غزہ میں اسرائیلی خفیہ آپریشن کے بعد مزید حملے، تین فلسطینی ہلاک

ترکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

غزہ میں اسرائیلی فوج کے خفیہ آپریشن میں حماس کے کمانڈر سمیت سات فلسطینیوں اور ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے ایک دن بعد علاقے میں ایک مرتبہ پھر پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں مزید تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

خفیہ آپریشن کے بعد فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیل پر 300 راکٹ اور مارٹر فائر کیے گئے ہیں جن میں سے ایک مسافر بس پر بھی لگا جس سے اس کے قریب تعینات اسرائیلی فوجی شدید زخمی ہوا ہے۔

اسرائیل نے اس کے جواب میں غزہ میں 70 سے زیادہ حملے کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف حماس اور اسلامی جہاد کے ٹھکانے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ان حملوں میں مارے جانے والے تین فلسطینیوں میں سے دو عسکریت پسند بتائے جاتے ہیں۔

حماس کے زیر انتظام فلسطینی وزارت صحت کے مطابق نو فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے دس شہری زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اشکالون میں ایک شخص اپنے مکان پر راکٹ لگنے سے ہلاک ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کے میجر جنرل کامل ابو رکن نے حماس کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ 'انھوں نے آخری حد عبور کر لی ہے' اور 'اسرائیل تمام دہشت گردی اور راکٹ حملوں کے خلاف آہنی ہاتھ سے جواب دے گا۔'

غزہ
،تصویر کا کیپشنغزہ کی پٹی 41 کلومیٹر طویل اور 10 کلومیٹر چوڑی ہے اور یہاں 19 لاکھ افراد آباد ہیں۔ اس کے ایک طرف بحیرہ روم اور اس کی سرحدیں اسرائیل اور مصر سے ملتی ہیں

اسرائیلی رد عمل کیا ہے؟

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی اپنا دورہ فرانس ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور فوراً ملک روانہ ہو گئے تاکہ سکیورٹی اداروں کے سربراہان سے اس حوالے سے گفتگو کر سکیں۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں تشدد کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں ایک اسرائیلی خفیہ کارروائی کے دوران ایک فلسطینی کمانڈر سمیت سات فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق جھڑپ شروع ہونے پر ایک اسرائیلی فوج بھی ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ سویلین گاڑی میں آنے والے اسرائیلی اہلکاروں نے حماس کے کمانڈر کو ہلاک کیا۔ واقعے کے بعد جنوبی اسرائیلی علاقوں میں غزہ سے داغے گئے راکٹوں کے بارے میں خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے تاہم ان سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

فلطسینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی اہلکار تین کلومیٹر غزہ کی سرحد سے اندر آئےاور حماس کے عسکری شاخ عز الدين القسام کے کمانڈر نور بركة کو نشانہ بنایا۔

یہ واقعہ جنوبی غزہ میں مشرقی خان یونس کے علاقے میں پیش آیا۔ جھڑپ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی ٹینکوں اور جنگی جہازوں نے بھی علاقے پر بمباری کی۔

Hamas commander Nur Barakeh's mother at hospital morgue

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکمانڈر نور برکۃ کی والدہ صدمے سے دوچار ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فلسطینی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والے چھ افراد کا تعلق حماس سے تھا جبکہ ساتواں شخص ملیٹینٹ پاپولر کمیٹی کا رکن تھا۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ خصوصی یونٹ کا ایک اہلکار اس کارروائی میں مارا گیا اور ایک معمولی زخمی ہے۔

ان جھڑپوں کی اطلاع ملتے ہیں اسرائیلی وزایرِ اعظم بنیامن نتن یاہو وھی جنگ عظیم اول کی صد سالہ تقریبات چھوڑ کر واپس اسرائیل لوٹ رہے ہیں۔

اسرائیل نے حماس کے کمانڈر کو کیوں مارا؟

اس مشن کی خفیہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل نے اس کی تفیصلات نہیں بتائیں۔

اسرائیلی دفاعی فورس کا کہنا ہے کہ ’اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کو مارنا نہیں بلکہ اسرائیل کی سکیورٹی مضبوط بنانا تھا۔‘

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بیٹمین کا کہنا ہے کہ ایک سابق اسرائیلی جنرل کے مطابق یہ واقعہ انٹیلیجنس معلومات کے حصول کی کوشش معلوم ہوتا ہے جس کے دوران گڑ بڑ ہو گئی۔

ان کے بقول غزہ کے اندر اس طرح کی اسرائیلی فورسز کی کارروائی نایاب واقعہ ہے۔

فریقین کا کیا کہنا ہے؟

حماس کے ترجمان فوذی برھوم نے اس کارروائی کو ’اسرائیل کا بزدلانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی فورسز کے چیف گاذی آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی یونٹ نے یہ ’اسرائیلی سلامتی کے لیے انتہائی معنی خیز آپریشن انجام دیا‘۔ تاہم انھوں نے اس سے متعلق مزید کویی تفصیل نہیں دی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد غزہ سے 17 راکٹ اسرائیلی سرزمین کی جانب داغے گئے جن میں سے تین کو ہوا میں ہی تباہ کیا گیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کیوں ہے؟

حماس نے سنہ 2006 میں غزہ میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے مغربی پٹی کی تنظیم الفتح کے سابق فلسطینی صدر محمود عباس کو شکست دی۔

محمود عباس کے دور میں فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن نے اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا۔ جبکہ حماس سِرے سے ہی اسرائیل کے وجود ہی کے مخالف ہے اور اس کے خلاف تشدد کے استعمال کی حمایت کرتا ہے۔

بنیامن نتن یاہو

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبنیامن نتن یاہو اپنا غیر ملکی دورہ مختصر کر واپس وطن لوٹی

اسرائیل نے مصر کے ساتھ مل کر سنہ 2006 سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے جس کا مقصد ان کے بقول شدت پسند حملوں کو روکنا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان تین مرتبہ جنگ ہو چکی ہے جبکہ غزہ سے راکٹ داغے جانا اور اسرائیل فوج کے جانب سے فضائی حملے معمول کی کارروائیاں ہیں۔

مارچ سے اب تک اسرائیل فوج کے ہاتھوں کم از کم 200 فلسطینی مارے جاچکے ہیں جن میں سے بیشتر سرحد کے ساتھ ہونے والے ہفتہ وار مظاہروں میں ہلاک ہوئے۔ ان مظاہروں میں ہزاروں افراد ان فلسطینی مہاجرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہے جو موجودہ اسرائیل میں اپنے گھروں کو لوٹنے کا حق مانگ رہے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے صرف اپنے دفاع میں گولی چلائی جب بقول ان کے فلسطینی حملہ آور اس کی ریاستی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

جولائی میں سرحد پر ایک فلسطینی سنائپر کی گولی سے ایک اسرائیل فوجی بھی مارا گیا تھا۔