگاپور میں ہونے والے اجلاس کا دوسرا دور، ڈی نیوکلیر آئزیشن کے لیے شمالی کوریا کی رضامندی کے بغیر ہی ختم ہو گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسے ایک ’برا معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کرنا ہوں گے۔

ہنوئی مذاکرات کے بعد سے شمالی کوریا نے کم فاصلے تک نشانہ بنانے والے کئی میزائلوں کا تجربہ کرکے ٹرمپ انتظامیہ کے غصہ کو بڑھانے کا خطرہ مول لیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو ایک مرتبہ سخت اقدامات کی دھمکی دی تھی لیکن گذشتہ چند مہینوں میں کم جونگ ان کے بارے میں ان کا لہجہ مصالحت آمیز ہو گیا ہے۔

Soldiers stand guard at the DMZ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا کے سپاہی شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر پہرہ دہ رہے ہیں

گذشتہ ہفتے انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کو ایک ذاتی خط بھی بھیجا تھا جس کے مندرجات کو کم جونگ ان نے ’شاندار‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔

اس مہینے کے آغاز میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کم جونگ ان کی زیرِ قیادت شمالی کوریا میں ’زبردست صلاحیت‘ موجود ہے۔

مئی کے مہینے میں جاپان کے دورے پر کم جونگ ان کو ’انتہائی سمجھدار انسان‘ کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ شمالی کوریا سے ’بہت سے اچھی امیدیں‘ رکھتے ہیں۔

کیا واقعی ٹرمپ، کم جونگ سے ملاقات کریں گے؟

صدر ٹرمپ نے جس بے ساختہ انداز میں ٹویٹ کی اسے مدِنظر رکھا جائے تو ایسا ہونا مشکوک نظر آتا ہے۔

Kim Jong-un and Donald Trump

،تصویر کا ذریعہEPA/Getty

،تصویر کا کیپشنابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ موجود سرکاری اہلکاروں کو کم جونگ ان کے بارے میں اس تبدیلی سے متعلق پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں

کم جونگ ان کے ساتھ ان کی گذشتہ ملاقاتیں پہلے سے طے شدہ تھیں۔

گذشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے ایک سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیانی بارڈر کا دورہ کرنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔ جس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کی قیاس آرایوں کو جنم دیا تھا۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کے اہلکار دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے لیے ایک ممکنہ مقام ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن صدر ٹرمپ نے ’کم جونگ سے مختلف ذریعے سے بات چیت‘ اور ایک دوسرے سے ’دو منٹ‘ جیسی اتفاقیہ ملاقاتوں کا اشارہ دیا ہے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے میساچوسٹس انسٹیٹویٹ آف ٹیکنالوجی میں سکیورٹی سٹڈیز کے پروفیسر ویپن نارنگ کا کہنا تھا کہ شاید دونوں رہنما ٹیلیفون پر بات کرلیں یا ایک دوسرے کو ایک اور خط لکھیں۔

Kim Jong-un

،تصویر کا ذریعہkcna

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ کم جونگ مذاکرات کے لیے دوبارہ آمادہ ہو جائیں

ان کا کہنا تھا ’میں ٹرمپ اور کم کے درمیان ملاقات کی توقع نہیں رکھتا، ’بنا تیاری کے یہ خطرناک ہے کیونکہ دونوں رہنما ایک اور ناکام ملاقات برداشت نہیں کرسکتے ۔‘

صدر ٹرمپ سیول میں کیا بات چیت کریں گے؟

جنوبی کوریا میں صدر دفتر کا کہنا تھا کہ مون جے ان اور ٹرمپ ’ڈی نیوکلیر آئزیشن کے ذریعے کوریا میں دیرپا امن کے لیے تعاون پر بات کریں گے۔‘

شمالی کوریا میں امریکی سفیر سٹیفن بیگن اس وقت سیول میں بات چیت کے عمل کی تیاری کے لیے موجود ہیں۔

جمعے کو ان کا بیان جنوبی کوریا کی وزاتِ خارجہ کے ذریعے جاری کیا گیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ تعمیری بات چیت پر آمادہ ہے۔

صدر مون اپنے ہم منصب کم جونگ سے دو مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں اور انھوں نے شمالی کوریا کے ساتھ تنازعے کے خاتمے کو اپنی صدارت کا اہم مقصد بنا رکھا ہے۔

وہ ٹرمپ اور کم کی ملاقات میں ثالث رہے تھے اور ان کی کاوشوں کی بدولت بات چیت کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ مگر رواں ہفتے شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ان پر اس عمل میں ’مداخلت‘ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

صدر ٹرمپ بھی چاہیں گے کہ وہ اس سلسلے میں تعمیری تاثر دے سکیں کیونکہ امریکہ میں 2020 الیکشن مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔

Donald Trump at the G20 summit

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرواں ہفتے اوساکا میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران شمالی کوریا بحث کا اہم موضوع رہا

جنگی دور کے بعد مستقبل میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے سکیورٹی اتحاد کا موضوع بھی سیول کے ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔

جنوبی کوریا میں امریکہ کے 30000 فوجی تعینات ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ ان فوجیوں کو واپس بلا لیں گے۔

دونوں ممالک کی فوجیں سالانہ جنگی گیمز منعقد کرتی ہیں جو شمالی کوریا کے اشتعال کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن گذشتہ سال کی تنبیہ کے بعد ان گیمز کو منعقد نہیں کیا گیا۔

دوسرے ممالک کیا چاہتے ہیں؟

رواں ہفتے اوساکا میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران شمالی کوریا بحث کا اہم موضوع رہا۔

تمام فریقین نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ کوریائی خطے میں جوہری خطرہ نہ ہونا بہتر ہوگا لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے سب مختلف خیالات رکھتے ہیں۔