ٹرمپ کی مداخلت پر سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قرارداد ملتوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ میں مصر کی جانب سے غربِ اردن میں اسرائیلی بستیوں کی مزحمت میں مجوزہ قرارداد پر ووٹنگ مصر کی ہی درخواست پر اس وقت ملتوی کر دی گئی ہے جب امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس معاملے میں ووٹ ڈالنے سے گریز کرنے پر غور کر رہا تھا جس صورت میں یہ قرارداد منظور ہو جاتی۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تھا۔
مصری قرارداد میں اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ نئی بستیاں بنانا بند کرے کیونکہ یہ غیر قانونی ہیں۔
امریکہ نے کئی بار اقوام متحدہ میں اسرائیل کی حمایت کی ہے اور ایسی مزاحمتی قراردادوں سے بچایا ہے۔
تاہم خیال کیا جا رہا تھا کہ اوباما انتظامیہ اس پالیسی پر عمل نہ کرتے ہوئے اس قرارداد کو منظور ہونے دے۔
جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ نے سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ وہ اس قرارداد کو روک دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلوں اور فلسیطینیوں کے درمیان امن براہِ راست مذاکرات سے آئے گا نہ کہ اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی جانے والی شرائط سے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ ’یہ قرارداد اسرائیل کو مذاکرات میں کمزور کرتی ہے اور اسرائیلیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر مصری عبد السیسی نے بھی جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی اور ان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے پر غور کرے گی۔
تاہم مصر کی جانب سے قرارداد واپس لینے پر چار مزید ممالک نے تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنی جانب سے اس قرارداد کو پیش کر سکتے ہیں۔
نیوزی لینڈ، وینزویلا، ملیشیا، اور سینیگال نے کہا ہے کہ وہ اس قراردےد کو پیش کرنے کا اپنا حق برقراد رکھے ہوئے ہیں۔
چاروں ممالک سلامتی کونسل کے مستقل ممبر نہیں تاہم اس میں دو دو سال کی تقریری رکھتے ہیں۔









