ٹیسلا اب گھریلو سطح پر استعمال ہونے والی شمسی توانائی کے میدان میں

امریکہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکی شہر لاس ایجنلس میں ٹی وی سو ڈیسپریٹ ہاؤس وائزز کے سیٹ پر ان ٹائلز کی نمائش کی گئی ہے۔
    • مصنف, ڈیوو لی
    • عہدہ, شمالی امریکہ ٹیکنالوجی رپوٹر

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے چھتوں پر لگنے والی ایسی ٹائلز متعارف کروائی ہیں جن میں شمسی توانائی کے پینل لگے ہوئے ہیں۔

شیشے کی بنی یہ ٹائلز گھروں میں شمسی توانائی کے پینل لگانے کا ایک قدرے خوبصورت انداز ہے۔

امریکی شہر لاس ایجنلس میں ٹی وی سو ڈیسپریٹ ہاؤس وائزز کے سیٹ پر ان ٹائلز کی نمائش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ٹیسلا حال ہی میں مشکلات کی شکار شمسی توانائی کی کمپنی سولر سٹی کا کنٹرول سنبھالنے والی ہے۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہTesla

،تصویر کا کیپشننومبر 17 کو ٹیسلا کے سرمایہ کار سولر سٹی کو خریدنے پر ووٹ دیں گے۔

تاہم ٹیسلا میں سرمایہ کاری کرنے والے بہت سے افراد نے ایلون مسک کی جانب سے سولر سٹی کو خریدنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سولر سٹی کے سی ای او ایلون مسک کے کزن ہیں۔ نومبر 17 کو ٹیسلا کے سرمایہ کار سولر سٹی کو خریدنے پر ووٹ دیں گے۔

یاد رہے کہ ٹیسلا برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ہے اور حال ہی میں کیے گئے اعلان کے مطابق اب اس کی تمام گاڑیوں میں انھیں خودکار طریقے سے چلانے کے لیے درکار آلات نصب کیے جائیں گے۔

تاہم کیمرے، سینسرز اور ریڈارز متعارف کروائے جانے کے بعد بھی یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گاڑیوں کو مکمل طور پر خودکار بنانے کے لیے کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ٹیسلا نے گذشتہ سال آٹو پائلٹ نظام متعارف کروایا تھا جس میں خودکار بریک کا نظام شامل کیا گیا تھا۔

لیکن فی الحال کمپنی نے اس نئے نظام کا ’بھرپور‘ تجزیہ کرنے کے لیے اس آٹو پائلٹ نظام کو تمام نئی گاڑیوں میں بند کر دیا ہے۔

ٹیسلا، موٹرز

،تصویر کا ذریعہTESLA

،تصویر کا کیپشنٹیسلا کے ماڈل ایس اور ماڈل ایکس آٹو پائلٹ فیچر سے آراستہ کاریں ہیں