پوپ فرانسس اپنے تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہReuters
مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس تاریخی دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔ یہ کسی مسیحی پاپائے اعظم کا عرب دنیا کا پہلا دورہ ہے۔
دبئی پہنچنے پر ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے ان کا استقبال کیا۔
پوپ ایک بین المذہبی کانفرنس میں شرکت کے لیے دبئی گئے ہیں جس میں منگل کو قریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد شرکت کریں گے۔
متحدہ عرب امارات کے لیے روانگی سے قبل انھوں نے یمن جنگ کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جس میں متحدہ عرب امارات بھی شریک ہے۔
پوپ کا کہنا تھا ’یمن میں لوگ طویل لڑائی سے تھک چکے ہیں اور بچے بھوک کا شکار ہیں انہیں خوراک تک رسائی نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا ’ان بچوں اور ان کے والدین کی آہیں خدا تک پہنچ رہی ہیں۔‘
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پوپ اس مسئلے کو متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران نجی سطح پر اجاگر کریں گے یا کسی عوامی فورم پر۔ متحدہ عرب امارات سعودی قیادت میں یمن کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
متحدہ عرب امارات میں لگ بھگ دس لاکھ رومن کیتھولک آباد ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق فلپائن اور انڈیا سے ہے۔
منگل کے اجتماع کے لیے پاسز حاصل کرنے کے لیے لوگ قطاروں میں کھڑے رہے۔ ان میں سے کچھ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پوپ کے دورے سے برداشت کے حوالے سے ان گفتگو کا آغاز ہو گا جس کے بارے میں سارے دنیا سننا چاہتی ہے۔
جمعرات کو ایک ویڈیو پیغام میں پوپ نے کہا تھا ’ خدا پر ایمان ہمیں متحد کرتا ہے تاکہ منتشر، یہ اختلاف کے باوجود ہمیں قریب لاتا ہے، یہ ہمیں کشیدگی سے دور لے جاتا ہے۔‘
انھوں نے متحدہ عرب امارات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سر زمین بھائی چارے، اور مختلف تہذیبوں اور شہریتوں کے لوگوں کے ملاپ کی جگہ ہے اور یہ مخلتف لوگوں کے ایک ساتھ رہائش کی ایک مثال ہے۔‘
ابوظہبی میں قیام کے دوران پوپ قاہرہ کے مسجد الظہر کے امام شیخ احمد الطیب سے بھی ملیں گے۔









