ایلون مسک کا فراڈ، ٹیسلا کے چیئرمین نہیں رہ سکیں گے

الون مسک

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

امریکہ کی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے چیئرمین ایلون مسک نے امریکی حکام کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت اپنا عہدہ چھوڑنے اور دو کروڑ ڈالر جرمانہ بھرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

انھوں نے یہ سمجھوتہ ٹیسلا کمپنی کی نجکاری کرنے کے حوالے سے ان کی ٹویٹس سے پیدا ہونے والے تناز‏ع کے بعد کیا گیا ہے۔

جمعرات کو امریکی ریگیولیٹری ادارے سکیورٹیز اینڈ اکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے ایلون مسک کی مبینہ سکیورٹیز فراڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا تھا۔

بہر حال سمجھوتے کے تحت مسک ٹیسلا کے سی ای او تو رہیں گے لیکن وہ تین سال کے لیے چیئرمین کے عہدے سے دست بردار ہو جائيں گے۔

ایلون مسک نے ٹویٹس میں کیا کہا؟

ان پر فراڈ کا الزام اگست میں کیے گئے ان کے ٹویٹ کے بعد عائد کیا گیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ الیکٹرانک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کو سٹاک مارکیٹ سے ہٹا کر ذاتی ملکیت میں لینے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

انھوں نے لکھا کہ انھوں نے اس تجویز کے لیے 'فنڈنگ محفوظ' کر لی ہے جس میں ٹیسلا کے ہر حصص کی قیمت 420 ڈالر فی شیئر ہوگی۔ ان کے اعلان کے بعد کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں تھوڑے وقت کے لیے اضافہ نظر آیا لیکن پھر اس میں گراوٹ ہونے لگی۔

ایس ای سی کا کہنا ہے کہ ان کے دعوے 'جھوٹے اور گمراہ کن' تھے۔

ٹیسلا

،تصویر کا ذریعہReuters

حکام نے کہا 'در حقیقت مسک نے اس کے بارے میں بشمول اس کی قیمت اور سمجھوتے کی اہم شرائط کے بارے میں کسی قابل قدر فنڈنگ ذرائع سے کوئی بات نہیں کی تھی۔'

پہلے پہل ایلون مسک نے ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو 'غیر منصفانہ' کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ انھوں نے 'سچائی، شفافیت اور سرمایہ کاروں کے بہترین مفاد' میں کام کیا ہے۔

سمجھوتہ کیا ہے؟

جرمانے کے علاوہ مسک کو کمپنی کے متعلق ٹویٹ کرنے کے لیے کمپنی کے کمیونیکیشن کے ضابطے کی پیروی کرنی ہوگی۔

اس کے تحت انھیں 45 دنوں میں کمپنی کے چیئرمین کے عہدے سے دست بردار ہو جانا ہے۔

ابتدا میں ایس ای سی نے مسک پر کسی بھی عوامی سطح پر ٹریڈ کرنے والی کمپنی کے بورڈ کے رکن کے طور پر کام کرنے پر پابندی کی بات کہی تھی لیکن اب سمجھوتے کے تحت وہ کمپنی کے سی ای او رہ سکتے ہیں۔

کمپنی کے لیے ایک 'نئے آزاد چیئرمین' کی تقرری ہوگی جو کہ کمپنی کے بورڈ کی صدارت کرے گا۔

سمجھوتے کہ تحت کمپنی میں سی ای او اور چیئرمین کے کردار کو علیحدہ علیحدہ کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ کمپنی میں مسک کی اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔

ان سب کے باوجود تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ سمجھوتہ مسک کے لیے اچھا ہے کیونکہ وہ سی ای او کے طور پر کمپنی کے روزانہ کے کاموں کے ذمہ دار ہوں گے۔

ایلون مسک کون ہیں؟

الون مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے ایلون مسک نے 'ٹیسلا' اور 'سپیس ایکس' جیسی کمپنیوں میں آنے سے قبل آن لائن رقم ادا کرنے والی کمپنی 'پے پال' سے لاکھوں کمائے۔

معروف میگزن فوربز کے مطابق وہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 25ویں نمبر پر ہیں اور ان کی دولت کا تخمینہ کم و بیش 20 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔

لیکن یہ موسم گرما ان کے لیے طیران پزیر رہا ہے۔

تھائی لینڈ کے غاروں میں بچوں کو بچانے میں شامل ایک برطانوی غوطہ خور کے بارے میں الزامات کے بعد ان پر ہتک عزت کا مقدمہ چل رہا ہے جبکہ اس ماہ کے اوائل میں وہ ایک پوڈ کاسٹ کے دوران چرس کا دھواں اڑانے کے لیے تنازعے میں آ گئے تھے۔

ہر چند کہ کیلیفورنیا میں جہاں یہ پوڈکاسٹ ہو رہا تھا چرس پینا جرم نہیں لیکن اس کے بعد سے ٹیسلا کی حصص کی قیمتوں میں نو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ آئی ہے۔