’شام میں امریکی افواج کی موجودگی خودمختاری کے خلاف جارحیت‘

،تصویر کا ذریعہAFP
شامی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیرقانونی ہے اور شام کی خودمختاری کے خلاف 'جارحیت' ظاہر کرتی ہے۔
شام کی وزارت خارجہ کا یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے اس اشارے کے بعد سامنے آیا ہے کہ امریکی افواج شام کے کچھ حصوں میں غیر معینہ مدت کے لیے تعینات رہ سکتی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکی فوج شام میں موجود رہے گی تاکہ نہ صرف جہادیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہوں بلکہ شامی صدر بشار الاسد اور ان کے اتحادی ایران کی طاقت کی مزاحمت کر سکیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شام میں سات سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امرکی فوج کا مشن خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والا شدت پسند تنظیم کا خاتمہ اور اس کی واپسی کو روکنا ہے۔
تاہم انھوں نے اس کے ساتھ واضح کیا کہ غیر معینہ مدت کے لیے فوج کی تعیناتی کا مقصد شامی عوام کے لیے اس حد تک استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ وہ بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کر سکیں اور ایرانی اثر و رسوخ کو مسترد کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سٹینفرڈ یونیورسٹی میں بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت امریکی فوج کے مکمل انخلا کی صورت میں بشار الاسد اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ اپنی عوام کے خلاف ظالمانہ رویہ اختیار کیے رکھیں۔
شام کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اپنے ہی لوگوں کا قاتل طویل المدت استحکام کے لیے درکار اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔‘
خیال رہے کہ امریکہ کے شام میں دو ہزار کے قریب فوجی تعینات ہیں اور اس کے جنگی جہاز مشرقی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام سے امریکہ کے نکلنے کی صورت میں ایران میں موقع ملے گا کہ وہ شام میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکے۔
’جیسا کہ ایران کی پراکسی وارز اور عوامی بیانات کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں غلبہ چاہتا ہے اور ہمارے اتحادی اسرائیل کی تباہی چاہتا ہے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے اس کے ساتھ واضح کیا کہ امریکہ عراق سے نکلنے کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ امریکی فوجیوں کا عراق سے انخلا 2011 میں مکمل ہوا تھا تاہم 2014 میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے اس دوبارہ محدود تعداد میں فوجی عراق بھیجنے پڑے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ شام میں اپنے فوجی موجودگی کو برقرار رکھے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دولتِ اسلامیہ دوبارہ ابھر نہ سکے۔









