اسرائیل کا مغربی کنارے پر 2500 مکانات کی تعمیر کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر 2500 مکانات پر مشتمل مزید یہودی بستیاں تعمیر کرے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع ایوگدور لیبرمین اور وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ مکانات کی ضرورت کی وجہ سے کیا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی تازہ کوشش ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اسرائیل کی جانب سے ایسا دوسرا اعلان ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف اشارہ دیا تھا کہ وہ ان یہودی بستوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ انھوں نے ان بستوں کے حامی اہلکار کو اسرائیل کے لیے اپنا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔
سنہ 1967 میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے یہاں تعمیر ہونے والے 140 بستیوں میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں جبکہ اسرائیل اسے تسلیم نہیں کرتا۔
نئے اعلان کردہ مکانات میں سے 100 کے قریب رام اللہ کے قریب بنائے جائیں گے اور اطلاعات ہیں کہ ان کے لیے جس تنظیم نے رقم فراہم کی ہے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کا خاندان اور اعلیٰ مشیر جیریڈ کشنر چلا رہے ہیں۔
اس اعلان کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ٹوئٹر پر کہا: ’ہم تعمیرات کر رہے ہیں اور انھیں جاری رکھیں گے۔‘
نتن یاہو نے فلسطینی حکام کے ساتھ امن عمل کے حوالے سے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ اس گفتگو کے دوران امریکی صدر نے انھیں امریکہ آنے کی دعوت دی۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی اور اپنی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔
سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے متعدد بار یہودی بستیوں کی تعمیر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور 23 دسمبر کو سکیورٹی کونسل میں قرارداد پر ووٹنگ کو ویٹو نہیں کیا تھا۔









