شام کی جنگ: سرحد پر ’دہشت گرد فوج‘ کے امریکی منصوبے پر ترکی کی تنقید

،تصویر کا ذریعہAFP
شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران اہم کردار ادا کرنے والے ممالک نے کرد اتحادی ملیشا پر مشتمل 'سرحدی سکیورٹی فورس' تشکیل دینے کے امریکی منصوبے پر شدید تنقید کی ہے۔
ترکی کے صدر اسے دہشت فورس قرار دیتے ہوئے سیریئن ڈیموکریٹک فورس کی تربیت شروع ہونے سے پہلے ہی 'اس کا گلا گھوٹنے' پر زور دیا۔
دوسری جانب شام کی حکومت کا اس منصوبے کو اپنی سالمیت پر 'حملہ' قرار دیا ہے جبکہ روس نے خبردار کیا ہے کہ اس سے اتحاد ختم ہو سکتا ہے۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورس نے امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں کی مدد سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے زیر کنٹرول رقبہ خالی کروایا ہے۔
رواں سال اکتوبر میں اس اتحاد نے شام کے شمالی شہر رقہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا۔ 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے رقہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس ڈی ایف پیش قدمی کرتے ہوئے جنوب مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے۔
امریکہ سرحدی افواج کیوں بنا رہا ہے؟
اتحادی افواج کی جانب سے ایس ڈی ایف کے ساتھ نئی سرحدی سکیورٹی فورس کو تربیت دینے کے منصوبے کی خبریں گذشتہ ہفتے 'دی ڈیفنس پوسٹ' میں شائع ہوئیں، جس میں ترجمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 230 افراد نے 'ابتدائی کلاس' میں شرکت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اتحادی افواج نے مزید کہا ہے کہ اُن کا ہدف ہے کہ وہ ’آئندہ چند برسوں میں‘ 30 ہزار افراد پر مشتمل ایک فوج تشکیل دیں۔ جن میں نصف کرد اور عرب فوجی ہوں جبکہ باقی نصف فوج میں نئے لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔'
سرحدی سکیورٹی فورسز کا مقصد شام کے ترکی کے ساتھ شمالی سرحد اورمشرق میں عراقی سرحد کو کنٹرول کرنا ہے۔
بیان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے بجائے مختلف نام لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'طاقتور باڈر سکیورٹی فورسز داعش کی آزادنہ نقل و حرکت اور غیر قانونی اشیا کے نقل و حمل کو روکیں گی۔'
ترکی کے خدشات کیا ہیں؟
ترکی نے کئی بار اتحادی افوج کی جانب سے سیریئن ڈیموکریٹک فورس کی مدد کی مخالفت کی ہے کیونکہ ایس ڈی ایف کی اکثریت کرد ملیشا وائی پی جی کے جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔
ترکی کرد ملیشا وائی پی جی کو کالعدم جماعت کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ سمجھتا ہے، جو گذشتہ تین دہائیوں سے ترکی میں کرد علاقوں کی خودمختاری کے لیے تحریک چلا رہی ہے۔
البتہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ کرد ملیشا وائی پی جی دولت اسلامیہ سے لڑائی کے لیے بہت اہم ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ امریکہ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ 'یہ ہماری سرحد پر ایک فوج تشکیل دینے جیسا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے ہے کہ ہم اس دہشت فوج کو بننے سے پہلے ہی اس کا گلہ گھونٹ دیں۔'
صدر اردگان نے کہا کہ ترکی کی افواج کی جانب سے شمالی مغربی شام کے کرد علاقوں میں آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ 'کسی بھی لمحے' شروع ہو سکتی ہیں۔
دوسرے ممالک کا ردعمل
شام میں حکومت کا کہنا ہے کہ سرحدی افواج کی تشکیل اُن کی ' سالمیت، علاقائی خودمختاری اور اتحاد پر حملہ ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔'
شام کی حکومت کے حمایت کرنے والے ملک روس کا کہنا ہے کہ 'امریکہ کے اس اقدام سے ممکنہ طور پر ترکی اور عراق کے ساتھ طویل سرحدی علاقے میں توڑ پھوڑ شروع ہو سکتی ہے۔'









