پی آئی اے طیارہ حادثہ، کب کیا ہوا؟

پی آئی اے کے حکام کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس پر تمام 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بی بی سی اردو کی پی آئی اے طیارہ حادثے کے بارے میں لائیو اپ ڈیٹس اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہیں۔ مزید اطلاعات کے لیے یہاں کلک کریں

  2. ‫حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے مسافروں کی باقیات ایمبولینس کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہیں۔ 

  3. تباہ شدہ طیارہ

    ‫پی آئی اے کی پرواز پی کے 661‬⁩ کے طیارے کا پچھلا حصہ جو مکمل حالت میں پہاڑ پر پڑا ہے۔‬ ویڈیو: طاہر عمران

  4. ’لاشوں کی شناخت میں مشکلات درپیش‘

    ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ڈاکٹر جنید سرور اور اسسٹنٹ کمشنر عنصر محمود نے یی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے لیکن لاشیں اس قدر مسخ ہوچکی ہیں ان کی نادرا سے شناخت میں مشکلات درپیش آرہی ہیں۔ دیکھیے مکمل ویڈیو 

  5. مزید دو لاشوں کی تلاش جاری

     ایبٹ آباد سے نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر غیور خان کے مطابق جائے وقوعہ پر مزید دو لاشوں کی تلاش جاری ہے لیکن اندھیرے کے باعث تلاش کے کام میں مشکلات درپیش ہیں۔ غیور خان کا کہنا ہے کہ طیارے کا ملبہ ایک بڑے علاقے میں پھیلا ہوا ہے اور روشنی کا مناسب کا انتظام نہیں ہے۔

    طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  6. بریکنگ, جہاز کے بلیک بکس اور وائس ریکارڈر مل گئے

    ایبٹ آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار طاہر عمران نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کی انجیئرنگ ٹیم کو جائے وقوعہ سے جہاز کا بلیک بکس اور وائس ریکارڈر مل گیا ہے۔ انجیئرنشگ ٹیم کے مطابق بلیک بکس اور وائس ریکارڈر کو تحقیقات کے بھیجوا دیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ پر فورنزک ٹیمیں بھی پہنچ گئی ہیں۔

    طیارہ
  7. 46 لاشیں مل گئیں

    ڈی سی او ایبٹ آباد کے مطابق طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے 46 افراد کی لاشیں مل گئی‌ ہیں۔ 

  8. آرمی چیف کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے طیارے کے حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    طیارہ حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہAP

  9. ’طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک‘

    اعظم سہگل نے بتایا کہ حادثے میں طیارے میں سوار تمام مسافر اورعملے کے ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ میتوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے کل صبح اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔

  10. ’بظاہر دہشت گردی نہیں لگتی‘

    چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل نے کہا ہے کہ چونکہ طیارے کے پائلٹ نے حادثے سے قبل مے ڈے کی کال دی تھی اس لیے بظاہر یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں لگتا۔ 

    انھوں نے کہا کہ بلیک باکس مل گیا ہے جسے طیارہ ساز کمپنی کو بھیجا جائے گا جس سے اصل وجوہات کا پتہ چل سکے گا۔

  11. ’پرواز سے پہلے طیارے میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی‘

    چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل نے منگل کی شب اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرواز سے پہلے طیارے میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی تاہم حادثے کی اصل وجوہات کا اندازہ تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔

    انھوں نے ماضی میں جہاز کی خرابی اور مرمت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جہاز خراب ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کی مرمت کی جاتی ہے۔

    انھوں نے فنی خرابی کے باوجود طیارے کو پرواز کی اجازت دینے کی تردید کی اور کہا کہ ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

  12. 40 لاشیں ہسپتال منتقل

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے 40 لاشیں ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ فوج کے مطابق امدادی آپریشن میں 500 فوجی جوان شریک ہیں جبکہ 8 آرمی ڈاکٹر، 52 پیرامیڈک سٹاف آمددی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

  13. پاکستان میں امریکی سفیر نے مسافر طیارے کے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

  14. جائے وقوعہ کے قریب موجود بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق جہاز کے ملبے میں ابھی تک آگ لگی ہوئی ہے اور لاشوں کو شناخت کے لیے ایوب میڈیکل ہسپتال ایبٹ آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ تک پہچنے کے لیے راستہ بہت دشوار گزار اور تنگ ہے اور کئی جگہوں پر ٹریفک جام ہے۔

  15. ’لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر ممکن نہیں‘

    ایبٹ آباد میڈیکل کملپکس کے ڈاکٹر عبدالمنان نے کہا ہے کہ جائے حادثہ سے ملنے والی میتیں ناقابل شناخت ہیں ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ 

    انھوں نے ایبٹ آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو ٹیلیفون پر بتایا کہ انھیں چادروں میں لپٹی لاشیں ملی ہیں اور سب کی سب جلی ہوئی ہیں، اور یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا کہ ان کے جسم کے کون کون سے حصے کہاں ہیں۔ 

    ڈاکٹر فضل منان نے کہا کہ اسلام آباد سے قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کی ٹیمیں پہنچ رہی ہیں جو ان میتوں کی شناخت میں مدد فراہم کریں گی۔

    انھوں نے کہا کہ ان لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کیا جا سکے گا جس کے بعد انھیں لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔

     انھوں نے کہا کہ اب سے تھوڑی دیر پہلے تک ان کی پاس دس لاشیں پہنچی تھیں جو سب کی سب چادروں میں لپٹی ہوئی ہیں۔

  16. مسخ شدہ لاشیں

    بی بی سی کے طاہر عمران کے مطابق حادثے کی جگہ سے آنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسافروں کی لاشیں بری طرح مسخ شدہ ہیں اور ان میں سے اب تک جلنے کی بو آرہی ہے

  17. search and rescue operation

    ،تصویر کا ذریعہISPR