ڈنمارک میں پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون منظور

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈنمارک کی پارلیمان نے ملک میں عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون منظور کر لیا ہے۔
اس سے قبل کئی یورپی یونین ممالک میں ایسی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں جس میں نقاب یا برقع پہننے والی مسلمان خواتین متاثر ہوئی ہیں۔
جمعرات کو ڈنمارک کی پارلیمان میں منظور ہونے والے اس قانون کے حق میں 75 اور اس کی مخالفت میں 30 ووٹ پڑے، جبکہ اس قانون کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا۔
اس پابندی کی خلاف ورزی پر 100 کرونر (£118; $157) جرمانہ ہوگا، جبکہ دوبارہ ایسا کرنے پر دس گنا زیادہ جرمانہ وصول کیا جائے گا۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نئے منظور ہونے والی قانون میں مسلمان خواتین کا بالخصوص ذکر نہیں ہے تاہم اس میں کہا گیا ہے کہ 'عوامی مقامات پر جو بھی ایسا لباس جو چہرہ چھپائے اس کو جرمانے کی سزا ہوگی۔'
اس قانون کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈنمارک کے وزیر انصاف سورن پیپ پولسن نے کہا کہ 'اقدار کے حوالے سے میں ایک مباحثہ دیکھ رہا کہ ہوں کہ ہمارا معاشرہ کیسا ہونا چاہیے جس میں ہماری جڑیں اور ثقافت ہوں کہ ہم اپنا چہرہ اور انکھیں نہیں چھپاتے، ہم ایک دوسرے کو ضرور دیکھ سکیں اور ہمیں ایک دوسرے کے چہرے کے تاثر کو ضرور دیکھنا چاہیے، یہ ڈنماک کی اقدار ہیں۔'
بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ڈنمارک کے اس قانون کو 'خواتین کے حقوق کے امتیازی خلاف ورزی' قرار دیا ہے۔
تاہم یورپیئن کورٹ آف ہیومن رائٹس نے گذشتہ برس بیلجیئم میں پورے چہرے کے نقاب پر پابندی قائم رکھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یورپ میں کہاں کہاں ایسی پابندی ہے؟
فرانس پہلا ملک تھا جس نے اپریل 2011 میں ملک میں عوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کی تھی، اس کے سات برس بعد اس نے سرکاری سکولوں میں واضح نظر آنے والی مذہبی علامات پر بھی پابندی کا قانون متعارف کروایا تھا۔
اس کے کچھ ماہ بعد بیلجیئم میں بھی ایسا ہی قانون منظور کیا گیا تھا جس کے مطابق عوامی مقامات پر ایسا لباس ممنوع تھا جس سے کسی شخص کی شناخت چھپ جائے۔
آسٹریا، بلغاریہ اور جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا میں بھی اسی سے ملتی چلتی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جبکہ ہالینڈ میں اسی قسم کا قانون سنہ 2016 سے ایوان بالا میں منظوری کا منتظر ہے۔










