نیٹو نے فوجی اثاثے روسی سرحد کے قریب تعینات کیے ہیں: صدر پوتن

،تصویر کا ذریعہEPA
روسی صدر ویلادیمر پوتن نے نیٹو پر روسی سرحد کے قریب فوجی اثاثے تعینات کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو جواباً اپنے دفاع کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ اس کا یہ قدم اپنے مینڈیٹ کے مطابق ہے اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی دفاعی نوعیت کی ہے اور ضرورت کے مطابق ہے۔
نیٹو کی ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’نیٹو نے اتحاد میں شامل مشرقی ممالک میں چار ہزار فوجی تعینات کیے ہیں تاکہ کسی جارحانہ کارروائی سے نمٹا جا سکے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’نیٹو کی جانب سے تعینات کی جانے والی فوج کا مقابلہ روس کی جانب سے سرحد کے قریب ڈویژن سے نہیں کیا جا سکتا۔ روس نے یوکرین، جارجیا اور مولدووا میں ان ممالک کی خواہش کے برخلاف فوج تعینات کی ہوئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہDave Jenkins/MoD Crown Copyright/via PA Wire
فن لینڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر پوتن نے نیٹو پر الزام لگایا کہ نیٹو روس کے ساتھ فوجی فلائٹس کے قوانین پر بات چیت سے انکار کر رہا ہے۔
تاہم نیٹو نے صدر پوتن کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو روس کونسل کے اجلاس میں فوجی فلائٹس کے قوانین پر بات چیت ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روسی صدر اور نیٹو کے درمیان الزامات کا تبادلہ اس دن ہوا ہے جب برطانیہ نے کہا کہ اس نے رومانیا میں تعینات دو جنگی جہازوں کو اس وقت پرواز بھرنے کا حکم دیا جب مبینہ روسی جیٹ فائٹر بحیرہ اسود پر نیٹو کی فضائی حدود کی جانب جا رہا تھا۔
طالبان کی ہاں، افغانستان اور امریکہ کا انکار
افغان طالبان کا کہنا ہے کہ روس میں امن مذاکرات میں ان کے سینیئر رہنما حصہ لیں گے۔ افغان طالبان کا یہ بیان اس وقت آیا جب چند گھنٹے قبل ہی افغان حکومت نے ان مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کا اعلان کیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روس نے افغانستان پر بات چیت کے لیے کئی ممالک کو مدعو کیا ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔ تاہم امریکہ اور افغانستان دونوں ہی نے اس اجلاس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمارے رہنما اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ کم از کم چار سینیئر رہنما اس اجلاس میں شریک ہوں گے اور طالبان وفد کی قیادت شیر محمد عباس سٹانکزئی کریں گے۔‘
یاد رہے کہ شیر محمد عباس سٹانکزئی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ہیں۔
افغان حکومت نے ماسکو میں چار ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں شرکت سے انکار کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت طالبان کے ساتھ بغیر کسی دوسرے ملک کی مداخلت کے ’براہ راست بات چیت‘ کرے گی۔
افغانستان کی حکومت کے بیانیے میں تبدیلی آئی ہے کیونکہ بدھ کی صبح ہی افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے روسی سفیر سے کہا تھا کہ روس طالبان پر دباؤ ڈالے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کا آغاز کریں۔










