شمالی کوریا کا شارٹ رینج ایٹمی صلاحیت کے میزائل کا تجربہ

،تصویر کا ذریعہReuters
جنوبی کوریا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے قریبی ہدف کو مار کرنے والے ایٹمی صلاحیت کے حامل میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا ہے ان میزائلوں کو ملک کے مشرقی حصے جزیرہ نما ہوڈو سے داغا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ پیانگ یانگ نے کہا تھا کہ اس نے 'ٹیکٹیکل گائیڈڈ میزائل' کا تجربہ کیا ہے۔
یہ تجربہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ویتنام میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا تھا جو کہ بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی کوریا نے ’مقامی وقت کے مطابق صبح 09:06 سے 09:27 کے درمیان مشرقی ساحلی علاقے وانسن کے قریب جزیرہ نما ہوڈو سے شمال مشرق کی جانب قریبی ہدف کو مار کرنے والے متعدد میزائل کا تجربہ کیا ہے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ان میزائلوں نے جاپان کے سمندر کی جانب 70 سے 200 کلو میٹر تک پرواز کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ماضی میں بھی ہوڈو کو ایسے مختلف تجربات کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان نے اپریل میں کیے جانے والے 'ٹیکٹیکل گائیڈڈ ہتھیار' کا خود معائنہ کیا تھا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجربہ مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ ہتھیار زمین، سمندر اور ہوا سے داغا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ وہ ہتھیار میزائل تھا یا نہیں لیکن زیادہ تر مبصرین اس بات پر متفق ہیں ممکنہ طور پر یہ قریبی ہدف کو نشانہ بنانے والا ہتھیار تھا۔
گذشتہ برس کم جونگ ان نے کہا تھا کہ وہ جوہری تجربات کو روک دیں گے اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ نہیں کیا جائے گا۔
تاہم گذشتہ ماہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں شمالی کوریا کی مرکزی ایٹمی تنصیبات میں حرکت نظر آئی ہے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شمالی کوریا بم میں اسعتمال ہونے والا تابکار مواد تیار کر رہا ہے۔
شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسا چھوٹا ایٹمی بم تیار کر چکا ہے جو دور ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل میں نصب کیا جا سکتا ہے جو کہ امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔









