امریکہ میں فائرنگ: پانچ خونریز حالیہ واقعات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں فائرنگ کے واقعات میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہلاکت کی خبریں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے پر سب سے زیادہ بندوقیں اور پستول پائے جاتے ہیں۔
ذاتی اسلحے کے حق میں سرگرم تنظیم نیشنل رائفل ایسوسی ایشن ایسی قانون سازی کی مخالفت کرتی رہی ہے جس میں اسلحے پر کسی بھی قسم کی پابندیاں لگائی جائیں۔ بہت سے امریکہ اسلحہ رکھنا اپنا آئینی حق سمجھتے ہیں۔
ذیل میں حالیہ برسوں میں پیش آنے والے فائرنگ کے کچھ واقعات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن میں بڑے پیمانے پر جانیں ضائع ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1 نیواڈا یکم اکتوبر 2017
ہلاکتیں: 58
ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگس میں 64 سالہ سٹیون پیڈک نے ایک عمارت کی 32ویں منزل سے کنسرٹ کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر فائر کھول دیے۔
انھوں نے خودکار اسلحے کی مدد سے مسلسل دس سے 15 منٹ تک ہزاروں گولیاں برسائیں، جس سے 58 افراد ہلاک اور پانچ سو کے قریب زخمی ہوئے۔
بعد میں پیڈک نے خودکشی کر لی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
2 فلوریڈا، 12 جون، 2016
ہلاکتیں: 49
افغان نژاد عمر متین نے ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب میں فائرنگ کر کے 49 افراد کو ہلاک کر دیا، اور بعد میں خود بھی پولیس مقابلے میں مارے گئے۔
ایف بی آئی کے مطابق عمر متین نے حملے سے پہلے کال کر کے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے وفاداری کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں اس تنظیم نے بھی کہا تھا کہ ان کے 'جنگجو' نے حملہ کیا ہے لیکن حملہ آور اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان تعلق کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے اور خیال یہی ہے کہ عمر متین نے اکیلے ہی یہ حملہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہKSAT
3 ٹیکساس، 5 نومبر 2017
ہلاکتیں: 25
ڈیون پیٹرک کیلی نامی ایک شخص نے ایک چھوٹے سے چرچ پر اس وقت حملہ کر کے 25 افراد کو ہلاک کر دیا جب وہاں عبادت ہو رہی تھی۔ بعد میں وہ خود بھی ہلاک ہو گئے، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے خودکشی کی یا پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئے۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا تھا کہ یہ ٹیکساس کی تاریخ کی فائرنگ کا بدترین واقعہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہSabika Sheikh Family
4 ٹیکساس، 19 مئی 2018
ہلاکتیں: 10
امریکی ریاست ٹیکساس میں شہر ہیوسٹن کے نزدیک سانتا فے ہائی سکول میں ایک طالبعلم کی فائرنگ سے پاکستانی طالبہ سبیکا عزیز شیخ سمیت دس افراد ہلاک جبکہ مزید دس زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد طلبہ کی تھی۔
17 سالہ حملہ آور طالبعلم دیمیتریوس پگورٹزس کو حراست میں لے لیا گیا۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی طالبہ سبیکا عزیز شیخ امریکی وزارت خارجہ کے کینیڈی لوگر یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت اگست 2017 میں وہاں پڑھنے گئی تھیں۔ سبیکا نے نو جون کو واپس پاکستان آنا تھا مگر فائرنگ کا شکار ہو گئیں۔

،تصویر کا ذریعہABC News
5 کیلی فورنیا، دو دسمبر، 2015
ہلاکتیں: 16
ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنانڈینو کے ایک سوشل سروس سینٹر میں پاکستانی نژاد میاں بیوی رضوان فاروق اور تاشفین ملک نے فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا۔ بعد میں پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں دونوں حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔
ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز میں فائرنگ کرنے والے یہ دونوں افراد خودکار رائفلوں سے مسلح اور جنگی لباس میں ملبوس تھے۔













