شمالی کوریا کا میزائل بین البراعظمی تھا: امریکہ نے تصدیق کر دی

میزائل تجربہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق یہ میزائل امریکی ریاست الاسکا تک پہنچ سکتا ہے

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا بین البراعظمی میزائل امریکہ کے لیے خطرہ ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ شمالی کوریا کے بین البراعظمی میزائل (آئی سی بی ایم) کے تجربے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ آئی سی بی ایم امریکہ، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں، اور اس خطے اور دنیا کے لیے نیا خطرہ پیش کر رہا ہے۔‘

اس طرح امریکہ نے تصدیق کر دی ہے کہ شمالی کوریا نے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

اس سے قبل امریکہ نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے معاملے پر غور و خوص کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔

توقع ہے کہ 15 رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہو گا۔

یہ درخواست گذشتہ ہفتے شمالی کوریا کی جانب سے اس کے پہلے بین البراعظمی میزائل تجربے کے دعوے کے بعد کی گئی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ عالمی خطرے کو ختم کرنے کے لیے عالمی عمل کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی ملک نے شمالی کوریا کو معاشی یا فوجی مدد فراہم کی یا سلامتی کونسل کی قرارداد پر مکمل عمل درآمد نہ کیا تو وہ ’ایک خطرناک انتظامیہ کی مدد کر رہے ہوں گے۔‘

میزائل تجربہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ دعویٰ ممکنہ طور پر درست ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب شمالی کوریا امریکی ریاست الاسکا کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میزائل کسی ہدف کا درست نشانہ لگانے سے قاصر ہے۔

شمالی کوریا کے ہمسایہ ممالک چین اور روس نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام منجمد کر دیں۔

اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے امریکہ اور جنوبی کوریا سے بھی کہا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں سے گریز کریں۔

دونوں ملکوں نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ جنوبی کوریا میں تھاڈ میزائل نظام نصب نہ کرے۔ یہ نظام شمالی کوریا کی جانب سے آنے والے میزائل روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ اس وقت ماسکو میں ہیں، جہاں انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کی ہے۔

شمالی کوریا کے اس دعوے کے باوجود امریکہ اور روس کا موقف ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل سے انھیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے میزائل دنیا میں کسی بھی جگہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہKCNA/REUTERS

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ذاتی طور پر اس تجربے کی نگرانی کی

اس سے پہلے شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے 'بین البراعظمی میزائل کا کامیاب تجربہ' کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بظاہر شمالی کوریا کے سربراہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا: 'اس شخص کے پاس زندگی میں کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہے؟

'یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ جنوبی کوریا اور جاپان زیادہ دیر تک صبر سے کام لیں گے۔ شاید چین زیادہ سختی سے حرکت میں آئے اور اس بےوقوفی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر ڈالے۔'