کابل کے تعلیمی مرکز میں دھماکہ، 48 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان میں حکام کے مطابق دارالحکومت کابل کے تعلیمی مرکز میں ہونے والے بم دھماکے میں 48 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور اس وقت مرکز میں داخل ہوا جب وہاں پڑھائی کا عمل جاری تھا اور اس نے اندر آتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے امتحانات کی تیاری کر رہے تھے۔
ایک عینی شاہد سید علی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’تعلیمی مرکز میں زیادہ تر نوجوان لڑکے مارے گئے۔ یہ انتہائی خوفناک تھا اور بہت سے طلبا دھماکے کے نتیجے میں ٹکڑوں میں بٹ گئے۔‘
حکام کے مطابق شمالی صوبے بغلان میں بھی ایک حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں نو پولیس اہلکار اور 35 سپاہی مارے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
طالبان نے کابل حملے سے لاتعلقی کا دعوی کیا ہے۔
اس سے قبل بدھ ہی کو افغان طالبان نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان میں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے عملے کو محفوظ راستہ نہیں دیں گے۔
طالبان نے الزام لگایا ہے کہ عالمی ریڈ کراس کابل کی جیل میں طالبان قیدیوں کی مدد کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یاد رہے کہ آئی سی آر سی جیلوں میں قیدیوں کی دی جانی والی سہولیات کی نگرانی کرتی ہے اور طبی امداد دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آئی سی آر سی نے افغانستان اپنی کارروائیاں گذشتہ سال اس وقت کم کر دی تھیں جب اس کے سات کارکنان ہلاک ہوئے تھے۔
آئی سی آر سی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کو طالبان کے اس اعلان پر تشویش ہے۔
ریڈ کراس کی ترجمان آندریا پریٹا نے کہا کہ ریڈ کراس طالبان کے ساتھ رابطے ہیں ہے اور امید ہے کہ اس مسئلے کا حل نکل آیے گا تاکہ افغانستان میں کام جاری رکھا جا سکے۔
پیر کو جاری کیے گئے بیان میں طالبان نے کہا تھا کہ کابل میں واقع پلِ چرخی جیل میں طالبان قیدیوں کو بہت برے حالات میں رکھا ہوا ہے اور ان کی صحت بہت خراب ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر طالبان قیدیوں کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آئی سی آر سی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پلِ چرخی جیل میں سینکڑوں قیدی حالات کی بہتری کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس افغانستان میں گذشتہ 30 سالوں سے کام کر رہی ہے اور اور ملک بھر میں ایک ہزار افراد کام کر رہے ہیں۔
گذشتہ اکتوبر ریڈ کراس نے اپنے عملے کی سکیورٹی کے پیش نظر دو دفتر بند کیے اور تیسرے دفتر میں اپنی سرگرمیاں کم کر دی تھیں۔
ریڈ کراس نے یہ قدم صوبہ جوزجان میں عملے کے چھ افراد کی ہلاکت اور مزار شریف میں ایک سٹاف ممبر کی ہلاکت کے بعد اٹھایا۔
افغانستان میں سکیورٹی کے خراب حالات کے باعث کئی امدادی تنظیموں نے کام بند کر دیا ہے۔
طالبان کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت آیا ہے جب طالبان ملک میں کئی جگہوں پر حملے کر رہی ہے۔








