امریکہ کی شام سے واپسی ’مشروط‘ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا دارومدار چند شرائط کے پورا ہونے پر ہے۔ ان کا یہ بیان اس خیال کو تقویت دینا ہے کہ امریکہ شام سے اپنے فوجیوں کے انخلاء کا عمل سست کر رہا ہے۔
جان بولٹن نے، جو آجکل ترکی اور اسرائیل کے دورے پر ہیں، کہا کہ وہ ترکی سے شمالی شام میں کردوں کی حفاظت کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کی باقیات کو شکست دی جائے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شام سے اپنی فوج کے انخلاء کا اعلان کرنے کے بعد شدید ک تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے اس موضوع پر دسمبر میں اپنے پہلے اعلان میں کہا تھا کہ ’وہ سب واپس آ رہے ہیں اور فوراً واپس آ رہے ہیں‘۔ صدر ٹرمپ نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کو شکست دی جا چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی حکام نے کہا کہ فوجیوں کو شام سے نکلنے کے لیے تیس دن دیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی اعلان ان کے اتحادیوں اور امریکی محکمہ دفاع کے حکام دونوں کے لیے حیرانکن تھا۔ اس کے فوراً بعد امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور ایک اور اعلیٰ اہلکار بریٹ مکگرک اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے تھے۔
سنیچر کو محکمہ دفاع کے چیف آف سٹاف کیون سوینی محکمہ دفاع کے مستعفی ہونے والے تیسرے اہم اہلکلار بن گئے تھے۔
دریں اثناء شام میں امریکی اتحادی کرد ترکی کی طرف سے پیش قدمی کے خدشے کے پیش نظر اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے تھے۔ ترکی کردوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس وقت اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا تھا جب انہوں نے کہا فوج آہستہ آہستہ نکالی جا رہی ہے اور اس دوران ان کی نام نہاد دولت اسلامیہ کی باقیات سے لڑائی بھی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شام میں امریکی موجودگی
کہا جاتا ہے کہ شام میں 2000 امریکی فوجی ہیں لیکن یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ امریکی فوج پہلی بار شام میں سن 2015 کی خزاں میں آئی تھی جب اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے کرد جنگجوؤں کی تربیت کے لیے محدود تعداد میں خصوصی دستے بھیجے تھے۔
امریکہ نے یہ قدم مجبوراً اٹھایا تھا کیونکہ اس نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف مختلف گروہوں کو تیار کرنے کی اس کی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔
اس کے بعد شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا اور مکل کے شمال مشرقی حصے میں کئی فوجی اڈوں اور ایئر فیلڈ کا جال بچھ چکا ہے۔








