شمالی کوریا کا تجربہ: امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقیں

شمالی کوریا

،تصویر کا ذریعہKCNA

شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے پر مار کرنے والے بین البراعظمی میزائل کے تجربے کے بعد امریکہ اور جنوبی کوریا نے بیلسٹک میزائل کی مشقیں کی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کا میزائل شاید الاسکا تک پہنچا پائے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ ’ضبط‘ کی پالیسی کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔

دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اس پر سوچے ورنہ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔

ادھر چین اور روس نے شمالی کوریا سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو بند کرے جس کے بدلے میں امریکہ اور جنوبی کوریا اپنی مشقیں بند کر دیں گے۔

جنوبی کوریا کی جانب سے حالیہ تجربہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں کے بعد کیا گیا ہے۔

امریکہ نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلوانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

15 ممبران پر مشتمل کونسل کا بند کمرہ اجلاس بدھ کو ہو رہا ہے۔

شمالی کوریا نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بین الابراعظمی میزائل تجربہ کیا ہے۔ تاہم بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ابھی طویل فاصلے تک جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

خیال رہے کہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا سنہ 1950 سے 1953 میں جنگ بندی کے معاہدوں کے ختم ہونے کے سے اب تک تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں۔

اس سے قبل شمالی کوریا کے ہمسایہ ممالک چین اور روس نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام منجمد کر دیں۔

دونوں ملکوں نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ جنوبی کوریا میں تھاڈ میزائل نظام نصب نہ کرے۔ یہ نظام شمالی کوریا کی جانب سے آنے والے میزائل روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔