آئی سی آر سی کا افغانستان میں عملے میں کمی کا اعلان

،تصویر کا ذریعہSHAH MARAI
انٹرنیشنل کمیٹی برائے ریڈ کراس یا آئی سی آر سی نے اس برس عملے کے سات ارکان کی شدت پسند حملوں میں ہلاکت کے بعد افغانستان میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان میں ریڈ کراس کی سربراہ مونیکا زاناریلی کے مطابق کندوز اور میمنہ کے دفاتر بند کیے جا رہے ہیں جبکہ مزارِ شریف میں قائم مرکز میں سرگرمیاں محدود کی جا رہی ہیں۔
ملک میں ریڈ کراس کے عملے کے کئی ارکان کو اغوا بھی کیا گیا ہے۔
زاناریلی نے واضح کیا کہ آئی سی آر سی افغانستان چھوڑ کر نہیں جا رہی ہے تاہم اس کے عملے کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر اُسے اپنی سرگرمیاں محدود کرنا پڑ رہی ہیں۔
آئی سی آر سی کی پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ برس دسمبر سے شمالی افغانستان میں تنظیم کو تین مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
زاناریلی نے کہا ہے اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف افغانستان میں تنظیم کی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوئی ہیں بلکہ ان کا اثر عالمی سطح پر بھی مرتب ہوا ہے۔
آئی سی آر سی نے اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے عملے کی فلاح و بہبود کا منصوبہ زیرغور ہے۔
مونیکا نے کہا کہ تنظیم کے لیے یہ ایک مشکل گھڑی ہے: 'ملک میں تیس برس تک کام کرنے کے بعد ہم سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہیں۔ مگر میں یہ واضح کردوں کہ ہم افغانستان سے جا نہیں رہے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پریس ریلیز کے مطابق دسمبر دو ہزار سولہ میں آئی سی آر سی کے ایک رکن کو کندوز میں اغوا کر لیا گیا تھا جس کی رہائی چار ہفتے بعد عمل میں آئی تھی۔
اُس کے بعد صوبہ جوزجان میں تنظیم کے چھ ارکان کو بے دردی سے قتل اور ایک کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
عملے کے مغوی رکن کو سات ماہ کے بعد رہائی ملی۔
گزشتہ ماہ مزارِ شریف میں ایک معذور مریض نے اپنی فِزیوتھراپِسٹ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔







