’بوئنگ 737 میکس طیارے بنانے کے لیے فنڈ نامناسب تھے‘

بوئنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بوئنگ کے ایک سابق انجینیئر نے بی بی سی کے پینوراما پروگرام کو بتایا کہ بوئنگ کے 737 میکس طیاروں کو بنانے کے لیے مناسب فنڈ فراہم نہیں کیے گئے۔

یاد رہے کہ انڈونیشیا کی لائن ایئر اور ایتھیوپیئن ایئرلائن کے دو حادثات کے بعد اس ساخت کے طیاروں کی پرواز کو روک دیا گیا ہے۔

737 میکس بوئنگ کمپنی کا سب سے تیزی سے فروخت ہونے والا طیارہ ہے اور اس کی وجہ سے کمپنی کو اربوں ڈالر کی آمدن ہوئی۔

بوئنگ نے ان دعووں کو مسترد کیا ہے اور کہا کہ وہ 737 میکس کو دنیا کا اب تک کا محفوظ ترین طیارہ بنانے کا پابند ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایڈم ڈکسن
،تصویر کا کیپشنایڈم ڈکسن نے بوئنگ کمپنی میں تین دہائی تک کام کیا

اہداف

ایڈم ڈکسن نے بوئنگ کمپنی میں 30 سال تک کام کیا ہے اور انجینئروں کی ایک ٹیم کی سربراہی کی ہے جنھوں نے 737 میکس پر کام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان پر اخراجات کو کم رکھنے کا مستقل دباؤ رہتا تھا۔

انھوں نے کہا: 'ہم نے یقینی طور پر کام کو پوری طرح سے انجام دینے میں وافر وسائل کی کمی دیکھی۔

اخراجات پر مرکوز کلچر تھا جو کہ بہت زیادہ دباؤ والا تھا۔ انجینیئروں کو اہداف دیے جاتے تھے کہ طیارے کی قیمت میں مخصوص حد تک کمی لانی ہے۔'

مسٹر ڈکسن نے کہا کہ ’انجینئروں پر اتنا دباؤ تھا کہ وہ 737 میکس کی نئی خصوصیات کو کم تر کر کے دکھائیں‘۔

انھوں نے بتایا کہ طیارے میں کی گئی تبدیلیوں کو چھوٹا دکھانے اور انھیں معمولی اور چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے زمرے میں رکھنے سے بوئنگ کو امریکی ضابطہ کار ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کم جانچ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

بوئنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا: 'اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ فرق سابق ڈیزائنوں سے اتنے مشابہ ہیں کہ انھیں سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کی بڑی تبدیلی کے زمرے میں لانے کی ضرورت نہیں۔ سرٹیفیکیشن میں بہت زیادہ دلچسپی اور اس کے تعلق سے بہت زیادہ دباؤ تھا اور تجزیہ کرنے والے انجینیئر پر یہ دباؤ بطور خاص ہوتا تھا کہ جو تبدیلیاں ہیں وہ معمولی تبدیلیاں نظر آنی چاہیں۔'

انھوں نے کہا کہ تبدیلیوں کو کم قرار دینے سے نگرانی کے معیار میں بھی ایک طرح سے کمی ہوتی ہے جس کے اثرات طیارے کی سیفٹی یا تحفظ پر بھی ہوسکتے ہیں۔ اب ان کی اپنی فیملی میں بھی طیارے کی سیفٹی کے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔

'میری فیملی کے افراد کسی 737 میکس طیارے سے سفر کرنا نہیں چاہیں گے۔ ایک نظام کے درست طور پر کام نہ کرنے کے سبب اس قسم کے بڑے حادثات ہوتے دیکھنا خوفناک ہے۔'

بوئنگ

خریداری

بوئنگ نے کہا کہ ان کے سابق انجینیئر کا بیان درست نہیں ہے۔

اس نے کہا کہ 'ہم نے کسی گوشے میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور 737 میکس کو بنانے سے پہلے ہی اس کی خریداری پر زور نہیں دیا۔'

'ہم اپنی سیفٹی، کوالٹی اور دیانت داری کی اقدار پر ہمیشہ سچائی کے ساتھ عمل پیرا ہیں اور وہ اقدار ہماری پیداوار اور کمپنی کی کارکردگی کا مظہر ہیں۔'

سنہ 2017 میں پہلی بار 737 میکس پر مسافروں نے سفر کیا لیکن ایئرلائنز کمپنیاں اس طیارے کی سنہ 2011 سے ہی خریداری کر رہی ہیں جب ان کی پہلی بار مارکیٹنگ کی گئی تھی۔

اس قسم کے پانچ ہزار طیاروں کا آرڈر دیا گیا جس سے یہ بوئنگ کی تاریخ کا سب سے تیزی سے فروخت ہونے والا طیارہ بن گيا۔

ان کی فروخت سے آنے والی امدن کو کمپنی کے ایگزیکٹو اور شیئر ہولڈروں میں بڑی بڑی ادائیگیوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔

بوئنگ
،تصویر کا کیپشنبوئنگ کا کہنا ہے کہ سیفٹی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے

سپرچارج

سنہ 2013 سے بوئنگ نے اپنے حصے داروں میں 17 ارب ڈالر تقسیم کیے اور مزید 43 ارب ڈالر اپنے شیئر خود ہی خریدنے پر صرف کیے جس سے پانچ سال کے اندر بوئنگ کے شیئرز کی قیمت تین گنا ہو گئی۔

چیف ایگزیکٹو ڈینس میولنبرگ کو سات کروڑ ڈالر ادا کیے گئے۔

ناقدین نے بوئنگ پر اپنے مسافروں کی حفاظت پر توجہ دینے کے مقابلے میں بازار حصص پر زیادہ توجہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

ماہر معاشیات ولیم لیزونک نے کہا کہ انتظامیہ کے اعلی اہلکار پیسہ کمانے پر زیادہ متوجہ تھے۔

انھوں نے کہا: 'اگر آپ اعلیٰ ايگزیکٹو کی مراعات بڑھا دیں گے اور کہیں گے کہ آپ کا کام سٹاک کی قیمت کو بلند کرنا ہے تو ایک محفوظ طیارہ بنانے پر جتنی توجہ دی جانی چاہیے اس پر اتنی توجہ نہیں دیں گے۔'

بوئنگ کا کہنا ہے کہ وہ پیسے لگانے کی متوازن حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس سے اصل تجارت اور عملے میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی ہوتی ہے اور منافع حصہ داروں کو جاتا ہے اور ان کی مضبوط بیلنس شیٹ اور کریڈٹ ریٹنگ برقرار رہتی ہے۔

ولیم لیزونک
،تصویر کا کیپشنولیم لیزونک

مارچ سے 737 میکس کی پرواز پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ضابطہ کاروں کی جانب سے اسے پھر سے پرواز کی اجازت دینے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

بوئنگ سافٹ ویئر کو ٹھیک کرنے کی کوشش میں ہے جس کی وجہ سے انڈونیشیا کی لائن ایئر اور ایتھیوپیئن ایئرلائن کے دو طیاروں کو حادثات پیش آئے۔

ایم سی اے ایس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ طیارہ کی ناک کے زاویے کو درست رکھے۔ اس کا مطلب 737 کے دوسرے طیاروں کو اڑانے والے پائلٹ اس سے ہم آہنگ محسوس کریں اور کنٹرول کو زیادہ قابل پیش گوئی بنایا جاسکے۔

لیکن پائلٹ کو ایم سی اے ایس کے بارے میں پتہ نہیں تھا کیونکہ یہ 737 میکس کے 1600 صفحات پر مشتمل تربیتی مینوئل میں شامل نہیں تھا۔

بوئنگ

بوئنگ کے نظام میں بھی ایک خطرناک نقص تھا۔ اس میں طیارہ کس زاویے پر پرواز کر رہا ہے اس کا حساب لگانے کے لیے ایک ہی سینسر کا استعمال ہوا تھا۔

انڈونیشیا کی لائن ایئر اور ایتھیوپیئن ایئرلائن دونوں پروازوں میں سینسر نے ٹھیک طور پر کام کرنا بند کر دیا جس کی وجہ سے درست پرواز پر ہونے کے باوجود طیارے کی ناک نیچے کی جانب آنے لگی تھی۔

پائلٹوں کو طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے میں دقت پیش آنے لگی کیونکہ ایم سی اے ایس ہر چند سیکنڈ بعد فعال ہو جاتا تھا۔ انڈونیشیا کی لائن ایئر کا طیارہ حادثے کا شکار ہونے سے قبل 20 سے زیادہ بار نیچے کی جانب جانے پر مجبور ہوا۔

بوئنگ

'پیچیدہ'

بوئنگ کا کہنا ہے کہ وہ واحد سنسر پر منحصر نہیں تھے کیونکہ بیک اپ کے طور پر وہاں پائلٹ تھے۔ اس نے کہا کہ ایم سی اے ایس کو نظر انداز کرنے کا ایک طریقہ ہے اور جو پائلٹ پرانا 737 طیارہ چلا چکے ہیں انھیں اس سٹینڈرڈ طریقہ کار کے بارے میں پتہ ہے۔

لیکن کرس بریڈی جیسے 737 کے پائلٹ کا کہنا ہے کہ پائلٹوں کو مورد الزام ٹھہرانا غلط ہے۔

بوئنگ

،تصویر کا ذریعہBOEING

بوئنگ نے کہا کہ وہ سافٹ ویئر کے اپڈیٹ کو نافذ کرنے، پائلٹوں کی تربیت کو حتمی شکل دینے اور گاہکوں کے اعتماد کو پھر سے بحال کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اس نے کہا: 'بوئنگ جانی نقصان پر صحیح معنوں میں افسوس کا اظہار کرتا ہے اور وہ برادریوں، گاہکوں اور ہوابازی کی صنعت کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ زخموں کے مندمل ہونے میں مد کر سکے۔'

’ہرحادثے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جانچ کی حتمی رپورٹ کے آنے سے قبل کسی بھی قسم کے اندازے سے بچنا بھی اہمیت کا حامل ہے۔'