جمال خاشقجی کے قتل کی ریکارڈنگ کینیڈین انٹیلیجنس نے سنی ہے: وزیراعظم ٹروڈو

گذشتہ سنیچر کو ترکی نے کہا تھا کہ اس نے یہ مبینہ آڈیو ریکارڈنگ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو مہیا کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سنیچر کو ترکی نے کہا تھا کہ اس نے یہ مبینہ آڈیو ریکارڈنگ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو مہیا کی ہیں۔

کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے تصدیق کی ہے کہ کینیڈا کے حکام نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت سے متعلق آڈیو ریکارڈنگ سنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ترکی نے اس حوالے سے کینیڈا کو مکمل طور پر معلومات دی ہیں۔‘

وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو پہلے مغربی رہنما ہیں جنھوں نے اس مبینہ ریکارڈنگ کے اپنے ملک کے حکام کے سننے کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ گذشتہ سنیچر کو ترکی نے کہا تھا کہ اس نے یہ مبینہ آڈیو ریکارڈنگ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو مہیا کی ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ انھیں یہ ریکارڈنگ دی گئی ہے یا نہیں۔

جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب نے تسلیم کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے لیکن سعودی عرب یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان کے قتل میں شاہی خاندان کا کوئی فرد ملوث ہے۔

واشنگٹن پوسٹ اخبار سے منسلک خاشقجی سعودی حکمرانوں کے بڑے ناقدین میں سے تھے۔

وزیرِاعظم ٹروڈو نے اس بات کا واضح جواب نہیں دیا کہ اس پیش رفت سے سعودی عرب اور کینیڈا کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیرِاعظم ٹروڈو نے اس بات کا واضح جواب نہیں دیا کہ اس پیش رفت سے سعودی عرب اور کینیڈا کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔

سعودی عرب نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کسی امریکہ اہلکار کو بتایا تھا کہ جمال خاشقجی خطرناک اسلامی شدت پسند تھے۔

وزیرِاعظم ٹروڈو نے یہ اعلان پیرس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیا ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ انھوں نے ذاتی طور پر یہ ریکارڈنگ نہیں سنی تاہم کینیڈا کی انٹیلیجنس ایجنسی کے چند حکام نے یہ سنی ہے۔

کینیڈا کی سکیورٹی انٹیلیجنس سروس (سی ایس آئی ایس) کے ترجمان نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سی ایس آئی ایس کے اہلکار اس قتل کی تفتیش کے سلسلے میں ترکی گئے تھے اور انھوں نے وہاں پر یہ ریکارڈنگ سنی تھی۔

وزیرِاعظم ٹروڈو نے اس بات کا واضح جواب نہیں دیا کہ اس پیش رفت سے سعودی عرب اور کینیڈا کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا۔