فلائٹ نہ پکڑنے پر ایئرلائن کا مسافر کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بی بی سی منڈو
- عہدہ, بی بی سی کی ہسپانوی سروس
حال ہی میں ایک ائیر لائن نے ایک ایسے مسافر کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا جس نے متعدد سٹاپ والی پرواز کی آخری فلائیٹ پر سفر ہی نہیں کیا۔ یہ `سکِپ لیگنگ` یعنی سستی پرواز پکڑنے کے لیے ایک یا ایک سے زائد سٹاپ مِس کرنے والے مسافروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا نیا باب ہے۔
جرمن ایئر لائن لفتھانزا نے پرواز نہ پکڑنے پر ایک مسافر کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
لیکن یہ کیس اتنا ظلم بھی نہیں جتنا لگ رہا ہے۔
سی این این کی طرف سے حاصل کیے گئے عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک مرد مسافر، جس کا نام قانونی وجوہات پرسامنے نہیں لایا جا سکتا، نے جان بوجھ کر فرینک فرٹ میں قیام کرنے والی امریکی ریاست سیئیٹل سے اوسلو جانے والی پرواز کی آخری فلائیٹ لی ہی نہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
`چُھپے ہوئے شہر` کے لیے پروازیں
عموماً متعدد سٹاپ رکھنے والی پروازیں اُس ایئرلائن کی طرف سے استعمال کیے جانے والے کسی اہم شہر یا خاص مرکز میں ضرور ٹھہرتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متعدد سٹاپ رکھنے والی پرواز کے ٹکٹ کی قیمت کسی مخصوص جگہ تک جانے والی براہ راست پرواز کے ٹکٹ کی قیمت سے کم ہو سکتی ہے کیونکہ ایئر لائنز مانگ کی بنیاد پر ٹکٹ کی قیمت طے کرتی ہیں۔
ائیر واچ ڈاگ نامی ویب سائٹ کی ایڈیٹر ٹریسی سٹیورٹ نے بی بی سی کو بتایا `مثال کے طور پر الاسکا ایئرلائنز کی سیئیٹل سے کولمبس جانے والی براہ راست پرواز کے ٹکٹ کی قیمت 250 ڈالر ہے۔`
`اس روٹ پر امیریکن ایئرلائنز کی براہ راست پرواز نہیں چلتی لیکن الاسکا (ایئرلائنز) سے مقابلہ کرنے کے لیے (ٹکٹ) کی اسی قیمت پر پرواز شکاگو میں سٹاپ کرے گی۔`
سٹیورٹ وضاحت کرتی ہیں کہ سیئیٹل سے شکاگو کی براہ راست پرواز کی قیمت زیادہ ہو گی۔ ایسے میں سیئیٹل سے شکاگو سفر کرنے میں دلچسپی رکھنے والے مسافر امیریکن ایئرلائنز کی متعدد سٹاپ والی پرواز کا آخری سٹاپ چھوڑ کر شکاگو اتر جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے `اس سقم کا باآسانی استحصال کیا جا سکتا ہے۔`

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سکِپ لیگنگ کیا ہے؟
مثال کے طور پر کوئی شخص بوسٹن سے ہیوسٹن جانا چاہتا ہے لیکن جہاز کے ٹکٹ کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اس صورت میں وہ شخص بوسٹن سے لاس ویگس کا ایسا ٹکٹ خریدے گا جس میں جہاز ہیوسٹن میں سٹاپ کرے گا کیونکہ اس ٹکٹ کی قیمت بوسٹن سے ہیوسٹن کی براہ راست پرواز سے کم ہو گی۔ سفر کرتے ہوئے مسافر ہیوسٹن میں اتر جائے گا اور اپنے ٹکٹ کا بقیہ حصہ استعمال نہیں کرے گا۔ بنیادی طور پر مسافر نے جس سفر کے لیے ٹکٹ خریدا ہوا ہوتا ہے وہ اس سفر کو مکمل نہیں کرتے لیکن اس ٹکٹ کو خرید کر پیسے بچا لیتے ہیں۔
ایٹموسفیئر ریسرچ نامی ٹریول ایڈوائزری فرم کے بانی ہینری ہارٹ ویلڈ کا کہنا ہے `چھپے ہوئے شہروں کے ٹکٹ ایئرلائنز کا اپنا پیدا کیا ہوا مسئلہ ہے۔`
اس بارے میں وہ مزید کہتے ہیں `ایک ایئر لائن تجزیہ کار اور بزنس مین کی حیثیت سے میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ ایئرلائنز کو جب موقع ملتا ہے وہ جتنا ہو سکے (لوگوں سے پیسے) نکلوانے کی کوشش کرتی ہیں۔ کاروبار اسی کا نام ہے۔ لیکن جب ایک ایئرلائن ٹکٹ کی بیوقوفانہ قیمت لگاتی ہے اور حب (ہوائی اڈے) تک پرواز کی قیمت فضول حد تک زیادہ ہوتی ہے تو ایئرلائنز دعوت دیتی ہیں کہ لوگ چُھپے ہوئے شہروں کے لیے ٹکٹ خریدیں۔`
بات جگہ کی ہے، مسافت کی نہیں
ایم آئی ٹی کے انٹرنیشنل سینٹر آف ایئر ٹرانسپورٹیشن کے پرنسپل ریسرچ سائنسدان پیٹر بیلوبابا کہتے ہیں کہ ٹکٹ کی قیمتیں متعین کرنے کا یہ طریقہ پوری دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ بوسٹن سے لاس ویگس لوگ سیاحتی مقامات پر جاتے ہیں جس کی وجہ سے قیمت کے اتار چڑھاؤ کا فرق اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس کاروباری لوگ بوسٹن سے ہیوسٹن کا سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے ٹکٹوں کی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ دونوں مارکیٹوں میں ایئرلائنز کا مقابلہ اور ٹکٹوں کی قیمتیں بہت مختلف ہیں۔ حالانکہ بوسٹن سے ہیوسٹن کی مسافت لاس ویگس کے مقابلے میں کم ہے لیکن اقتصادی نقطۂ نظر سے بوسٹن سے لاس ویگس کے لیے کم کرائے وصول کرنا بالکل ٹھیک ہے خاص طور پر اگر حریف ایئرلائن سٹاپ کے بغیر پرواز کے لیے 199 ڈالر کرایہ وصول کر رہی ہو۔
ایئر انٹیلیجنس نامی ایویئیشن ریسرچ کمپنی کے سی ای او ٹونی ویبر کہتے ہیں کہ لفتھانزا کی طرف سے دائر کیا گیا مقدمہ مسافروں کو ڈرانے کا ایک طریقہ ہے۔
ویبر نے سکِپ لیگنگ کے ایئر لائن کی آمدنی پر اثر انداز ہونے کی وضاحت کچھ یوں کی کہ سکِپ لیگنگ کی وجہ سے ایئرلائن اپنی آمدنی کو پوری طرح بڑھا نہیں سکتیں۔ اگر وہ براہ راست پرواز کی ایک ٹکٹ بیچتے تو انھیں اس سیٹ کی زیادہ قیمت ملتی۔ لیکن چھپے ہوئے شہروں میں اتر جانے والے مسافروں کی طرف سے خریدے جانے والے ٹکٹ کی وجہ سے انھیں اس سیٹ کو کم قیمت پر بیچنے کا نقصان ہوتا ہے اور کم نفع والے کاروبار میں پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں۔
لیکن ہارٹ ایولیڈ کہتے ہیں کہ ایئر لائنز پہلے سے ہی زیادہ ٹکٹ فروخت کر دیتی ہیں کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ کچھ مسافر نہیں آئیں گے تو مشکل ہے کہ سیٹ خالی رہ جائے۔
اخلاقی معّمہ
ایئرلائن کی فیس، بری سروس، تاخیر اور منسوخی جیسے مسائل سے ہمکنار ہونے والے مسافر ایئرلائن کی پریشانیوں کے بارے میں زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔
دا نیویارک ٹائمز کے اخلاقی کالم میں سکِپ لیگنگ کو برا نہیں سمجھا گیا۔ کمنٹ کرنے والے اس بات سے متفق تھے کہ ٹکٹ خریدنے سے استعمال لازم نہیں ہو جاتا۔
پُر خطر کام
حالیہ کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسافروں کے لیے سکِپ لیگنگ کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ آپ سکِپ لیگنگ کرتے ہوئے پکڑے جا سکتے ہیں اور آپ کو ہوائی اڈے پر بھی روکا جا سکتا ہے۔
ہارٹ ویلڈ کہتے ہیں کہ پکڑے جانے کے بعد شاید آپ کو آخری وقت پر ٹکٹ خریدنا پڑے جس کی قیمت اس رقم سے زیادہ ہو جو آپ بچانا چاہ رہے تھے۔
اس کے علاوہ ایئر لائنز سکِپ لیگنگ کرنے والے مسافروں کے نام اپنی پارٹنر ایئرلائنز کو بتا سکتی ہیں اور مسافر پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
لینڈنگ ٹری پر سفر اور کریڈٹ کارڈ کے بارے میں لکھنے والی مصنف بینیٹ ولسِن کہتی ہیں `آپ کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ آپ پر مقدمہ ہو سکتا ہے، آپ اپنے تمام فریکونٹ فلائیر مائلز گنوا سکتے ہیں، جیسا کہ ہو چکا ہے۔ وہ آپ کی ممبرشپ منسوخ بھی کر سکتے ہیں۔`
اس موضوع کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں `کھلاڑی سے نفرت نہ کریں۔ کھیل سے نفرت کریں۔`

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا مسافر اکثر `سِکپ لیگینگ` کرتے ہیں؟
بی بی سی کو انٹرویو دینے والے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سِکپ لیگینگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
لیکن مسافروں میں اب اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
جے جی ایوی ایشن کنسلٹنٹس کے تجزیہ کار جون گرانٹ کہتے ہیں `کئی ایئرلائنز مسافروں کو اپنے مرکزی آپریشنل ایئرپورٹ سے سفر کروانے کی مد میں دہائیوں سے سستے ٹکٹ بیچ رہی ہیں تاکہ پیسے بچا سکیں۔
ان کا مزید کہنا تھا `کئی برسوں تک کمپنیوں نے آخری سٹاپ تک نہ جانے والے مسافروں کو نظر انداز کیا ہے۔ بہرحال سیٹیں تو پوری ہو جاتی تھیں۔`
تاہم، پچھلے کچھ برسوں میں مسافروں کو سکِپ لیگینگ کے مواقع فراہم کرنے والی متعدد ویب سائیٹس سامنے آئی ہیں۔
ایئرلائنز کو یہ بات پسند نہیں آئی اور سنہ 2014 میں امریکی ایئرلائن یونائیٹڈ نے Skiplagged.com نامی ویب سائیٹ پر `غیر منصفانہ مقابلے` کا مقدمہ دائر کر دیا۔ بعد میں شکاگو ٹریبیونل نے قانونی دائرہ کار جیسے مسائل کی بنا پر کیس برخواست کر دیا۔
ایئرلائنز دعویٰ کرتی ہیں کہ مسافروں کے ارادی منزل تک سفر نہ کرنے کی وجہ سے نہ صرف انھیں مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ استعمال نہ کی گئی سیٹ بیچنے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
مثال کے طور پر لفتھانزا نے جس مسافر پر مقدمہ دائر کیا ہے وہ واپسی پر برلِن جانا چاہتا تھا۔ اس نے فرینک فرٹ سے اوسلو کی پرواز نہیں لی اور ایک الگ پرواز کے ذریعے برلِن گیا۔
جرمن ایئرلائن نے کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے آدمی کے خلاف کیس کر دیا اور ہرجانے میں 2300 ڈالر کا مطالبہ کیا۔ اس آدمی کے سفر نہ کرنے کی وجہ سے ایئر لائن کو یہ رقم جیب سے چُکانا پڑی۔
لیکن دسمبر میں ایک کورٹ نے ایئرلائن کا دعویٰ مسترد کر دیا۔
لفتھانزا کے ترجمان کے مطابق ایئرلائن فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔
سٹیورٹ کا ماننا ہے `لفتھانزا نے اتنے پیسے اس پرواز پر نہیں گنوائے جتنے وہ قانونی فیس کے سلسلے میں خرچ کر رہا ہے۔ لیکن وہ ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔`
چند واقعات میں کمپنیوں نے سکِپ لیگینگ کرتے ہوئے پکڑے جانے والے مسافروں کے مائلیج اکاؤنٹس یعنی مخصوص ایئرلائن پر ہوائی سفر کرنے کے عوض ملنے والے ایئر مائیلز پوانٹس خالی کر دیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا مسافروں کو سکِپ لیگینگ سے نقصان ہو سکتا ہے؟
یہ حربہ استعمال کرنے والے مسافروں کو کم سامان کے ساتھ سفر کرنا پڑتا ہے کیونکہ سفر کے آغاز سے پہلے جمع کروایا گیا سامان آخری منزل تک پہنچایا جاتا ہے۔
موسم کی خرابی کی صورت میں یا غیر متوقع صورتحال کے پیشِ نظر پرواز دوسرے ہوائی اڈے پر بھی اتر سکتی ہے۔
لیکن ماہرین کے مطابق فوائد کا پلڑا پھر بھی بھاری ہے۔
سٹیورٹ کہتے ہیں `فلائیٹ پر پیسے بچانے والے لوگوں پر تنقید کرنا مشکل ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ایئرلائنز کے ٹکٹ جاری کرنے والے سسٹمز میں واضح نقص ہیں۔`









