ایتھوپین ایئر لائنز کے 737 میکس 8 طیارے کے حادثے کے بعد بوئنگ کو سخت سوالات کا سامنا

،تصویر کا ذریعہReuters
ایتھوپین ایئر لائنز کے 737 میکس 8 طیارے کے حادثے کے بعد امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو بہت سے سوالات کا سامنا ہے۔
گزشتہ اتوار کو یہ مسافر طیارہ ادیس ابابا سے کینیا کے دارلحکومت نیروبی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا اور طیارے میں سوار 157 افراد ہلاک ہو گئے جن میں عملے کے آٹھ ارکان شامل تھے۔
ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حادثہ اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق آٹھ بج کر چوالیس منٹ پر اس وقت پیش آیا جب طیارے نے ایتھوپیا کے دارلحکومت (ادیس ابابا) سے اڑان بھری۔
طیارہ ادیس ابابا سے جنوب مشرق کی جانب 60 کلومیٹر دور بیشوفٹو کی آبادی کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیے
737 کے اس ماڈل کا دوسرا حادثہ
گزشتہ پانچ مہینوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے کہ 737 میکس 8 ماڈل کا طیارہ کسی حادثے کا شکار ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ برس اکتوبر میں گرنے والا طیارہ انڈونیشیا کی لائن ایئر کا تھا اور دونوں حادثوں میں ملوث طیاروں کے درمیان موازنہ کیا جا رہا ہے۔
لائن ایئر کا طیارہ اڑان بھرنے کے فوراً بعد آسمان سے گرنا شروع ہو گیا تھا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ایتھوپین ایئر لائنز کے حادثے کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
737 میکس 8 طیارہ بالکل نیا اور جدید طیارہ ہے اور سال 2017 سے اس کا کمرشل استعمال شروع ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAIRTEAM IMAGES
ایتھیوپین ایئر لائنز نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ چار فروری کو اس طیارے کی چیکنگ کی گئی تھی۔
ایئر لائن نے اس کے ساتھ کے تیس طیارے بوئنگ سے آرڈر کر رکھے جن میں سے اس بدقسمت طیارے سمیت پانچ اب تک ایئرلائن نے وصول کیے ہیں۔ اب ائیرلائن کے پاس کے ساتھ کے چار طیارے باقی بچے ہیں۔
بوئنگ نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ تکنیکی مدد کے لیے ایک ٹیم بھیج رہے ہیں۔
حادثے کی تحقیقات
لائن ایئر کے حادثے کی تحقیقات کرنے والوں نے کہا تھا کہ پائلٹس کو طیارے کے ایک خود کار سسٹم کے ساتھ مشکل پیش آ رہی تھی۔ یہ خود کار سسٹم طیارے کی ایک نئی خصوصیت تھی اور اس کا مقصد طیارے کے انجن کو بند یا سٹال ہونے سے روکنا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس سسٹم کی وجہ سے طیارہ بار بار منھ کے بل نیچے جاتا تھا اور پائلٹس کئی کوششوں کے باوجود وہ اسے قابو میں نہ لا سکے۔
اس بارے میں سی این این سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی سابق انسپکٹر جنرل میری سکیاوہ کا کہنا تھا کہ 'یہ انتہائی مشکوک بات ہے'۔
'ہمارے پاس ایک بالکل نیا طیارہ ہے اور وہ ایک سال میں دو دفعہ گر چکا ہے۔ اس سے ہوا بازی کی صنعت میں خطرے کی گھنٹیاں بج جانی چاہیے، کیوںکہ ایسا عموماً نہیں ہوتا۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
گزشتہ اکتوبر کے حادثے کے بعد بوئنگ نے تمام ایئر لائنز کو اس سسٹم کے مسائل کے بارے میں متنبہ کر دیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے بوئنگ جلد ہی سافٹویئر میں تبدیلیاں متعارف کروائے گا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے سابق کمرشل پائلٹ اور حفاظتی کنسلٹنٹ اینڈریو بلیکی نے کہا کہ شاید سسٹم کی نئی تبدیلیوں کے بارے میں عملے کو صحیح طرح نہیں سمجھایا گیا ہو۔
انھوں نے مزید کہا کہ 'لیکن اگر آپ ہوا بازی کی تاریخ کو دیکھیں تو نئے طیارے کے متعارف ہونے کے بعد حادثات کی تعداد بڑھنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔'
حادثے کی تحقیقات ایتھوپیا کے حکام، بوئنگ کے ماہرین اور امریکہ کے قومی ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے ساتھ کرے گی۔
کاک پٹ کی ریکارڈنگ ڈھونڈنا تحقیق کرنے والوں کی فوری ترجیح ہو گی۔ ایک ریکارڈر میں اڑان کے دوران کی طیارے کی معلومات ہوتی ہیں اور دوسرے میں پائلٹس کی بات چیت کی ریکارڈنگ ہوتی ہے۔
حادثے کے بعد ہوائی کمپنیوں کا رد عمل
ایتھوپین ایئر لائنز نے کہا ہے کہ کیونکہ حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی، لیکن وہ حفظِ ماتقدم کے طور پر وہ اپنے 737 میکس 8 طیاروں کو گراؤنڈ کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس کے مین ائیر ویز نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مزید معلومات ملنے تک انھوں نے اپنے دو 737 میکس 8 طیاروں کو پروازوں سے روک دیا ہے۔
اس طیارے کو استعمال کرنے والی متعدد جنوبی امریکہ کی ائیرلائنز نے کہا ہے کہ وہ مانیٹرنگ اور تحقیقات کر رہے ہیں۔ ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز کے پاس 31 ایسے طیارے ہیں جبکہ امیریکن ایئر لائنز اور ایئر کینیڈا دونوں کے پاس 24 طیارے ہیں۔
چینی کے ہوابازی کے نگراں ادارے نے بھی مقامی ہوائی کمپنیوں کو بوئنگ 737 میکس 8 کے استعمال سے روک دیا ہے۔ چین میں ان طیاروں کی تعداد 90 سے زیادہ ہے، اس پابندی کی وجہ سے ایئر چائنہ، چائنہ ایسٹرن ایئر لائنز اور چائنہ سدرن ایئر لایئز سمیت متعدد ہوائی کمپنیاں متاثر ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گزشتہ اتوار کو پیش آنے والے حادثے کی اطلاع سب سے پہلے وزیرِ اعظم ایبی احمد نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے دی۔
انھوں نے اپنے پیغام میں کہا 'ان لوگوں سے اظہار ہمدردی جنھوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔‘
یہ ایئر لائن براعظم افریقہ کی بڑی ایئرلائنز میں سے ایک ہے اور کافی مقبول ہے کیونکہ یہ براعظم میں کافی مقامات پر جاتی ہے جبکہ دوسری ایئر لائنز صرف اپنے ممالک سے افریقہ سے باہر دوسرے ممالک جاتی ہیں۔
حفاظتی اقدامات کی وجہ سے اس ایئر لائن کی اچھی ساکھ ہے اگرچہ سنہ 2010 میں ان کا ایک طیارہ لبنان کے دارالحکومت بیروت سے اڑنے کے تھوڑی دیر بعد بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
اس حادثے میں 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نومبر 1996 میں ہونے والے ایک حادثے میں جو کہ طیارہ اغوا کرنے کی کوشش کے دوران پیش آیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔
طیارے کا ایک انجن ایندھن ختم ہونے کے باعث رک گیا اگرچہ پائلٹ نے بحیرہ عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی۔ اس حادثے میں طیارے پر سوار 175 افراد میں سے 123 ہلاک ہو گئے تھے۔
طیارے کو تیار کرنے والی کمپنی بوئنگ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’کمپنی اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔‘










