میلبرن کے سپر سٹور کی چھت پر برہنہ فوٹو شوٹ کی اجازت

کارپارکنگ کی چھت

،تصویر کا ذریعہSPENCER TUNICK

آسٹریلیا کی سپر مارکٹ چین ولورتھز نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے امریکی فنکار سپنسر ٹیونک کو میلبرن کے اپنے ایک سٹور کی کار پارکنگ کی چھت پر اجتماعی برہنہ تصویر کھینچنے کی اجازت دے دی ہے۔

اپریل میں ولورتھز نے پرہرن لوکیشن پر مسٹر ٹیونک کی برہنہ تصویر کھینچنے کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ سنیچر کے دن ایسا کرنا بہت زیادہ انتشار کا باعث ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد اس کے لیے ایک آن لائن پیٹیشن لانچ کی گئی۔

اب ولورتھز کا کہنا ہے کہ وہ کار پارکنگ کی چھت کو پیر کی صبح ایک گھنٹے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اختتام ہفتہ پر خریداروں کی بھیڑ ہوتی ہے۔

یہ فوٹو شوٹ آسٹریلوی صوبے وکٹوریہ کے دارالحکومت میلبرن میں ہونے والے چیپل سٹریٹ پرووکیئر آرٹس فیسٹیول کا حصہ ہے۔

اس فیصلے کے بعد فیسٹیونل کے ڈائریکٹر جان لوٹٹن نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا: 'ہم سب چاند پر ہیں'۔

یہ فوٹو شوٹ نو جولائی کو ہو گا اور اس کے لیے اب تک تقریباً 11 ہزار افراد نے برہنہ ہونے کے لیے خود کو رجسٹر کروایا ہے۔ اتنے زیادہ لوگ تو کار پارکنگ کی چھت پر بھی نہیں آ سکتے۔

سپنسر ٹیونک

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ تصویر سپنسر ٹیونک کے 2016 کے فوٹو شوٹ کے دوران بنائی گئی

جب اس فوٹو شوٹ کے لیے مسٹر ٹیونک نے درخواست دی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ اس میں تقریباً 500 افراد شامل ہوں گے۔

مسٹر لوٹن نے کہا کہ وہ اس میں شامل ہونے والے افراد سے سرکاری ٹرانسپورٹ کے استعمال کی گزارش کریں گے کیونکہ وہاں انھیں محدود پارکنگ دستیاب ہے۔

نیویارک کے رہائشی سپنسر ٹیونک اجتماعی برہنہ تصاویر کھینچنے کے لیے شہرت رکھتے ہیں اور بعض اوقات انھوں نے یہ تصاویر معروف سیاحتی مقامات پر بھی لی ہے۔

اس سے قبل انھوں نے چار ہزار رضاکاروں کی برہنہ تصاویر ایک دریا کے کنارے لی تھی۔ انھوں نے سڈنی اوپرا ہاؤس کے پاس سنہ 2010 میں بہت سے افراد کی برہنہ تصویر لی تھی۔

وہ اب تک 30 سے زیادہ ممالک میں 120 سے زیادہ اجتماعی برہنہ تصاویر لے چکے ہیں اور ان کی نظر میں یہ ایک فن ہے۔