سی این این کی نامہ نگار پر وائٹ ہاؤس کی پابندی کیوں؟

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک نامہ نگار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ’غیر مناسب‘ سوالات پوچھنے پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
کیٹلِن کولنز کا کہنا ہے کہ صدر پوتن اور صدر ٹرمپ کے سابق وکیل کے بارے میں ایک سوال پوچھنے کے بعد انھیں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اگلی تقریب میں نہیں بلایا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے کہا کہ نامہ نگار نے چِلا کر اپنے سوالے پوچھے تھے اور کہنے پر وہاں سے جانے سے انکار کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کئی بار سی این این کو ’فیک‘ یا نقلی نیوز کہہ کر نشانہ بنا چکے ہیں، اور اس کے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
کیٹلِن کولنز بدھ کو صدر ٹرمپ اور یورپی کمیشن کے صدر جاں کلاڈ ینکر کی ملاقات کے موقع پر موجود تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ سے روسی صدر پوتن کے ملتوی ہونے والے دورے اور صدر ٹرمپ اور ان کے سابق وکیل مائیکل کوہن کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو کے ٹیپ کے بارے میں سوال پوچھنے کی کوشش کی تھی۔
صدر نے مبینہ طور پر بار بار ان کے سوالات کو نظر انداز کیا۔ اور اس کے بعد ہی انھیں روز گارڈن میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا۔
کولنز نے سی این این کو بتایا کہ ’انھوں نے کہا کہ میرے سوال اس جگہ کے لیے غیر مناسب تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد سینڈرز نے کہا کہ ایک نامہ نگار نے، جن کا نام انہوں نے ظاہر نہیں کیا، چِلا چِلا کر سوال پوچھنے کے بعد جانے سے انکار کر دیا، اور ’اگلی تقریب کے لیے انھیں دعوت نہیں دی گئی‘ حالانکہ ان کے ادارے سے ان کے دیگر ساتھی تقریب میں موجود تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کولنز کو سوال پوچھتے سنا جا سکتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
سی این این نے اس پابندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے بدلے کا جذبہ ہے اور یہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ صحافت آزاد نہیں۔ وائٹ ہاؤس کی نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن نے اسے ’غلط اور کمزور‘ قرار دیا۔
سی این این کے روایتی حریف فوکس نیوز نے بھی اس پابندی پر تنقید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوکس نیوز کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پوری طرح سی این این کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
صدر ٹرمپ واضح طور پر فوکس نیوز کو فوقیت دیتے ہیں اور ان کے ساتھ کئی انٹرویوز کر چکے ہیں۔
صدر نے کئی دفعہ کئی بڑے نشریاتی اداروں پر کھلے عام تنقید کی ہے، جن میں سی این این اور نیو یارک ٹائمز شامل ہیں۔










