گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2018 کے پانچ حیران کن انکشافات: خواتین کو برابری دینے میں پاکستان صرف یمن سے آگے

جینڈر گیپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کو 149 ملکوں کی فہرست میں 148 نمبر پر رکھا گیا ہے

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خواتین کے حقوق کی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ ’گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2018‘ میں پاکستان کو 149 ملکوں کی فہرست میں 148 نمبر پر رکھا گیا ہے۔

جینڈر گیپ

،تصویر کا ذریعہGlobal Gender Gap Report 2018

،تصویر کا کیپشناس رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی پاکستان آخری نمبر پر ہے

پاکستان کی صورتِ حال اتنی گمبھیر ہے کہ ملک کے صدر نے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سنہ 2006 سے ہر سال شائع ہونے والی اس رپورٹ میں صنفی تفریق کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ہر ملک کی چار شعبوں میں کارکردگی کی بنیاد پر درجہ بندی کی جاتی ہے: خواتین کے لیے اقتصادی مواقعوں کی فراہمی، ان کی تعلیمی کارکردگی، صحت اور ان کو سیاسی اختیارات کی فراہمی۔

لیکن محض یہی بری خبر نہیں!

رپورٹ کے مطابق اگر دنیا نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو مرد اور عورت کے درمیان موجود تنخواہوں کے فرق کو پُر کرنے میں 100 سال سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔

جینڈر گیپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مساوات حاصل کرنے میں 200 سال لگیں گے‘

دنیا بھر میں مشترکہ طور پر عدم مساوات کی وجہ سے اقتصادی مواقعوں کی فراہمی کے حوالے سے حالات تو خراب ہیں ہی، لیکن مردوں اور عورتوں کے درمیان تنخواہوں کا فرق اس سے بھی بدتر ہے۔

البتہ سیاست وہ واحد شعبہ ہے جہاں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔ تو جہاں سیاسی برابری حاصل کرنے میں اوسطاً 107 سال لگیں گے، وہیں اقتصادی طور پر بااختیار ہونے میں مزید 202 سال بیت جائیں گے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق مردوں اور عورتوں کے درمیان تنخواہوں کے فرق کی عالمی اوسط 20 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سینیئر عہدوں پر فائض خواتین کی شرح صرف 35 فیصد ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین ایسے کام زیادہ کرتی ہیں جن کی انھیں کوئی اجرت نہیں ملتی۔

تحقیق کے مطابق 60 فیصد ممالک میں خواتین کے پاس بینکنگ اور دیگر اقتصادی سہولیات تک رسائی کے مواقع مردوں کے برابر ہیں، جبکہ جائیداد کے مساوی حقوق صرف 42 فیصد ممالک میں ہیں۔

Rwandan parliament

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمشرقی افریقہ کے ملک روانڈا کی پارلیمان میں 61 فیصد سے زیادہ اراکین خواتین ہیں

سرکاری دفاتر میں امتیازی سلوک

رپورٹ میں جن 149 ممالک کا ذکر ہے، ان میں صرف 17 ملکوں کی سربراہی خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔

پچھلی نصف صدی میں ایک خاتون وزیراعظم یا سربراہ مملکت کا اوسط دورِ حکومت 2 .2 برس بتایا جاتا ہے، اور اگر ملک کی کابینہ میں شمولیت کی بات کی جائے تو خواتین کی اوسط شرح محض 18 فیصد ہے۔

دنیا بھر میں پارلیمان میں شمولیت کے لحاظ سے خواتین کے حصے میں صرف 24 فیصد نشستیں آتی ہیں۔

لیکن اس لحاظ سے مشرقی افریقہ کے ملک روانڈا میں صورتحال کچھ منفرد ہے۔ وہاں کی پارلیمان میں 61 فیصد سے زیادہ اراکین خواتین ہیں، جس کی بدولت روانڈا کا شمار گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ میں چھٹے نمبر پر ہوتا ہے۔

جینڈر گیپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تعلیمی مواقعوں کی کمی

ورلڈ اکنامک فورم کا دعویٰ ہے کہ 44 ممالک میں خواتین کی شرح خواندگی 80 فیصد سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق افریقی ملک چاڈ میں حالات سب سے گمبھیر ہیں، جہاں صرف 13 فیصد خواتین لکھ یا پڑھ سکتی ہیں۔

لیکن مثبت بات یہ سامنے آئی ہے کہ تعلیم کے شعبے میں موجود صنفی تفریق کا خاتمہ 14 برسوں میں ممکن ہو سکتا ہے۔

لیکن رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں سکول جانے والی لڑکیوں کی شرح کم ہے۔

سیکنڈری سکول میں یہ تناسب 66 فیصد (لڑکے) اور 65 فیصد (لڑکیاں) ہے، لیکن یونیورسٹی پہنچ کر صرف 39 فیصد لڑکیاں رہ جاتی ہیں۔

Child being vaccinated

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصرف تین ممالک ایسے ہیں جہاں مردوں کی زندگی خواتین سے زیادہ لمبی ہے

صحت کی صورت حال

رپورٹ کے مطابق مردوں اور عورتوں کی عمروں کے درمیان فرق تقریباً ختم ہونے کو ہے۔

149 میں سے صرف تین ممالک ایسے تھے جہاں مردوں کی اوسط طبعی عمر خواتین سے اب بھی زیادہ ہے۔ ان میں کویت، بھوٹان اور بحرین شامل ہیں۔

Couple at the Blue Lagoon, in Reykjavik

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآئس لینڈ صنفی مساوات کے حوالے سے سرِ فہرست رہا

صرف پیسہ مسائل کا حل نہیں

اگرچہ چار ترقی یافتہ ملک - آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ - 149 ممالک میں سرِفہرست ہیں، یہ کہنا غلط ہوگا کہ صرف پیسہ ہی خوشحالی کا ضامن ہے۔

ٹاپ ٹین میں چار ترقی پذیر ممالک - نکاراگوا (5)، روانڈا (6)، فلپائن (8) اور نمیبیا (10) - بھی شامل ہیں۔

اس کے برعکس دنیا کی سب سے بڑی معیشت، امریکہ، 51ویں نمبر پر آتی ہے، جبکہ اٹلی کا 70واں نمبر ہے۔

روس (75)، برازیل (95)، چین (103) اور جاپان (110) حیران کن طور پر رینکنگ میں کافی نیچے پائے جاتے ہیں۔