ملائیشیا: مسجد کے باہر ناچنے پر سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد

،تصویر کا ذریعہSaba info
ملائیشیا میں سوشل میڈیا پر دو خواتین کی مسجد کی عمارت کے سامنے ناچنے والی ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد اس مسجد میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس ویڈیو میں دو خواتین کو گھٹنے سے اوپر لباس پہنے ہوئے اور کھلے پیٹ کے ساتھ ملائیشیا کے جزیرے بورنیو میں قائم کوٹا کنابالو مسجد کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام ان دونوں خواتین کی شناخت کے لیے کاروائیاں کر رہی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ دونوں غیر ملکی تھیں اور ان کا تعلق مشرق بعید کے ممالک سے ہے۔
فیس بک پر اس ویڈیو کو اب تک 270000 بار دیکھا جا چکا ہے۔
ملائیشیا کی ریاست صباح میں وزارت سیاحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'اس ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عبادت گزاروں کے تضحیک کی گئی اور مقامی مہمان داری کا مذاق اڑایا گیا ہے۔'
اتوار کو مسجد کے چئیرمین نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ کو سیاحوں کو مسجد کی عمارت تک لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مزید کہا کہ سیاحوں کو لانے والی کمپنیوں سے بھی گفتگو کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ پیش آئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملائیشیا میں غیر ملکیوں کو عام طور مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مذہبی مقامات اور مساجد جاتے ہوئے سادہ لباس پہنیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ملائیشیا کی صباح ریاست میں ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔
سال 2015 میں ایک ملائیشیائی افسر نے بورنیو میں آنے والے ایک زلزلے کا مورد الزام وہاں کے ایک مقدس پہاڑ پر برہنہ ہونے والے غیر ملکیوں کو ٹھیرایا تھا۔ واضح رہے کہ زلزلے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ملائیشیا کے علاوہ بھی دیگر ممالک میں بھی سیاح اکثر مقامی انتظامیہ کے زیر عتاب آتے رہے ہیں۔
جنوری 2018 میں پانچ برطانوی شہری سمیت دس غیر ملکیوں کو کمبوڈیا میں پورنوگرافی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا تھا جب ان کی وہ تصاویر سامنے آئیں جن میں ان سیاحوں کو ایک پارٹی میں فحش حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
نومبر 2017 میں تھائی لینڈ میں دو امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا جب انھوں نے وہاں کے ایک مندر پر اپنی نامناسب تصاویر لی تھیں جو کہ بعد میں انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی تھیں۔
مئی 2017 میں بلے بوائے میگزین کی ماڈل نے نیوزی لینڈ کے پہاڑ تراناکی پر اپنی برہنہ تصاویر جاری کی تھیں جن کے بعد ملک بھر میں غصے کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ وہ پہاڑ مقامی ماؤری برادری کے لیے مقدس قرار دیا جاتا ہے۔
اپریل 2014 میں سری لنکا نے ایک برطانوی عورت کو اس لیے ملک بدر کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے ہاتھ پر بدھا کی ٹیٹو کیا ہوا تھا۔ لیکن بعد میں ان خاتون کو ملک کی جانب سے پانچ ہزار ڈالر ادا کیے گئے اور سری لنکا کی سپریم کورٹ نے کہا کہ ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا تھا۔







