تارکین وطن سے متعلق نئے معاہدے پر یورپی سربراہان منقسم

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپی ممالک کے سربراہان بے ترتیب مائیگریشن کو روکنے کے لیے نئے معاہدے پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔
اس نئے معاہدے کے تحت تارکین وطن کے لیے محفوظ سینٹرز بنائے جانے ہیں۔
فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایسے مراکز نہیں بنائے گا کیونکہ فرانس وہ یورپی ملک نہیں ہے جہاں تارکین وطن پہلے پہنچے ہیں۔
اٹلی کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ سینٹرز یورپ میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کو لاگو کرنے میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اسے ’اہم اقدام‘ تو کہا لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اختلافات کو دور کرنے کے لیے مزید کچھ کرنا ہوگا۔
یہ معاہدہ انگیلا میرکل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انھیں ملک میں شدید سیاسی تنازع کا سامنا ہے جہاں ان کے اہم ساتھی وزیر داخلہ ہارسٹ سیہوفر نے متنبہ کیا ہے کہ وہ ان تارکین وطن کو واپس بھیج دیں گے جو پہلے سے کہیں اور بھی رجسٹر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر اٹلی نے بھی سپین اور یونان جو اپنی سرزمین پر رجسٹر ہونے والے تارکین وطن کو واپس لینے پر متفق ہیں سے اختلاف کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
محفوظ مراکز کہاں بنائے جائیں گے؟
ان مراکز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انھیں یورپی ممالک کی جانب سے رضاکارانہ طور پر بنایا جائے گا، لیکن تاحال ایسی تفصیلات نہیں ہیں کہ آیا کون سے ممالک ان کی میزبانی کریں گے یا انھیں پناہ دیں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ یہ مراکز ان ممالک میں ہوں گے جہاں یورپ میں تارکین وطن سب سے پہلے پہنچے، اور اسی لیے فرانس میں ایسے مراکز نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ان کی آمد کا پہلا ملک نہیں۔‘
تاہم اٹلی کے وزیراعظم نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’فرانس سمیت‘ تمام یورپی ممالک یہ مراکز بنائیں گے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن کے مطابق اب تک رواں سال میں یورپ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد تقریباً 56 ہزار ہے
یورپ کے کئی مرکزی ممالک اب تک اٹلی اور یونان کے پرہجوم کیمپوں میں سے 160000 پناہ گزینوں کو کہیں اور منتقل کرنے کی یورپی سکیم کو مسترد کر چکے ہیں۔









