سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کی عارضی رہائی

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کاموں اور غیر ملکیوں سے رابطوں کے الزام میں سزا کاٹنے والی تین خواتین کارکنان کو عارضی طور پر رہا کیا گیا ہے۔
دو مختلف ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اتوار کو مزید کی رہائی میں متوقع ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برطانیہ میں قائم سعودی انسانی حقوق کی تنظیم اے ایل کیو ایس ٹی کے مطابق سزا یافتہ خواتین کارکنان ایمان الفجان، عزیزہ الیوسف اور رقیہ المحارب کو عارضی رہائی دی گئی ہے۔
یہ تینوں ان گیارہ خواتین میں شامل ہیں جنہیں ملک کے سائبر قوانین کے تحت سزا دی گئی ہے جس کی سزا پانچ سال تک کی قید ہے۔
ایمنسٹی نے اس رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رہائی عارضی نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمنٹسی کی اہلکار لین مالوف کا کہنا تھا کہ ’ان خواتین کو محض پر امن طریقے سے خواتین کے حقوق کا مطالبہ کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر ان کے پیاروں سے دور کیا گیا اور تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ایمنسٹی سعوی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے خلاف تمام الزمات ختم کیے جائیں اور دیگر کارکنوں کو بھی غیر مشروط رہائی دی جائے۔‘
ان خواتین کی قید گذشتہ سال مئی کو شروع ہوئی جب خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کا خاتمہ ہوا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
قید ہونے والے کارکنان میں سعودی امریکی کارکن ثمر بداوی بھی شامل ہیں جو کے قید بلاگر رعف بداوی کی بہن ہیں۔
بداوی کو سعودی عرب کے مردانہ نظام سرپرستی کو چیلنج کرنے پر امریکی انٹرنیشنل کریج ایوارڈ 2012 بھی دیا گیا۔
جبکہ رعف بداوی کو اسلام کا مذاق اڑانے پر سنہ 2014 میں 10 سال کی قید اور 1000 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی اہلیہ انصاف حید کینڈا میں رہتی ہیں اور کینیڈین شہری ہیں۔










